لاک ڈاؤن کا اخلاقی جواز

لاک ڈاؤن کا اخلاقی جواز
 لاک ڈاؤن کا اخلاقی جواز

  

دو نومبر کو عمران خان نے اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں، بشمول اپوزیشن کی تمام پارٹیوں کی طرف سے اس لاک ڈاؤن کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ یکم نومبر کو پاناما کیس کی سماعت کرنے جا رہی ہے اور تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان خود کریں گے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو عمران خان سیاسی اور اخلاقی دونوں لحاظ سے غلطی کر رہے ہیں۔ اخلاقی غلطی اس لئے کہ یکم نومبر کو معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہو گا۔سپریم کورٹ نے وزیراعظم میاں نواز شریف،وزیر خزانہ اسحاق ڈار،وزیراعظم کے بچوں مریم نواز شریف، حسن اور حسین نواز شریف، داماد کیپٹن صفدر، سیکرٹری داخلہ، چیئرمین نیب، وزارت قانون، وزارت داخلہ، ایف بی آر اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردئیے ہیں۔ سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت، سیکرٹری داخلہ، پیمرا، نیب، الیکشن کمیشن، ایف بی آر،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اور وزارت پارلیمانی امور کو بھی ہدایت جاری کر دی ہے کہ وہ تیس اکتوبر تک اپنا اپنا جواب جمع کروا دیں۔ اس کھڑاک کو اٹھانے والے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی نوٹس دیا گیا ہے۔ گویا پاناما کا معاملہ اب پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں ترجیحی بنیادوں پر اور فیصلہ کن مراحل میں چلا گیا ہے۔ اس صورت حال میں اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کا کیا اخلاقی جواز باقی رہ جاتا ہے؟

اگر ملک کے مسئلے پارلیمان اور عدالتوں میں حل کرنے کی بجائے سٹریٹ پاور سے بلڈوز کرنے کی روایت پڑ گئی تو آئندہ میاں نواز شریف اور عمران خان سمیت کوئی شخص بھی عوامی مینڈیٹ ہونے کے باوجود ملک چلانے کے قابل نہیں رہے گا۔ دنیا کے کسی ملک میں اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہونے کے باوجود سٹریٹ پاور اور ممکنہ طور پر گن پاور کا مظاہرہ کیا جائے، اگر عمران خان نے اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو ان کی بین الاقوامی ساکھ شدید طور پر مجروح ہو گی، کیونکہ جمہوری ممالک میں یہ بات بہر طور ناقابل قبول ہو گی کہ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران انارکی پھیلائی جائے۔اگر شہروں کو بند کرکے لاک ڈاؤن کرنے کی روایت پڑ گئی تو اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام وغیرہ کے لئے پشاور کو لاک ڈاؤن کرنا کیا مشکل ہو گا۔ صرف چوبیس گھنٹے کے نوٹس پر یہ پارٹیاں عمران خان کی صوبائی حکومت کے خلاف پشاور بند کر سکتی ہیں، اس لئے میری دانست میں یہ روایت شروع کرنا پاکستان کے لئے سخت نقصان دہ ہو گا۔ اگر مسائل کا حل سٹریٹ پاور یا گن پوائنٹ پر ہی ہونا ہے تو پارلیمنٹ اور عدالتوں کو تالہ لگا کر سڑکوں پر ہی فیصلے کر لئے جائیں۔ عمران خان کی سولو فلائٹ کا خود انہیں سیاسی طور پر بہت نقصان پہنچ رہا ہے اور وہ سیاسی طور پر تمام جماعتوں سے کٹ چکے ہیں۔ ایک بھی سیاسی پارٹی ان کے ساتھ چلنے کے لئے تیار نہیں ہے، حتیٰ کہ ایجی ٹیشن میں گذشتہ دو تین سال سے ان کے رفیق ڈاکٹر طاہر القادری بھی چکمہ دے کر جا چکے ہیں۔ جہاں تک شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ کا تعلق ہے تو یہ محض نام کی سیاسی پارٹی ہے، حقیقت میں تو یہ ون مین شو ہی ہے۔

ماضی میں پاکستان کی بعض پارٹیوں پر تانگہ پارٹی کی پھبتی کسے جانے کی روایت موجود ہے۔ عوامی مسلم لیگ کو تانگہ پارٹی کہنا بھی غلط ہو گا، کیونکہ تانگے میں تو پھر چھ سات لوگ بیٹھ جاتے ہیں، شیخ رشید کی پارٹی کو سکوٹر پارٹی کہنا زیادہ مناسب ہو گا جس پر محض ایک یا دو سوار ہی بیٹھتے ہیں۔ بہر حال، عمران خان کی سولو فلائٹ کی وجہ سے شیخ رشید کی سکوٹر پارٹی کے علاوہ ان کا ساتھ دینے کے لئے ایک بھی سیاسی پارٹی تیار نہیں ہے اور یہی عمران خان کی سب سے بڑی سیاسی ناکامی بھی ہے۔ اسلام آباد ملک کا دارالخلافہ ہے۔ صرف ایسا نہیں ہے کہ ایک وزیر اعظم اور اس کی کابینہ اسلام آباد میں بیٹھ کر حکومت چلا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں چالیس کے لگ بھگ وفاقی وزارتیں اور پانچ سو سے زائد وفاقی محکموں کے دفاتر ہیں،جہاں روزانہ لاکھوں لوگ اپنے اپنے کاموں کے سلسلے میں جاتے ہیں۔ ایک دن کی دفاتر کی بندش سے لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں سپریم کورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ اور دوسری عدالتیں بھی ہیں، جہاں مقدمات کی پیروی میں تعطل پیدا ہونے سے ہزاروں لوگ متاثر ہوسکتے ہیں۔پاکستان کا اٹامک انرجی، توانائی کے دوسرے منصوبوں اور انفراسٹرکچر کے دفاتر بھی اسلام آباد میں ہیں۔ تقریباً سو کے لگ بھگ ملکوں کے سفارت خانے، چالیس پچاس کے قریب بین الاقوامی ادارے، جن میں اقوام متحدہ کے مختلف ادارے، عالمی بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک وغیرہ وغیرہ بھی اسلام آباد میں ہیں جن کا ایک ایک دن پاکستان کی ترقی اور لوگوں کی خوش حالی کے لئے اہم ہیں۔ ان میں سے کسی کا تعلق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے نہیں ہے، بلکہ ان ہزاروں لوگوں سے ہے جو دوسرے ملکوں میں کاروباری یا کسی اور سلسلے کے لئے جانا چاہتے ہیں یا پاکستان کے اندر مختلف ترقیاتی پراجیکٹس سے منسلک ہیں۔

ان سب سے بڑھ کر اسلام آباد میں سی پیک پراجیکٹ کے دفاتر ہیں، جہاں پچاس کے قریب ترقیاتی پراجیکٹس پر پچاس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے رات دن کام ہو رہا ہے۔ اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کا مطلب پاکستان کو اقتصادی طور پر لاک ڈاؤن کرنا ہے، جس کا براہ راست اثر لاکھوں کروڑوں لوگوں کی زندگیوں پر پڑے گا۔ عمران خان کے پچھلے دھرنے کی وجہ سے سی پیک کے منصوبہ جات تعطل کے شکاررہے، جبکہ چینی صدر کا اہم ترین دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا۔ کیا عمران خان ایسی تاریخ دہراکر پاکستان کو معاشی طور پرمفلوج کر دینا چاہتے ہیں؟ ماضی قریب میں بعض ممالک میں انارکی کی مثالیں ملتی ہیں۔ لاطینی و جنوبی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے کئی ممالک انارکی کا شکار رہے ہیں۔لاطینی امریکہ میں کوسٹا ریکا، ایل سلوا ڈور، پاناما وغیرہ، افریقہ میں روانڈا، برونڈی اور ایشیا میں سری لنکا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک ان حالات کا شکار رہے ہیں، ان ممالک کی خانہ جنگیوں میں لاکھوں لوگ مرتے رہے ہیں ،لیکن مشرق وسطیٰ کو چھوڑ کر باقی دنیا میں حالات اب نسبتاً پُرامن ہیں۔ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں کولمبیا میں ہونے والی انارکی آخری حدوں تک پہنچ گئی تھی، لیکن اب وہاں بھی حالات معمول کے مطابق ہو چکے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان بھی اسلام آباد یا دیگر شہروں کو عوامی طاقت کے زور پر بند کر کے ملک میں انارکی پھیلانا چاہتے ہیں؟اگر عمران خان کا طریقہ کار درست تسلیم کر لیا جائے تو ملک میں پارلیمنٹ اور عدالتوں کا جواز ختم ہو جائے گا۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، یہاں مارشل لاء ضرور لگے جن میں جمہوری عمل معطل ہو گیا، لیکن مشرقی پاکستان کے علاوہ کبھی خانہ جنگی اور انارکی جیسی صورت حال نہیں پیدا ہوئی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد کے پاکستان میں مارشل لاء بھی لگے اور احتجاجی سیاست بھی ہوئی، لیکن حالات انارکی اور خانہ جنگی کی طرف کبھی نہیں گئے۔ اگر پاکستان میں لاک ڈاؤن سیاست کو پروان چڑھایا گیا تو وفاقی اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں انتہائی پیچیدہ صورت حال پیدا ہو جائے گی، کیونکہ وفاقِ پاکستان کی چاروں اکائیوں میں مختلف پارٹیاں سیاسی طاقت رکھتی ہیں۔ سندھ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم، پنجاب میں مسلم لیگ(ن) ، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی، جمعیت علمائے اسلام اور اے این پی اور بلوچستان میں نیشنل پارٹی وغیرہ۔ آج کے پاکستان میں ملک گیر سطح پر کوئی پارٹی مقبول نہیں ہے اور تما م پارٹیاں اپنے اپنے سیاسی جزیروں میں مضبوط ہیں۔ ان حالات میں اگر محاذ آرائی کی سیاست کو فروغ ملا تو صوبوں کے درمیان فاصلے بڑھنے شروع ہو جائیں گے۔ آج کے پاکستان کو نفرت نہیں، بلکہ محبت اور مفاہمت کی سیاست کی ضرورت ہے۔ عمران خان کو چاہئے کہ محبت اور مفاہمت کی طرف جائیں اور سنجیدگی کے ساتھ اگلے الیکشن کی تیاری کرنے کے لئے اپنی پارٹی کو منظم کریں۔

مزید :

کالم -