’یہ زیادتی ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے‘ہزاروں مسلمان عیسائی مذہب کے دل میں جمع ہو گئے،اللہ اکبر کی صدائیں بلند

’یہ زیادتی ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے‘ہزاروں مسلمان عیسائی مذہب کے دل میں ...
’یہ زیادتی ہم کسی صورت نہیں ہونے دیں گے‘ہزاروں مسلمان عیسائی مذہب کے دل میں جمع ہو گئے،اللہ اکبر کی صدائیں بلند

  

روم(مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے کینہ پروری نے مغربی ممالک کی سوچ کو اس قدر گمراہ کر دیا ہے کہ وہ مساجد کو شدت پسندی کی تعلیم کی جگہیں خیال کرنے لگے ہیں۔ اٹلی میں گزشتہ دنوں مساجد کو بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے اور کہا گیا کہ حکومت غیررجسٹرڈ مساجد کو بند کرنے جا رہی ہے تاکہ شدت پسندی کو فروغ پانے سے روکا جا سکے۔ اٹلی کی حکومت کے اس اقدام پر ہزاروں مسلمانوں سڑکوں پر نکل آئے اور روم کے قدیم تھیٹر کے سامنے احتجاج کیا اور وہاں باجماعت نماز ادا کی۔ اس مظاہرے میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ”امن“ ”پیار“ اور ”مساجد کھول دو“ جیسے الفاظ اور نعرے درج تھے۔ 

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس مظاہرے کا اہتمام بنگلہ دیشی گروپ ڈھومکاٹو نے کیا تھا۔ گروپ کا کہنا ہے کہ حکومت نے چھوٹی اور رسمی مساجد کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے جو سراسر غلط اقدام ہے۔ اگست میں اٹلی کے وزیرداخلہ انجیلینو الفانو نے کہا تھا کہ”ملک میں موجود چھوٹی مساجد کو بند کر دیا جائے گا کیونکہ ان کی نگرانی کرنا مشکل ہوتا ہے اور ان کے ذریعے انتہاءپسندی کے فروغ پانے کا خدشہ ہے۔“ ایک اندازے کے مطابق اٹلی میں 16 لاکھ مسلمان رہتے ہیں جن میں سے اکثر پرائیوٹ عمارتوں کو سرکاری اجازت کے بغیر مسجد کا درجہ دیا ہے۔ یورپ میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد اٹلی کی حکومت نے ایسی تمام غیر رجسٹرڈ مساجد کو بند کرا دیا ہے۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -