اناؤں کے بُت توڑ کر مذاکرات کریں

اناؤں کے بُت توڑ کر مذاکرات کریں

  

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ2نومبر کو اسلام آباد بند نہیں ہو گا بلکہ عمران خان کی سیاست بند ہو گی، اُن کی قسمت میں اقتدار نہیں تو اُنہیں جلنا اور سڑنا نہیں چاہئے۔ کنٹینر پر چڑھنے والوں کو ملکی ترقی ہضم نہیں ہو رہی، پاکستان کے حوالے سے اچھی خبریں کچھ لوگوں پر بجلی بن کر گرتی ہیں، کچھ لوگ خیرات کے پیسے کھا جاتے ہیں اور اس کا حساب بھی نہیں دیتے، مُلک میں کچھ بیمار ذہن ہیں جو پاکستان کی ترقی نہیں چاہتے، مسلسل سیاسی ناکامی پر عمران خان بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ عمران خان کو2023ء سے بھی آگے تک انتظار کرنا پڑے گا، مخالفین جانتے ہیں کہ ہماری حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی اُنہیں موقع نہیں ملے گا۔ مسلم لیگ(ن) کبھی احتساب سے نہیں بھاگی، تین سال سے کہہ رہا ہوں کہ سیاست کو معیشت سے علیحدہ کر دیں، ماضی کا رونا رونے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا، وہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجرم کو وزیراعظم نہیں مانتا، آسمان بھی گِر جائے تو2 نومبر کو دھرنا ہو گا، مارشل لاء نہیں لگے گا، حکومت چلی گئی تو نئے انتخابات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ہمارا آئینی حق ہے، جمہوریت میں احتجاج ہوتا ہے۔ 2نومبر کو دس لاکھ لوگ اکٹھے کر کے دکھائیں گے جب اتنے لوگ اکٹھے ہوں گے تو اسلام آباد خودبخود بند ہو جائے گا۔ نواز شریف کے درباری نہیں چاہتے کہ نواز شریف کا احتساب ہو،لیکن ہم نواز شریف کی بجائے مسلم لیگ(ن) کی حکومت گرا دیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ پرویز رشید2نومبر کے بعد نظر نہیں آئیں گے، حکومت کے لئے یہی اچھا ہے کہ دھرنے کو پُرامن رہنے دے۔ نواز شریف نے استعفا نہ دیا تو اُن کی حکومت چلی جائے گی۔انہوں نے اِن خیالات کا اظہار ایک ٹی وی انٹرویو میں کیا۔

ایک طرف عمران خان دھرنا دینے اور دوسری جانب حکومت اِس دھرنے کو ناکام بنانے کے لئے تُلی ہوئی ہے، عمران خان کا خیال ہے کہ وہ اسلام آباد بند کر دیں گے جبکہ اسحاق ڈار یہ سمجھتے ہیں کہ2نومبر کو شہر بند نہیں ہو گابلکہ عمران خان کی سیاست بند ہو جائے گی۔دونوں طرف کے اعلانات سے لگتا ہے کہ فریقین کے عزائم بُلند ہیں اور وہ اپنے اپنے پروگرام کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اِس لئے فی الحال یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ دھرنے والے ر وز فی الحقیقت کیا ہو گا، یہ پُرامن بھی ہو گا یا نہیں، کیونکہ ہجوم جہاں کہیں بھی ہوتاہے اس کی نفسیات کا علم قبل از وقت نہیں ہو سکتا۔عمران خان نے جب2014ء میں دھرنا دیا ہوا تھا تو انتظامیہ کے دعوے کے مطابق انہوں نے جو یقین دہانیاں کرائی تھیں ان پر قائم نہیں رہے۔ ڈی چوک کی جانب نہ بڑھنے کا وعدہ بھی کیا گیا تھالیکن یہ وعدہ بھی توڑ دیا گیا، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہجوم کے ایک حصے نے ڈی چوک سے ملحقہ پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر کی عمارت کے اندر گھس کر اس کی نشریات آناً فاناً بند کرا دیں، اُن دِنوں یہ رپورٹ بھی منظر عام پر آئی تھی کہ جو لوگ پی ٹی وی کی عمارت کے اندر گھسے اور انہوں نے جس طرح نشریات بند کرائیں اُن سے لگتا تھا کہ وہ الیکٹرانک کی مبادیات سے واقف تھے اور انہوں نے وہی تاریں کھینچیں جن سے نشریات بند ہو گئیں یہ لوگ کون تھے اور ان کا کن جماعتوں سے تعلق تھا اور ان کے خلاف جو مقدمات قائم ہوئے تھے، عدالتوں میں وہ کہاں تک پہنچے اور اگر تاخیر ہوئی تو کیا وجہ ہے؟، یہ سارے معاملات اپنی جگہ،لیکن اب سوا دو سال بعد پھر ایسا ہی موقع دوبارہ آ گیا ہے جب تحریک انصاف شہر کو بند کرنے کے دعوے کے ساتھ سامنے آئی ہے اور احتجاج کا یہ حق جمہوریت کے نام پر حاصل کیا جا رہا ہے۔

یہ درست ہے کہ جمہوریت انسانوں کو بہت سے ایسے حقوق عطا کرتی ہے جو غیر جمہوری معاشروں میں رہنے والوں کو حاصل نہیں ہوتے،لیکن دُنیا کے مہذب معاشروں میں جو پاکستان سے زیادہ جمہوری ہیں اور جہاں حکمران اور اپوزیشن جماعتیں زیادہ بہتر جمہوری رویوں کا اظہار کرتی اور ان پر عمل بھی کرتی ہیں، وہاں احتجاج کے بھی مہذب طریقے ایجاد ہو گئے ہیں۔احتجاج کا حق استعمال کرتے ہوئے یہ خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس کی زد دوسرے لوگوں کے حقوق پر نہ پڑے،کوئی بھی جمہوری معاشرہ کسی فرد، گروہ یا جماعت کے اس بنیادی جمہوری حق کو تسلیم نہیں کرتا، جس سے دوسروں کے حقوق متاثر ہوتے ہوں۔ اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ کسی سڑک پر چلنا اور گاڑی چلانا آپ کا قانونی حق ہے،لیکن اگر کوئی شخص ٹریفک کے اشاروں کو توڑتا اور روندتا ہوا چلا جا رہا ہو اور ٹریفک کا کنٹرولر اُسے روک لے تو وہ یہ موقف اختیار نہیں کر سکتا کہ گاڑی چلانا اُس کا حق ہے، جو قانون کسی فرد کو سڑک پر گاڑی چلانے کا حق دیتا ہے وہی اُسے پابند کرتا ہے کہ وہ ٹریفک کے ضابطوں کا بھی خیال کرے۔

وسیع تر معنوں میں اِس ضابطے کا اطلاق افراد کے ساتھ ساتھ گروہوں اور جماعتوں پر بھی ہوتا ہے۔اگر کوئی ہجوم محض ہجوم کی طاقت کو بروئے کار لا کر ہر قسم کے ضابطوں کو اپنے پاؤں تلے کچلنا چاہتا ہے اور جن راستوں سے گزرنا عوام کا بنیادی حق ہے، محض ہجوم کی طاقت کے ذریعے اس کے اس حق کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے تو قانون اس کے خلاف حرکت میں آتا ہے۔ اِس لئے بہتر یہ ہے کہ عمران خان اپنی طاقت کے اظہار کو قانون اور ضابطے کا پابند رکھیں، وہ اگر کسی وجہ سے حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا کسرِ شان سمجھتے ہیں تو بے شک نہ کریں، اُن کے نزدیک اگر احتجاجی سیاست کے ذریعے ہی وہ اقتدار کے زینے طے کرتے ہوئے وزیراعظم کے منصب پر پہنچنا چاہتے ہیں تو بے شک احتجاج کرتے رہیں لیکن انہیں یہ خیال ذہن سے نکال دینا چاہئے کہ احتجاجی تحریک انہیں براہ راست وزیراعظم بنا دے گی۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ اُن کے دھرنے کے نتیجے میں مارشل لا نہیں لگے گا، پورے یقین کے ساتھ یہ بات وہ کیونکر کہہ سکتے ہیں، یہ تو وہی جانتے ہوں گے،لیکن اگر وہ دھرنا دے کر یا شہر بند کر کے چاہتے ہیں کہ ملک میں عام انتخابات ہو جائیں تو اِس کے لئے مذاکرات کا راستہ بھی اپنایا جا سکتا ہے۔

آئین کے تحت وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت صدرِ مملکت کو اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے کر نئے انتخابات کا اعلان کر سکتے ہیں آئین میں اِس سارے طریقِ کار کی وضاحت موجود ہے، جس کے تحت نئے انتخابات ہو جائیں گے، اگر اُن کا بنیادی مطالبہ اور مقصد یہی ہے تو حکومت کو اس پر بھی بات چیت کرلینی چاہئے، لیکن اِس کے لئے اناؤں کے بُت کو توڑنا ضروری ہے، اَنا کا جوہر صرف عمران خان کے پاس ہی نہیں دوسرا فریق بھی اس سے مالا مال ہے، اِس لئے بہتر یہی ہے کہ فریقین اپنی اپنی اناؤں کے بُت کو فی الحال طاقِ نسیاں پر رکھیں اور نئے انتخابات پر بات کریں جو جمہوری طریقہ ہے اور جمہوری ممالک میں آزمودہ ہے۔ پروگرام کے مطابق تو جون 2018ء کے بعد کسی وقت بھی انتخابات ہو سکتے ہیں، اگر یہ ایک سال پہلے بھی کرا لئے جائیں تو مضائقہ نہیں،لیکن اِس کے لئے حکومت کو دلیل سے قائل کرنا ہو گا اور یہ کوئی مشکل اور ناممکن نہیں۔البتہ اگر عمران خان دھرنے کے پردے میں کچھ ایسا حاصل کرنا چاہتے ہیں جسے صرف وہ ہی جانتے ہیں اور جس کے بارے میں وہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ صرف اسلام آباد بند کرنے سے ہی حاصل ہو گا، تو پھر وہ اپنی طاقت کا اظہار کر کے دیکھ لیں، ایسی صورت میں یہ ضروری نہیں کہ اُنہیں حسبِ منشا کامیابی ہو، جیسا کہ پہلے بھی نہیں ہوئی تھی۔ اب اگر اُن کے نزدیک حالات بد ل گئے ہیں یا کوئی نئے عوامل سیاست میں داخل ہو گئے ہیں تو وہ بہتر جانتے ہوں گے ویسے اگر ماضی کے واقعات سے کوئی دلیل دی جا سکتی ہے تو عمران خان کے دھرنے کا مستقبل واضح ہے۔

مزید :

اداریہ -