میرا جو کچھ ہے سب حسینؓ کا ہے

میرا جو کچھ ہے سب حسینؓ کا ہے
میرا جو کچھ ہے سب حسینؓ کا ہے

  

لاہور کے ایک نسبتاً دُور دراز علاقے اعوان ٹاؤن میں ’’بزم چِغتائی‘‘ کے نام سے ایک ادبی، سماجی، ثقافتی تنظیم گزشتہ چھ سال سے روَاں دوَاں ہے، مگر ’’جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟‘‘ کے مصداق ہم کہ لاہور کے دوسرے سرے پر شوکت خانم ہسپتال سے متصل جوہر ٹاؤن کے علاقے میں مقیم ہیں۔ گزشتہ چھ برس میں کبھی ’’بزم چِغتائی‘‘ کے سالانہ مشاعرے، یعنی محفل مسالمہ میں شرکت کرنے کا شرف حاصل نہ کر سکے، اِس بار قرع�ۂ فال یوں ہمارے نام نکلا کہ پروفیسر حسن عسکری کاظمی نے کہ وہ ’’بزم‘‘ کے بانیوں میں سے ہیں اور ہر چند کہ اب اعوان ٹاؤن سے واپڈا ٹاؤن میں منتقل ہو چکے ہیں، مگرکعبے سے ان بُتوں کو بھی نسبت ہے دُور کی!اعوان ٹاؤن کی محافل و مجالس کو نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے ہمیں آمادہ کِیا اور ہم طارق واصفی صاحب کی محتاط ڈرائیونگ کے مزے لیتے ہوئے اُن ہی کی کار میں اعوان ٹاؤن جا پہنچے۔ ہمارے، یعنی صدارتی صوفے کے پہلو میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر حسن عسکری کاظمی فروکش ہوئے تو کچھ اور شعراء بھی مہمانانِ اعزاز کے طور پر پہلو بہ پہلو بٹھائے گئے، جن میں مُنفعت عباس رضوی۔ وسیم عباس اور فرہاد ترابی بھی تھے کہ فرہاد زیدی کے ہوتے ہوئے فرہاد تخلص کے یہ دوسرے تیسرے شاعر ہیں۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عاصم خواجہ نے بہ حُسن و خوبی انجام دیئے۔

متذکرہ ناموں کے علاوہ خصوصی طور پر شریکِ محفل کرامت بخاری اور توقیر احمد شریفی بھی تھے اور بہت سے شعراء کے جلو میں الحاج ڈاکٹر رفیق احمد خان اور محمد عباس مرزا بھی کہ دونوں حج کر کے تازہ تازہ آئے ہیں، اِسی لئے ’’اوّل کلام بعدۂ طعام‘‘ کے و قت عباس مرزا نے آبِ زم زم کا بھی اہتمام کیا تھا۔ بریانی کھاؤ اور آبِ زمزم پیؤ۔ اُس کے بعد چاولوں کو گلے سے اُتارنے کے لئے عمدہ چائے کا انتظام مستزاد تھا۔جن شعراء نے کلام سنایا اُن کے اسمائے گرامی کچھ یوں ہیں۔۔۔

عاصم خواجہ(نظامت کار، شاعر)۔ محمد الیاس شاہد۔ عطاء العزیز۔ فراست بخاری(فوٹو گرافر شاعر) آفتاب جاوید (مسیحی شاعر) طارق چغتائی (بزم چغتائی کے کرتا دھرتا) عدل منہاس، صفیہ ملک صابری، ریحانہ اشرف، عذرا مرزا۔ خلیل فاروقی۔ پروفیسر فرخ محمود۔ ڈاکٹر عمران دانش۔ حسین بصری، افضل پارس،سعید قریشی، سحر فارانی۔ محمد علی صابری(ہیڈ ماسٹر ہڑپہ) توقیر شریفی۔ ممتاز راشد لاہوری۔ طارق واصفی۔ محمد عباس مرزا۔ کرامت بخاری۔ فرہاد تُرابی۔وسیم عباس۔الحاج ڈاکٹر رفیق احمد خان]یکے از بانی بزم[ مُنفعت عباس رضوی۔ پروفیسر حسن عسکری کاظمی(بان�ئ بزم) اور یہ خاکسار صدرِ محفل ناصِر زیدی۔۔۔!

نام تو تقریباً سارے ہی آ گئے،اِس اُردو، پنجابی محفلِ مسالمہ کے چیدہ چیدہ اشعار پیش خدمت ہیں کہ کالم کے قارئین بھی شریکِ ’’بزم چغتائی‘‘ ہو سکیں۔۔۔!

تُو ہے سبطِؓ نبی،تُو ہے ابنِ علیؓ آشنائے حقیقت تری ذات ہے

کس قدر معتبر ہے یہ حرفِ جلَی معرفت کی ضمانت تِری ذات ہے

فاطمہ کا پِسر تُو حسینؓ جَری تیرے خُوں سے ہوئی دیں کی کھیتی ہری

کس کی جرأت کرے جو تِری ہمسفری پاسبانِ شریعت تری ذات ہے

پروفیسر حسن عسکری کاظمی

تُو حُرَ جیسوں کو دے دیتا ہے جنت

مَیں واقف ہوں تِرے حُسنِ نظر سے

مُنفعت عباس رضوی

مرے مظلوم آقا کی محبت ایسا دریا ہے

جو اِس میں ڈوب جاتے ہیں سرِ کوثر نکلتے ہیں

کرامت بخاری

انسان جو آزادی سے اب بول رہا ہے

یہ بھی تو حسین ؑ ابنِ علی ؑ ہی کی عطا ہے

فرہاد تُرابی

سُوئے مقتل جو گئے لوٹ کے آئے کیسے؟

پیاس نے مل کے گلے سے بڑی مہمانی کی

توقیر شریفی

شام کے تاجدار کو شر کی مثال کر دیا

دیکھو حسینِ ؓ پاک نے کیسا کمال کر دیا

طارق واصفی

قتلِ شبیر ؑ دے رہا ہے ثبوت

سر کٹانے میں سرفرازی ہے

ممتاز راشدی لاہوری

جہاں پہ کوثر و تسنیم والے تشنہ تھے

وہاں اُداس، روَانی کے بُلبلے ہوں گے

محمد عبا س مرزا

یہ غم نہیں رہا مخصوص ایک ذات کا غم

غمِ حسینؓ تو ہے پوری کائنات کا غم

محمد علی صابری(ہڑپہ)

ننھا سا شیر خوار بھی اِس کی صفوں میں ہے

دُنیا میں بے مثال ہے لشکر حسینؓ کا

سحر فارانی

جُھکنے پائے نہ کبھی دینِ محمدؐ کا علَم

ہم سے یہ عہد حسینؓ ابنِ علی مانگتے ہیں

سعید قریشی

شاہِؓ کربل کے تقدس کی مَیں کیا بات کروں

کوئی ہمسر ہے، نہ ثانی، نہ برابر کوئی

ڈاکٹر عمران دانش

کربلا کے شیر دل میرے امام

پیش ہے اُن کے لئے میرا سلام

عذرا مرزا

مَیں کنارِ فرات ہوتا اگر

جان دیتا حسینؓ سے پہلے

آفتاب جاوید

کیسا وفا شعار ہے کُنبہ حسینؓ کا

اک با وفا نکلتا ہے ایک با وفا کے بعد

عطاء العزیز

حسینؓ ابنِ علی کے سر پہ اب تک

بقائے دین کا سہرا سجا ہے

محمد الیاس شاہد

غمگین فضا، حلقہۂ غم اور محرّم

اک ساتھ ہیں اک عمر سے، ہم اور محرّم

وسم عباس

’’بزم چغتائی‘‘ اعوان ٹاؤن کی اِس خصوصی محفل مسالمہ کی نظامت نہایت عمدگی سے عاصم خواجہ نے کی اور اپنا کلام بھی پنجابی زبان میں سُنایا:

آخر میں صاحبِ صدارت کی حیثیت سے اِس خاکسار ناصِر زیدی نے اپنا جو کلام بصورتِ سلام سُنایا اس کے چند شعر:

ذکر جو روز و شب حسینؓ کا ہے

معجزہ یہ عجب حسینؓ کا ہے

سارے عالم میں جو ہے لاثانی

وہ حسَب اور نسَب حسینؓ کا ہے

دِل میں جو بغضِ پنجتن رکھے

وہ کہے بھی تو کب حسینؓ کا ہے

قلب و جاں تک فقط نہیں موقوف

میرا جو کچھ ہے سب حسینؓ کا ہے

شاعرِ باکمال ہے ناصِر!

کیوں نہ ہو منتخب حسینؓ کا ہے

ناصِر زیدی

اسی روز یعنی اتوار9اکتوبر2016ء کی شام کو ’’حلقہ اربابِ ذوق‘‘ کے زیر اہتمام ایک خصوصی محفل مسالمہ کا اہتمام ’’پاک ٹی ہاؤس‘‘ کی بالائی منزل پر کیا گیا۔ یہاں بھی صدارت کا اعزاز اس خاکسار ناصِر زیدی کو حاصل ہُوا، جبکہ مہمانانِ خصوصی سرفراز علی حسین اور طاہر ناصر علی تھے۔ اس مشاعرے میں کچھ تو اعوان ٹاؤن والی محفل مسالمہ کے شعرا شریک تھے اور اُن کے کلام سے انتخاب کالم میں پہلے ہی شامل ہے شعراء بالترتیب جُنید رضا۔ زاہدہ راؤ۔ فراست بخاری۔ طاہر ناصر علی۔ ڈاکٹر عمران دانش۔ افضل پارس۔ آفتاب جاوید۔ کامران ناشط۔ سلیم سہیل۔ طارق چغتائی۔طارق واصفی۔ محمد علی صابری۔ سعید قریشی۔ زاہد مسعود۔علی اصغر عباس۔ سرفراز علی حسین اور ناصِر زیدی۔ دو چار منتخب شعر اِس نشست کے:

ہم کل بھی حسُینی تھے ہم اب بھی حُسینی ہیں

کربل کے مسافر نے مطلوب نہیں بدلا

کامران ناشط

اک خُطبہ‘ زینبؓ نے سرِ شامِ غریباں

دیں کر دیا، بے دین کے دربار میں زندہ

طارق چغتائی

سرفراز علی حسین نے قصیدہ امام المتقین حضرت علیؒ سے منتخب اشعار سنائے پورا قصیدہ ڈیڑھ سو اشعار پر مشتمل ہے اور ہر عہد پر غالب اسد اللہ خاں غالب کی زمین میں ہے:

یُمنِ اَمر اُن کا کھلا لکھنے کا مدحت امسال

غروی صاحب نے دِیا حکم تھا اس کا پاریں

ہے مکاں اُسؓ کے ورودِ اَبدی سے روشن

لا مکاں کی بھی ہوئی وردِ علیؓ سے تزئیں

اپنے منبر سے محمدؐ کی نصیحت بھی علیؓ

اور وصیت بھی علی ؑ اُن کے بہ زیر بالیں

حضرتِ حیدرؓ کرّار لقب غیرِ فرار

یا علی ؑ آپ کا ہر ثبتِ قدم فتحِ مبیں

سرفراز علی حسین

*****

دِل سے نکل رہی ہے دُعا، یا علیؓ مدد

ہو جائے جلد بہرِ خدا، یا علیؓ مدد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا اُس کا واسطہ ہے کسی بھی ولی کے ساتھ!

رکھتا ہے دِل میں بغض جو مولا علیؓ کے ساتھ

ناصِر زیدی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

کالم -