غزہ کے چھ ہزار شہید بچوں کا ڈیڑھ ارب مسلمانوں سے سوال؟

            غزہ کے چھ ہزار شہید بچوں کا ڈیڑھ ارب مسلمانوں سے سوال؟
            غزہ کے چھ ہزار شہید بچوں کا ڈیڑھ ارب مسلمانوں سے سوال؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اُمت مسلمہ کی بے حسی پر دنیا بھر میں تاثر بن رہا ہے،57سے زائد ممالک کے ڈیڑھ ارب مسلمان اِس وقت غلام ہیں اور صرف غزہ آزاد ہے طاغوتی قوتوں نے مسلمانوں کو اس انداز میں جکڑ رکھا ہے کوئی معیشت بچانے، کوئی قرضوں کی عدم ادائیگی اور باقی ملکی مفادات کو جواز بنا کر ایسی ہی قراردادیں منظور کر رہے ہیں جیسی دنیا کی اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان کے سینٹ میں سینیٹر عرفان صدیقی نے پیش کی، ملک بھر کا سنجیدہ حلقہ سینٹ کی قرارداد کے خوبصورت اور بے بسی اور غلامی کے عکاس الفاظ کا رونا رو رہا تھا کہ مسلمان ممالک کی نمائندہ او آئی سی کے اجلاس میں پیش ہونے والی قرارداد نے رہی سہی کسر پوری کر دی اِس وقت جب سعودی عرب اور چند دیگر اسلامی ممالک کو چین نے حوصلہ دیا ہے۔ اسرائیلی جارحیت رکوانے اور فلسطین میں انسانی امداد کی بحالی اور عارضی جنگ بندی کا اشارہ ملا ہے یہ بھی اس وقت ہو رہا ہے جب اقوام متحدہ سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک کو امن خطرے میں پڑتا نظر آنے لگا ہے۔اسرائیل کی درندگی سے16ہزار شہادتوں میں چھ ہزار بچوں اور چارہزار خواتین کی شہادتوں کے بعد دنیا بھر سے جہاد فی سبیل اللہ کے اٹھنے والے نعروں نے دنیا بھر میں بسنے والے مسلم نوجوانوں کے جذبہ ئ جہاد کو اُجاگر کرنا شروع کر دیا ہے۔تازہ ترین اسرائیلی افواج کی طرف سے انڈونیشین ہسپتال اور غزہ کے دیگر بڑے ہسپتالوں کو بمباری کے ذریعے جس انداز میں نشانہ بنایا گیاہے جنگ سے پہلے کی غزہ کی رونقیں اور اب ملبے کے ڈھیر اور لاشوں کے انبار اُمت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں؟

غزہ میں ایک بچہ اپنے تباہ ہونے والے گھر کے ملبے پر کھڑا تھا اُس کو ایک فلسطینی نے حوصلہ دینے کی کوشش کی تو بچہ بول اُٹھا اور فرمانے لگا میں گھر تباہ ہونے اور والدین کے شہید ہونے پر پریشان نہیں ہوں،بلکہ اِس بات پر غمزدہ ہوں کہ دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان اور57اسلامی ممالک کے مسلمان قیامت کے دن غزہ کے 6000 شہید بچوں کو کیا جواب دیں گے ہم ان کی مدد کو کیوں نہیں آئے؟اسی طرح کا ایک واقعہ غزہ میں ایک ننھی بچی سے ایک صحافی نے سوال کیا آپ بڑے ہو کر کیا بنو گی اُس کا جواب بھی ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے اُس بچی نے فرمایا ہمیں بڑا ہونے نے ہی نہیں دیا جاتا۔افسوسناک پہلو جو اِس وقت پاکستان میں بالعموم اور دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں رہنے والوں کو بالخصوص جس بات کا دُکھ ہے حکمرانوں کی غلامی کا رونا رویا جائے یا میڈیا کی بے بسی پر آنسو بہائے جائیں،پاکستان میں پی ڈی ایم کی جماعتیں الیکشن الیکشن کھیل رہی ہیں۔ایک سراج الحق اور اس کی جماعت ہے جس نے غزہ کے بچوں اور بچیوں کا درد محسوس کیا ہے اور دُکھ بانٹنے میں مصروف ہیں۔سراج الحق کی الخدمت فاؤنڈیشن کو سلام جس نے اربوں روپے کی امداد اپنے غزہ اور فلسطین کے بھائیوں کو پہنچا کر اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ کراچی، لاہور میں  تاریخ ساز غزہ مارچ اور اسلام آباد میں تاریخ ساز بچوں کا مارچ کر کے پاکستان سمیت دنیا بھر میں رائے عامہ بنا دی ہے۔ مجبور میڈیا کو بھی خیال آنا شروع ہو گیا ہے البتہ سوشل میڈیا بھرپور حق ادا کر رہا ہے۔اس میں اہم کردار غزہ میں شہید ہونے والے بچے، بچیوں، خواتین اور بچ جانے والے نوجوانوں کا ہے جو سوشل میڈیا پر حقائق لا رہے ہیں۔ پاکستان سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن قطر اور ترکی کا دورہ کر چکے ہیں۔ امیر جماعت اسلامی سے تو اس حوالے سے بات نہیں ہوئی البتہ جماعت اسلامی کے شعبہ امور خارجہ کے سربراہ قاضی حسین احمد کے جانشین محترم آصف لقمان قاضی کے ساتھ نشست کا اہتمام محترم پروفیسر ایوب منیر صاحب کی خصوصی شفقت کی وجہ سے ممکن ہو گیا ورنہ جماعت کے احباب اہم ترین امور جن کو دنیا بھر میں پھیلانا چاہئے ان کو منصورہ کے کارکنان تک رکھنے اور نشستاً برخواستاً تک محدود رکھنے کی قصر نہیں چھوڑتے۔آصف قاضی لقمان ہمارے ساتھ جمعیت میں ر ہے ہیں ان سے خوبصورت یادیں وابستہ ہیں انہوں نے غزہ اور فلسطین کے حوالے سے جو حقائق بتائے راقم کو خود پہلی دفعہ علم ہوا۔ مغربی میڈیا جو باتیں بڑی یکسوئی سے پھیلا رہا ہے جس کا اثر ہمارے اہل ِ پاکستان کچھ زیادہ ہی لے رہے ہیں۔پہلی بات  جو بڑے بڑے سنجیدہ لوگوں سے سننے کو ملی حماس نے پنگا کیوں لیا؟اگر وہ اس جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے ان کے لئے عرض ہے غزہ گزشتہ 16سال سے گھیرے میں تھا یہودی لابی نے 24لاکھ آبادی والے غزہ شہر اور ملحقہ آبادیوں کا محاصرہ کر رکھا تھا،بچوں کی  سکولنگ بند تھی ان کی مرضی کے بغیر ہسپتال اور بازار نہیں جا سکتے۔

اب اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کے ساتھ دیگر آبادیوں پر جارحیت بڑھاتے ہوئے اقصیٰ کے کمپاؤنڈ کی تقسیم کا مطالبہ کر دیا تھا اپنی دیوار گریہ کا دائرہ قبلہ اول تک بڑھانے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ 16سال میں فلسطین کے مسلمانوں کو بالعموم اور غزہ کے مسلمانوں کو بالخصوص اس انداز میں نفسیاتی مریض بنایا جا رہا تھا ان کی نئی نسل کی نشوونما بُری طرح متاثر ہونا شروع ہو گئی تھی،یہودیوں نے غزہ کے اردگرد گیارہ فوجی چھاؤنیاں قائم کر رکھی تھیں جو16سال بعد غزہ میں بسنے والوں کے لئے ہر روز موت کا باعث بن رہی تھی۔حماس نے جذباتی فیصلہ نہیں کیا،جذبہ شہادت سے سرشار 1200 نوجوانوں نے گیارہ فوجی چھاؤنیوں کو نشانہ بنا کر حصار توڑا،اربوں ڈالر کے تیار کردہ راکٹ کے مقابلے میں ڈیڑھ سو ڈالر کے تیارہ راکٹ سے ان کے ٹینک تباہ و برباد کر دیئے ہیں۔ قاضی آصف لقمان نے بتایا ایران، ترکی اور قطر میں اسلامی ممالک کے ذمہ داران سے طویل نشستیں ہوئی ہیں۔ ایران کا کردار اہم ہے باقی اسلامی ممالک کی مجبوریاں بھی آڑے آ رہی ہیں۔حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ نے اُمید دلائی ہے اور کہا ہے قبلہ اول کی آزادی کی جنگ جذباتی فیصلہ نہیں ہے طویل منصوبہ بندی ہے ہم نے جو اہداف طے کیے تھے وہ حاصل کر رہے ہیں،عارضی جنگ بندی ہو سکتی ہے؟ حماس اسے فیصلہ کن بنانے کے لئے لائحہ عمل ترتیب دے چکی ہے ہمیں یقین ہے ہمارے بچوں،خواتین اور نوجوانوں کی شہادتیں رنگ لائیں گی۔ حماس کے سربراہ کا کہنا ہے اسرائیل ناقابلِ تسخیر کا بھانڈا بھرے بازار میں حماس کے نوجوانوں کے جذبہ شہادت نے پھوڑا ہے برصغیر میں 75کروڑ مسلمان اور دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب مسلمان ہمارے لئے کچھ نہیں کر سکتے نہ کریں اللہ کی بارگاہ میں ہمارے لئے دُعا کر سکتے ہیں وہ کریں۔ رائے عامہ ہموار کر سکتے ہیں اس کے لئے یکجہتی کا اظہار کریں، جلوس نکالیں،مظاہرے کریں،مارچ کریں،فنڈ ریزنگ کریں، ہمارے لئے یہی کافی ہے۔ امریکہ، یورپ، لندن دیگر ممالک اسرائیل میں ہزاروں بچوں کی ہلاکت،اجتماعی قبروں کے  المناک منظر کا ردعمل لاکھوں کی تعداد میں غیر مسلموں اور مسلموں نے جلوس نکال کر کیا ہے یہ عمل جاری رہنا چاہئے اللہ کی مدد آ رہی ہے آتی رہے گی۔ قبلہ اول آزاد ہو گا انشاء اللہ۔

٭٭٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -