کشمیر۔۔۔ پُر امن جدوجہد تشدد کی راہ پر

کشمیر۔۔۔ پُر امن جدوجہد تشدد کی راہ پر
 کشمیر۔۔۔ پُر امن جدوجہد تشدد کی راہ پر

  

کشمیر میں جدوجہد آزادی کی تازہ لہر کو آج 108دن ہو چکے ہیں۔ آج بھی بھارت مسئلہ کو تسلیم کرنے پر تیار ہے نہ کسی پُر امن طریقے سے اسے حل کرنے پر آمادہ ہے۔ بھارت کی چھ لاکھ فوج اندھی طاقت سے مسلح کشمیر یوں سے وحشیانہ سلوک کررہی ہے۔ مظاہرین پر تشدد کے علاوہ کشمیریوں کے گھروں میں گھس کر لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک لے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بارہ مولا میں گرفتاریوں کے بعد پرانے سری نگر میں کپواڑہ کو نشانہ بنایاگیا جہاں ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد کو گرفتار کر کے لے گئے۔ پلوامہ میں ایک احتجاجی جلوس کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی اور پرم پورہ میں رات کے اندھیرے میں گھروں سے لوگوں کو اُٹھالے گئے۔ بارہ مولا ضلع میں پورے بارہ گھنٹے تک لوگوں کو چن چن کر اُٹھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ کپواڑہ سے ستائیس افراد کو اُٹھا لیا گیا۔ اکثر مقامات پر ان گرفتاریوں کے نتیجے میں اشتعال پھیل گیا اور پر تشدد کارروائیاں شروع ہوگئیں۔ کرال پورہ اور بیگھ پورہ میں گرفتاریوں کا یہ عمل صبح پانچ بجے شروع ہوا اور دوپہر بارہ بجے تک جاری رہا۔ مقامی آبادی کے مطابق بھارتی فوج اور پولیس نے کوئی ایسا گھر نہیں چھوڑا جس میں سے اُنہوں نے کسی کو گرفتار نہ کیا ہو۔ یا گھر میں گھس کر گھر والوں کو تنگ اور خواتین کی بے حرمتی نہ کی ہو۔یہاں سے ستر لوگوں کو اُٹھالے گئے جن میں ستر سالہ بابا غلام محمد لون بھی شامل ہے۔

اس طویل آپریشن اور ایک ضعیف عمر شخص سمیت دوسرے لوگوں کی گرفتاریوں کے خلاف بھی اشتعال پھیل گیا اور لوگ گھروں سے باہر نکل کر احتجاج کرنے لگے۔ اس احتجاج میں خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد تھی۔ جو آزادی کے نعرے لگا رہے تھے اور اپنے عزیزوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے تھے۔ ان عورتوں اور بچوں پر بے تحاشا آنسو گیس کے گولے مارے گئے۔ صفا کدل میں بھی صبح پانچ بجے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا گیا جو شام چار بجے تک جاری رہا۔ یہاں سے ساٹھ نوجوانوں کو اُٹھایا گیا۔ جس کے بعد اشتعال پھیل گیا اور احتجاج کا سلسلہ تصادم میں بدل گیا۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر ایک سو بائیس افراد کو گرفتار کیا گیا وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی جماعت پی ڈی پی (پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی) کے بعض سینئر رہنما حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی سے اپیلیں کررہے ہیں کہ وہ ایک موقع محبوبہ مفتی کو دیں۔ خود محبوبہ مفتی نے احتجاج کرنے والوں سے اپیل کی ہے کہ مجھے ایک موقع دیں لیکن نہ تو پی ڈی پی کے رہنما نہ ہی محبوبہ مفتی یہ وضاحت کررہے ہیں کہ ’’موقع‘‘ سے اُن کی کیا مراد ہے اور اس’’موقع‘‘ میں کشمیریوں کا مطالبہء آزادی کہاں فٹ ہوتا ہے؟

دراصل محبوبہ مفتی اور پی ڈی پی بھی بھارت کے دوسرے سیاست دانوں کی طرح کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو چند نوکریوں، یونیورسٹیوں میں داخلوں، سکولوں،ہسپتالوں اور کسی پیکیج کے عوض خرید لینے کے خواب دیکھتے ہیں۔ بھارت کے اکثر سیاست دان مسلم کشمیر کو کوئی مسئلہ ہی تسلیم نہیں کرتے ان کے خیال میں یہ محض ’’لا اینڈ آرڈر‘‘ کا مسئلہ ہے، جسے طاقت سے حل کیا جاسکتا ہے۔ جو کسی قدر نرم رویہ رکھتے ہیں اور اپنی سرکار سے اس پر توجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ کشمیریوں کو کوئی لولی پاپ دے کر بہلانے کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیتے ہیں۔ جبکہ بر سرزمین صورت حال روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔ فوج اور پولیس کی اندھی طاقت سے جذبہء آزادی کو کچلنے کی کوشش کے نتیجے میں اشتعال پھیلتا ہے اور پھر فوج اور پولیس کے ساتھ مظاہرین کا تصادم ہوتا ہے، جس سے پُرامن جدوجہد میں رفتہ رفتہ تشدد کا عنصر داخل ہوتا نظر آرہا ہے۔

یوں بھی اب یہ تحریک نوجوانوں کی تحریک بن گئی ہے جوبہت جلد شدت پسندی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ بھارت نے بزرگ رہنماؤں کو قیدو بند میں ڈال رکھا ہے، جس سے تحریک رفتہ رفتہ بزرگوں کے ہاتھوں سے نکل پر جوش نوجوانوں کے ہاتھ میں چلی جارہی ہے۔ محبوبہ مفتی مظاہرین سے ’’موقع‘‘مانگ رہی ہے۔ وہ بھارتی فوج سے ’’موقع‘‘ کیوں نہیں مانگتی اور بھارتی حکومت سے یہ مطالبہ کیوں نہیں کرتی کہ بھارتی فوج کشمیر سے نکل جائے، اگر وہ کشمیریوں سے زیادتی کرنے والے فوجیوں کے لئے سزا کا مطالبہ کریں اور فوج کو بھارت واپس بھجوانے کی ہمت نہیں تو بارکوں میں محدود کردے تو پھر مظاہرین خودبخود ’’موقع‘‘ دے دیں گے، لیکن وہ ظالموں کو کھلی چھٹی دے کر مظلوموں کے ہاتھ پاؤں ’’موقع‘‘ کے نام پر باندھنا چاہتی ہیں تو ان پر کون اعتبار کرے گا؟ وہ جن سے’’موقع‘‘دینے کے لئے اپیلیں کررہی ہیں، انہیں قیدو بند سے آزاد کر کے انہیں پہلے ’’ موقع‘‘کیوں نہیں دے دیتیں؟

پُر جوش کشمیری نوجوانوں نے دیکھ لیا ہے کہ محض احتجاجی مظاہروں سے بھارت کا کچھ نہیں بگڑتا، انہوں نے یہ بھی دیکھ لیا ہے کہ بارہ مولا حملہ اور اُڑی حملہ سے بھارت کیسے چیخ اُٹھتا ہے۔ اس لئے اب اُنہیں سمجھ آگئی ہے کہ بھارت کا علاج یہی ہے۔ نوجوان پُرامن تحریک کو زیادہ دیر تک پُرامن نہیں رکھ سکتے۔ یہ جوانی کی مجبوری ہے اور کشمیری نوجوانوں کی جدوجہد ایک بار پھر تشدد پسندی کی راہ پر چل پڑی ہے۔ برہان وانی شہید کے ایک ساتھی ذاکر رشید بھٹ نے اپنے وڈیو پیغام میں نوجوانوں سے کہا ہے کہ وہ پولیس اور فوجیوں سے ہتھیار چھین لیں۔ ذاکر رشید بھٹ انجینئرنگ کا طالب علم تھا۔ اب وہ جدوجہد آزادی کا ہو کر رہ گیا ہے۔ اس نے فوجی وردی زیب تن کر رکھی ہے، اس کے اردگرد کئی رائفلیں پڑی ہیں اور نوجوانوں کو ہتھیار چھیننے کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ہینڈ گرنیڈ سے اس طرح کھیل رہا ہے، جیسے کوئی گیند کو اچھال رہا ہو۔یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ جس روز ذاکر رشید بھٹ نے نوجوانوں سے اپیل کی ہے، اسی روز اننت ناگ(جنوبی کشمیر) میں ٹی وی ٹاور پر پہرہ دینے والے پانچ اہل کاروں سے ان کی رائفلیں چھین لی گئیں۔ اس نے کہا کہ جو بھائی مسلح جدوجہد میں ہمارا ساتھ دینا چاہیں، وہ ہتھیار چھین کر ہم سے آ ملیں ہم کھلی باہوں اور کھلے دل سے ان کا استقبال کریں گے۔

ذاکر بھٹ نے اس پیغام میں کہا ہے کہ سکھ نوجوانوں نے بھی اس سے رابطہ کیا ہے وہ ہمارے ساتھ مل کر آپریشن بلیو سٹار میں مارے جانے والے سکھوں کا انتقام لینا چاہتے ہیں۔ اس نے سکھوں کو بھی خوش آمدید کہا ہے اور کہا ہے کہ عنقریب انشاء اللہ سکھوں کا الگ جتھہ بھی تیار کیا جائے گا۔ اس نے کشمیری پنڈتوں سے بھی کہا ہے کہ ان سے کوئی پرخاش نہیں ہے۔ حکومت نے انہیں بلاوجہ خوف زدہ کرکے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ حالانکہ جو پنڈت گھروں میں رہ گئے تھے، وہ اب بھی خوش و خرم رہ رہے ہیں۔میں نے ایک کالم میں امریکی صدر باراک اوباما سے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کے پُرامن حل کی کوششوں میں امریکہ نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو پھر مستقبل قریب میں داعش اور القاعدہ کو یہاں قدم جمانے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ شام اور افغانستان سے بھاگنے والے جنگجو اب کشمیر کا رُخ کریں گے اور کشمیر کے مسئلے کے پُرامن حل سے مایوس کشمیری نوجوانوں کے لئے کوئی چارہ بھی نہیں ہو گا کہ وہ ان کی مدد کو قبول کرلیں۔ اب بھی وقت ہے کہ بھارت ہٹ دھرمی چھوڑ کر کشمیر کے تصفیے کے لئے آمادگی ظاہر کرے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اس مسئلے کو حل کرے۔ امریکہ اور امریکی صدر اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کی نیت اگر صاف ہے اور وہ داعش اور القاعدہ کو کشمیر میں داخلہ دینے پر آمادہ نہیں ہیں تو پھر انہیں کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے اور اس مسئلے کو حل کرانا چاہیے۔

مزید :

کالم -