سیکولر بھارت میں مذہب کے نام پر ووٹ

سیکولر بھارت میں مذہب کے نام پر ووٹ
 سیکولر بھارت میں مذہب کے نام پر ووٹ

  

چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی سربراہی میں بھارتی سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ نے ہندوازم کو سیاست میں استعمال کرنے کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ بھارت ایک سیکولر مُلک ہے جہاں مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ عدالت نے کہا کہ یہ کہنا کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ دیکھ لے گی، پارلیمنٹ نے پچھلے20 سال میں کچھ نہیں کیا۔

بھارتی سیاست کی چند پارٹیوں نے بھی اس کا انکشاف کیا ہے کہ مُلک میں گزشتہ انتخابی مہم کے دوران ووٹروں کے مذہبی جذبات کو ہوا دے کر مُلک بھر میں مذہبی منافرت پھیلائی گئی۔ مُلک بھر بالخصوص بہار، یوپی اور مغربی بنگال میں عقیدے کی بنیاد پر اور اقلیتوں کے خلاف نفرت پھیلاکر ووٹ مانگے گئے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس نے منظم منصوبے کے تحت بہار اور اتر پردیش میں عوام کو مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کیا۔آسام میں بھی یہی حرکت کی گئی۔اقلیتوں کے خلاف ان جماعتوں کی نفرت انگیز مہم کے نتیجے میں ہی وہاں مسلم کش فسادات ہوئے اور کم از کم 30 بے گناہ شہری ہلاک ہو گئے۔ مغربی بنگال کی فضا میں بھی مذہبی منافرت کا زہر پھیل چکا ہے۔

1ارب 30 کروڑ کے قریب انسانوں کے ملک، یعنی بھارت کا دعویٰ ہے کہ اس کو دُنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاست کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ 1947ء میں برطانوی استعمارسے آزادی کے بعد اس وقت کی کانگریسی قیادت نے زمانے کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا ،چونکہ بھارت ایک کثیر النسلی و کثیر القومی انسانی آبادی پر مشتمل ایک وسیع و عریض خطہ ہے، لہٰذا مُلک کے سارے شہریوں کو قانون کے مطابق برابر کے حقوق دینے اور نسلی، لسانی و مذہبی تعصبات سے بالاتر ہو کر سارے لوگوں کو یکساں شہری کا درجہ دینے کے لئے لازم ہے کہ مُلک کے سیاسی نظام کو وفاقی طرز پر ،جبکہ آئینی نظام کو سیکولر اصولوں پر استوار کیا جائے۔

اور پھر بھارتی حکمرانوں نے اپنے آئین کو سیکولر ڈکلیئر کردیا۔ بھارتی سیاسی نظام میں کانگریس ایک بہت ہی طاقتور سیاسی قوت کے طور پر خود کو منوانے میں کامیاب رہی، لیکن حالیہ چند برسوں میں کانگریس اپنی انتہائی خراب کارکردگی کی وجہ سے 2014ء کے پارلیمانی انتخاب میں اْسے بْری طرح شکست سے دوچار ہونا پڑا، جس کے بعد سخت گیر بنیاد پرست، رجعت پسند مذہبی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کرلی، جبکہ ان کے ساتھ کئی دوسرے سخت گیر ہندو مت کے احیاء کی حامی سیاسی جماعتیں بھی حکومت میں شامل ہیں۔

جب سے بھارت میں بی جے پی کی حکومت برسرِ اقتدار آئی ہے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تاریخ اور نصابی کتابوں سے لبرل اور جدیدیت پر مبنی خیالات کونکال کر ایک ہندو نظریاتی نصاب مسلط کرنے کے منصوبے پر گامزن ہے۔ہندو برہمنی نظریات کے دوبارہ احیاء اور بھارتی معاشرے کو ہندو مت میں تبدیل کرنے کی غرض سے نریندر مودی سرکار نے ’’گھر واپسی‘‘ کے نام سے تحریک شروع کر رکھی ہے۔ اس تحریک کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ چونکہ ہندو مت ہندوستان میں جنم لینے والا مذہب ہے، جبکہ دیگر مذاہب مثلاً اسلام، عیسائیت وغیرہ بعد میں علاقے پر وارد ہوئے، لہٰذا اب دیگر مذاہب بالخصوص اسلام کے پیروکاروں کو اب گھر واپس آنا یعنی ہندو مذہب اختیار کرنا ہوگا۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا مکمل طور پر جمہوریت کی جانب گامزن ہے، بھارت معروضی حقائق سے فرار ہو کر دوبارہ پتھر کے دور کی جانب گامزن ہے۔ اگر بھارتی حکومت اپنے سیاسی نظام سے سیکولر ازم کو نکالنا چاہتی ہے تو پھر اس کا مطلب یقیناًجمہوری طرزِ حکمرانی اور انسانی آزادیوں سے فرار کا راستہ اختیار کرنا ہے جو بھارت جیسے کثیر النسلی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

ایک طرف بھارت کے حکمران عدم روا داری کے فروغ میں پیش پیش ہیں تو دوسری جانب بھارت کی سول سوسائٹی بھارتی حکومت کی رجعت پسندی کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ بی جے پی حکومت کی انتہا پسند روش کے خلاف بھارت کے 200 سے زائد سرکردہ فلم سازوں، قلم کاروں، ادیبوں، سائنسدانوں، مورخین اور فلم سازوں نے اپنے ایوارڈز حکومت کو واپس کرکے حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ بھارت کے دانشور حکومت کے گمراہ کن اقدامات کے خلاف جو احتجاج کر رہے ہیں اس سے امید بنتی ہے کہ شاید بھارتی معاشرہ موجودہ حکومت کے اقدامات کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ بی جے پی اور کانگریس ایک دوسرے کی مخالف ہیں اس کے باوجود دونوں ہی مختلف مذہبی گروپوں کے درمیان فاصلوں کو بڑھانے میں ملوث ہیں۔ مُلک کو مذہبی منافرت کے اندھیروں میں دھکیلنے کی اس سازش کو ناکام بنانا بہت ضروری ہے، کیونکہ یہ ایک ناسور ہے جو نہ صرف سیاست،بلکہ مُلک کے تشخص اور اس کی وحدت کے لئے بھی انتہائی خطرناک ہے۔

مزید :

کالم -