معاشی انقلاب کے دعوے اور عملی صورت حال

معاشی انقلاب کے دعوے اور عملی صورت حال
 معاشی انقلاب کے دعوے اور عملی صورت حال

  

ہمارا پیارا وطن پاکستان ایک مرتبہ پھر سیاست کی وجہ سے بحرانی کیفیت کا شکار ہے۔ احتجاج، مظاہروں اور دھرنوں کی سیاست کے باعث پہلے بھی زبوں حالی کا شکار ہوا تھا۔ اب پھر وہی صورت حال ہے اور کاروبار تباہی کے دھانے پر پہنچتا دکھائی دے رہا ہے۔ کاروباری حضرات پریشانی کا شکار ہیں۔ مارکیٹوں میں مندی کا رجحان ہے، اس پر سہاگہ یہ کہ رہی سہی کسر سیاسی و انتظامی صورت حال پوری کر رہی ہے۔ امن و امان کی صورت حال زیادہ اچھی نہیں ۔ گاہک تجارتی مراکز کا رخ کرتے ہوئے دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں سے گھبراتے تھے۔ اب احتجاج اور دھرنوں نے مارکیٹوں کو جانے والے راستے مسدود کر کے تجارتی تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی بنیاد بھی رکھ دی ہے۔

تاجر اپنے دفاتر دکانوں یا گھروں میں فارغ بیٹھے مکھیاں مار رہے اور گاہکوں کی راہ تک رہے ہیں جب کہ دوسری جانب گاہک ٹی وی چینلز پر مظاہروں اور دھرنوں کی خبروں پر کان دھرتے ہوئے خرید و فروخت کی بجائے سیاسی معاملات پر بحث سے لطف اندوز ہونے میں مصروف رہتے ہیں۔ افراتفری کے عالم نے بے برکتی کا راگ الاپ لیا ہے۔ معاشی عدم استحکام کے باعث عام شہری کو نان نفقے کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ اضافی اخراجات کا کیا سوچے گا۔ لوگوں کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے اور ہر سطح پر لین دین ڈسٹرب ہوتا جا رہا ہے۔ ملک میں ایک بھی ایسا نہیں جو ٹھیک طور پر چل رہا ہو۔ گزشتہ ادوار میں یہ کہا جا رہا تھا کہ پاکستان میں جائیداد کی خرید و فروخت کا کاروبار خوب عروج پر ہے، اسے محفوظ بھی تصور کیا جاتا تھا لیکن موجودہ حکومت میں پراپرٹی کے بزنس پر ٹیکسوں کی جو بھرمار کی ہے، اس نے کاروبار سے منسلک افراد کو نہ صرف مایوس کیا، بلکہ اکثر پراپرٹی ڈیلرز اپنے کام کو خیر باد کہہ کر فارغ بیٹھے ہیں۔

معاشی استحکام کے لئے جو دعوے کئے جا رہے تھے ان میں سے بیشتر تو پورے نہیں ہوئے توانائی کا بحران برائے نام کم ہوا ہے۔ سردی کی آمد کے باوجود لوڈ شیڈنگ میں کمی نہیں آئی اس پر طرہ یہ کہ ہم ہر روز لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے منصوبوں کے بارے میں سُن رہے ہیں، عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار معاشی انقلاب لانے کا کریڈٹ لیتے ہیں اس کے باوجود کاروباری طبقہ سخت پریشانی میں مبتلا ہے۔ وزیر موصوف کو اپنی قوم اور اداروں سے ایوارڈ لینا چاہئے، اس کے لئے معاشی معاملات کو واقعتاً درست کرنا ہوگا۔ اپنوں پر بے جا ٹیکس لگا کر زرمبادلہ بڑھانا کوئی دانشمندی یا ترقی نہیں ہوتی۔ کاروبار مستحکم ہو گا تو معیشت کو استحکام ملے گا، محض زبانی جمع خرچ کرنے سے تاجر کو سکون مل سکتا اور نہ ہی ملکی معیشت کا پہیہ ترقی کی جانب گامزن ہونے کا امکان ہے۔

وزیر اعظم میاں نواز شریف کو چاہئے کہ وہ تاجر طبقے کی محرومیوں کو دور کرنے کے لئے کاروبار دوست پالیسی تشکیل دیں اور ٹیکسوں کے معاملے میں ذاتی دلچسپی لے کر اضافی ٹیکسیشن فوری طور پر واپس لینے کے احکامات جاری کریں۔ ٹیکس تو پہلے سے ہی بہت زیادہ نافذ ہیں، ان میں اضافہ کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں۔ تاجر طبقہ ٹیکس دینے سے کبھی انکاری نہیں رہا، ٹیکس کے حصول کے لئے کاروبار کا استحکام اور منافعے کی معقول شرح کا ہونا ضروری ہے۔ کاروباری مراکز میں تاجر اور صنعتکار فارغ بیٹھے ہوں گے تو ان سے ٹیکس وصولی کی امیدنہیں کرنی چاہئے۔

پراپرٹی کے کاروبار کی طرح گاڑیوں کی خرید و فروخت کا معاملہ بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ 1300 سی سی سے اوپر جاپانی گاڑیوں پر لگژری ٹیکس لگانے سے شو رومز مالکان عجب مخمصے میں پھنس گئے ہیں۔ امپورٹڈ گاڑیوں کا کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ پاکستانی گاڑیاں ضرورت کے وقت فوری طور پر میسر نہیں ہوتیں، ان پر اون کی شکل میں دو سے ڈھائی لاکھ روپے اضافی ادا کرنے پڑتے ہیں، وجہ سے گاڑیوں کے خریدار جاپانی گاڑیوں کی طرف رخ کرتے ہیں جہاں انہیں لگژری ٹیکس سمیت کئی دوسرے ٹیکسوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہائی برڈ گاڑیوں پر بھی کئی ٹیکس عائد ہیں حالانکہ دنیا بھر میں ہائی برڈ گاڑیاں ٹیکس فری قرار دی گئی ہیں تا کہ شہریوں کا رجحان اس طرف زیادہ ہو لیکن ہمارے ہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہائی برڈ گاڑیوں پر بھی ٹیکسوں کی بھرمار خریداروں اور فروخت کرنے والوں دونوں کے لئے پریشانی کا باعثہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جن لوگوں نے موجودہ حکمرانوں کو تاجر دوست سمجھ کر بھرپور مینڈیٹ دیا تھا، ان کی توقعات کا خیال رکھا جائے اور ملک میں تجارتی ماحول بہتر بنا کر کاروباری طبقے کو ٹیکسز کے شکنجے میں جکڑنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ سہولتیں فراہم کی جائیں۔ ایک اپیل سیاسی جماعتوں سے بھی ہے کہ وہ احتجاج اور مظاہروں کے معاملے میں ملکی معیشت اور قومی اداروں کے استحکام کا خیال رکھیں اور برداشت کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی بجائے اپنے احتجاج کو پر امن شکل دیں۔

مزید :

کالم -