سپریم کورٹ نے اوگرا کوہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے روکدیا

سپریم کورٹ نے اوگرا کوہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے روکدیا
سپریم کورٹ نے اوگرا کوہر ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے روکدیا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے ہرہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے روکتے ہوئے اوگرا سے قیمتوں میں اضافے پر رپورٹ طلب کرلی ۔ عدالت نے کہاکہ سارے اعدادوشمار جعلی ہیں ، سی این جی کی قیمتیں پٹرول سے منسلک کرنے پر جلد حکم نامہ جاری کریں گے ۔ چیف جسٹس نے چیئرمین اوگرا کو خبردار کرتے ہوئے کہاکہ قانون کی خلاف ورزی نہ کریں ۔ چیف جسٹس اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کیخلاف دائردرخواستوں کی سماعت کی۔ عدالت نے ہفتہ وار اضافے پر عدالت نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ سارے مل کر عوام کو کیوں لوٹ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس نے کہاکہ اوگراآنکھیں بند کرکے ہرہفتے قیمتیں بڑھانے کی تجویز قبول نہیں کرسکتا،یہ نہیں پوچھتے کہ قیمتیں کیوں بڑھائیں ؟ عدالت نے چیئرمین اوگرا سے استفسار کیاکہ آپ حکم نامے پر عمل کرتے ہیں ؟آپ ریگولیٹر ہیں ، آپ نے اپنی طاقت استعمال کرنی ہے ۔جسٹس جوادنے کہاکہ اوگرا کا مقصد ہی قیمتوں میں بریک لگاناہے ،اگر ایساہی کرناہے تو اوگرا بندکردیں ۔عدالت نے کہاکہ اوگراصارفین کانہیں ، لائسنس ہولڈرزکے مفادات کا تحفظ کررہاہے ، اوگراکی وجہ سے خزانے کو83ارب کا نقصان ہوچکاہے ۔سیکرٹری پٹرولیم نے بتایاکہ پٹرولیم پالیسی کے تحت تیل کی قیمتیں ڈالر سے منسلک ہیں جس پر عدالت نے کہاکہ تیل کی قیمتوں کی تو سمجھ آتی ہے ، مقامی پیداوار یعنی گیس وغیرہ ڈالر سے کیسے منسلک کی جاسکتی ہے ،آئین کے آرٹیکل 3کے تحت کسی کا استحصال منع ہے ،کیا گنے یا کپاس کی قیمت بھی ڈالر کے مطابق ہے ؟عدالت نے کہاکہ سی این جی مقامی پروڈکٹ ہے ، لوگوں کو اس کی سہولت دی جائے،جن اضلاع سے پٹرول اور گیس نکلتاہے ، اُنہیں کیادیاجاتاہے ،سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں ترقیاتی کام ہوتے توآج حالات مختلف ہوتے ۔چیف جسٹس نے چیئرمین اوگرا سے کہاکہ حکومت قیمتیں بڑھانے کاکہے تو آپ کو اختلافی نوٹ لکھناچاہیے ،نوکری بچانی ہے تو بات مختلف ہے ،اللہ سے ڈرناہے تو یوں نہ کریں جیسے کررہے ہیں ۔ہر ہفتے ٹیرف کس قانون کے تحت مقررکیاجاتاہے؟ جس کا چیئرمین اوگراجواب نہ دے سکے اور کہاکہ اوگرا نے قیمتوں کے ہفتہ وارتعین کی مخالفت کی تھی ،سیکشن سات کے تحت اوگرا سال میں دو بارقیمتوںکا تعین کرسکتاہے ۔چیف جسٹس نے اُنہیں ہدایت کی کہ آپ قیمتوں کے تعین کا ہفتہ وار نوٹیفکیشن جاری نہ کریں، ہرہفتے اضافے سے لی گئی رقم عوام کو واپس کریں ۔سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ موجودہ حکومت ماضی کی حکومتوں سے زیادہ غریبوں کا خیال رکھتی ہے جس پر کمرہ عدالت میں موجود لوگ مسکرادیے اور عدالت نے کہاکہ اسی لیے ہر ہفتے گیس کی قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں ۔جسٹس جواد نے کہاکہ اوگرا کے اختیارات وضع کردیے گئے ، لگ رہاہے کہ یہ اتھارٹی خود مختار نہیں ، خود کو حکومت کے ماتحت سمجھتی ہے ،ہم سمجھ رہے ہیں کہ اوگرا منت سماجت کررہی ہے ،سرکار اوگرا کے بغیر کچھ نہیں کرسکتی۔پندرہ اگست سے اب تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر رپورٹ طلب کرلی گئی۔چیئرمین اوگرا نے کہاکہ سی این جی سیکٹر کو آٹھ سے نوفیصد گیس دی جارہی ہے جس پر سیکرٹری پٹرولیم نے کہاکہ چیئرمین اوگرا کے پاس معلومات ٹھیک نہیں ۔ جسٹس جواد نے کہاکہ سارے اعدادوشمار جعلی ہیں ، اِن کی کوئی بنیاد نہیں ۔چیف جسٹس نے کہاکہ سی این جی کی قیمتیں پٹرول سے منسلک کرنے پر جلد حکم نامہ جاری کریں گے ۔عدالت نے چیئرمین اوگرا سے کہاکہ آپ نے قانون کی خلاف ورزی کی تو اپنے لیے مشکلات کو دعوت دیں گے ،نیپرا والے نیب کے سامنے کیس بھگت رہے ہیں ۔

مزید : اسلام آباد