محسن سپیڈ؟

       محسن سپیڈ؟
       محسن سپیڈ؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کے کام کی رفتار نے لاہوریوں کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ محسن سپیڈ نے پورے شہر میں دھول اڑائی ہوئی ہے، ہر سڑک اکھڑی پڑی ہے، ہر انڈر پاس چھیل دیا گیا ہے، لاہور کے داخلی خارجی راستے خندقوں کا نقشہ پیش کر رہے ہیں، خاص طور پر جس طرح ڈیفنس کے باسیوں کے راستے مسدود کئے ہیں اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں پی ٹی آئی کو ووٹ دینے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ایک طرف بدلتے موسم کی وجہ سے درجہ حرارت گرتے جا رہے ہیں تو دوسری جانب محسن نقوی کا ہر سڑک پر اپنے نام کی تختیاں لگانے کا شوق لاہوریوں کو لے ڈوبا ہے، ہر کوئی کھانس رہا ہے، ہر ایک کی ناک بہہ رہی ہے، ہر آنکھ میں جلن ہے کیونکہ ترقیاتی کاموں کے نام پر پورا شہر دھول چاٹ رہا ہے۔ 

موسم سرما کسی اعتبار سے بھی توڑ پھوڑ کے لئے سازگار نہیں ہوتا، ایک تو دن چھوٹے ہوتے ہیں اور دوسرا لاہور جیسے شہر میں سموگ کے ڈیرے ہوتے ہیں۔ خود ہمارا حال یہ ہے کہ گھر کی کھڑکیاں دروازے بند کر کے بیٹھے ہیں مگر اس کے باوجود گلے میں جلن ہو رہی ہے اور چاروناچار ایک نہیں دو دو ماسک پہن کر یہ کالم لکھنے پر مجبور ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے لاہوریوں کی طرح ہمیں بھی ڈسٹ الرجی ہے۔ کئی بیچارے تو کچھ ایسے پکڑے گئے ہیں کہ صبح و شام ڈاکٹروں کے چکر لگاتے پائے جا رہے ہیں۔ خود ڈاکٹروں کا حال یہ ہے کہ ڈسٹ الرجی کی ایک گولی مریض کو دیتے ہیں تو دوسری اپنے منہ میں ڈال لیتے ہیں کیونکہ خود ان کا گلہ بھی درد کر رہا ہوتا ہے۔ یہی حال رہا تو جلد ہی لاہوریئے سرائیکیوں کی بولی میں کہتے پائے جائیں گے کہ 'موسن تیکوں لہورئیے روسن'

چار جانب سڑکوں کی کھدائی سے سڑکوں پر جابجا ٹریفک جام دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، گھنٹوں سڑکوں پر گاڑیوں کا تیل پھونکنے سے تنخواہ دار طبقے کے دلوں پر جو بیتتی ہے، اس کا اندازہ نگران وزیر اعلیٰ کو کیونکر ہو سکتا ہے۔ سکول کالج کی چھٹی اور شام کو دفاتر کی بندش پر سڑکوں پر چھوٹی بڑی گاڑیوں کی جو دھینگا مشتی شروع ہوتی ہے، اس سے محفوظ رہ کر اگر کوئی گاڑی گھر پہنچتی ہے تو شکرانے کے نوافل پڑھے جاتے ہیں کیونکہ ٹریفک کے اژدہام کی وجہ سے اکثر گاڑیوں کے انڈیکیٹرز، بیک لائٹیں اور بمپر ٹوٹے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ فیروز پور روڈ پر صبح وشام موٹر سائیکل سوار سڑک پر لیٹے کراہ رہے ہوتے ہیں اور ریسکیو 1122 کے اہلکار ان کی پٹیاں کرتے، انہیں سٹریچروں پر ڈالے ایمبولینسوں میں شفٹ کرتے پائے جاتے ہیں۔ لاہور کی اکثر سڑکیں سگنل فری ہو چکی ہیں، اس لئے کہ ہر کوئی ساٹھ اسی کی سپیڈ سے گاڑی اور موٹر سائیکل دوڑاتا ہے اور جونہی کچھ انہونی ہوتی ہے۔ 

سڑکوں پر ہنگامی صورت حال یقینی ہو جاتی ہے، غضب تو یہ ہے کہ ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کے لئے کوئی ٹریفک وارڈن صبح اور شام کے اوقات میں رش والے ایریاز میں نظر نہیں آتا، ہر کوئی موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ بیچنے میں جتا ہوا ہے یا پھر ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گھات میں درختوں کے پیچھے چھپ کر کھڑا ہوتا ہے۔کوئی بھی ایسی سڑک جہاں توڑ پھوڑ ہو رہی ہو، کوئی ٹریفک وارڈن بھولے سے بھی ادھر کا رخ نہیں کرتا ہے۔ 

اس میں شک نہیں ہے کہ شہری سہولیات یقینی بنانے کے لئے محسن نقوی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہتے، جو ایک اعتبار سے لائق تحسین ہے لیکن بے وقت کی راگنی کون سنتا ہے۔ اگر سڑکیں چوڑی کرتے کرتے پنجاب حکومت نے آدھے شہر کو بیمار کردیا تو یہی کارکردگی، ان کی نا اہلی سے تعبیر کی جائے گی۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ محسن نقوی اپنے دائرہ کار کو اس قدر نہ پھیلاتے کہ بعد میں سمیٹنا مشکل ہو جائے۔ لوگ اگر نواب آف کالا باغ کو بھول گئے تو محسن نقوی کی کارکردگی کو کیونکر یاد رکھیں گے۔ شہباز شریف کو ہی لے لیجئے۔ پچھلے سولہ ماہ کی مہنگائی جس طرح ان کے گلے پڑ گئی ہے کہ اسے اب پوری نون لیگ کو بجانا پڑ رہا ہے۔ آج لوگ شہبازسپیڈ اور پنجاب سپیڈ کو بھول کر مظلوم عمران خان کے لئے تڑپتے ہوئے جاتے ہیں۔ محسن نقوی کو ان سے ہی کچھ سیکھنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ محسن نقوی کو لاہوریوں نے کسی قسم کا خراج تحسین پیش نہیں کیا اور شاہدرہ فلائی اوور بنانے پر صوبائی حکومت کو ہی”محسن سپیڈ“کے بینر اور سٹیمر مال روڈ پر لٹکاتے پائے گئے ہیں۔ 

محسن نقوی کو سمجھنا چاہیئے کہ لاہوریوں نے ان کی جانب سے دو دن مارکیٹیں بند کرنے کا حکم ہوا میں اڑادیا تھا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ محسن نقوی ہائپر ایکٹو شخصیت کے مالک ہیں اور وہ کسی کی نہیں سنتے، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ جب انہوں نے تین دن کے لئے سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان کیاتو اس سے پہلے انہیں مشورہ دیا گیا کہ مغربی ہواؤں کا سسٹم ملک میں داخل ہونے والا ہے جس سے فضا صاف ہو جائے گی اس لئے لاک ڈاؤن کا اعلان نہ کریں مگر وہ نہ مانے اور نہ صرف سمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا بلکہ بھارتی پنجاب کی حکومت کو ایک عدد خط بھی لکھ مارا کہ اپنا دھواں اپنے پاس رکھیں، ان کے ایسے مزاج کو دیکھتے ہوئے ان کے بعض بہی خواہوں کا کہنا ہے کہ انہیں چینی کم استعمال کرنی چاہیئے تاکہ ان کی ہائپر ایکٹویٹی ذرا کم ہوسکے اور وہ من مرضی کرنے کی بجائے کچھ صائب مشوروں کو بھی سنیں۔ 

ہم اہالیان لاہور کی جانب سے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سے گزارش کریں گے کہ لاہور شہر میں دھول اڑانا بند کریں اور اپنی اصل ذمہ داری پوری کرتے ہوئے صاف شفاف اور بروقت انتخابات کی راہ ہموار کریں۔

مزید :

رائے -کالم -