کن خواتین کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کا زیادہ امکان ہو تا ہے؟جدید تحقیق میں انتہائی دلچسپ حقیقت سامنے آ گئی

کن خواتین کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کا زیادہ امکان ہو تا ہے؟جدید تحقیق میں ...
کن خواتین کے ہاں جڑواں بچوں کی پیدائش کا زیادہ امکان ہو تا ہے؟جدید تحقیق میں انتہائی دلچسپ حقیقت سامنے آ گئی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) صحت پر موٹاپے کے کئی منفی اثرات سے ہم آگاہ ہیں لیکن اب سائنسدانوں نے اس کا ایک ایسا نقصان بتا دیا ہے کہ نوجوان لڑکیاں موٹاپے سے تائب ہو کر اپنی صحت کا خیال رکھنے لگیں گی۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق حالیہ سالوں میں برطانیہ میں جڑواں بچے پیدا ہونے کی شرح میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ملٹی پل برتھس ایسوسی ایشن کے ماہرین نے اپنی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اس کی وجہ لڑکیوں کا کم عمری میں ہی موٹاپے کا شکار ہونا ہے۔ اس وقت زیادہ تر 25سے 29سال کی لڑکیوں کے ہاں ایک ہی وقت میں دو یا اس سے زائد بچے پیدا ہو رہے ہیں جس کی وجہ ان کا کم عمری میں موٹاپے کا شکار ہونا ہے۔ ماضی میں جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح 45سال سے زائد عمر کی، آئی وی ایف کے ذریعے بچہ پیدا کرنے والی خواتین میں زیادہ تھی۔

مزید جانئے :خاتون کو ریپ کرنے کے بعد اس کے اعضاءکے ساتھ ایسی حرکت کہ آپ کے بھی ہوش اُڑجائیں گے

ایسوسی ایشن کے اعدادوشمار کے مطابق 2015ءمیں برطانیہ میں 10ہزار 901خواتین نے جڑواں بچوں کو جنم دیا جبکہ 169خواتین نے ایک ساتھ تین اور تین خواتین نے ایک ساتھ چار بچوں کو جنم دیا۔ جڑواں بچوں کی پیدائش کی یہ شرح 16.1فیصد ہے جبکہ 2014ءمیں یہ شرح 16فیصد تھی۔ اب 2016ءمیں اس میں مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ٹامبا کی چیف ایگزیکٹو کیتھ ریڈ کا کہنا ہے کہ ”ہم سمجھتے ہیں کہ جڑواں بچوں کی پیدائش کی شرح میں اضافہ افزائش نسل کے نت نئے طریقوں کے باعث ہو رہا ہے لیکن اس کی اصل وجہ موٹاپے کا شکار ماﺅں کی بڑھتی تعداد ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ موٹاپے اور جڑواں بچوں کی پیدائش میں تعلق معلوم کیا جا سکے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -