2نومبر کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟

2نومبر کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟
2نومبر کے بعد کیا ہو سکتا ہے؟

  

آج 24اکتوبر ہے اور 2نومبر کا سورج طلوع ہونے میں صرف نو دس دن باقی رہ گئے ہیں۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد کو بند کرنے کی جو کال دے رکھی ہے اسے آپ عاقبت نااندیشانہ بلکہ بیوقوفانہ تو قرار دے سکتے ہیں لیکن اس کو روکنے کے جو اقدامات حکومت کو اٹھانے چاہئے تھے ، وہ فی الحال کہیں نظر نہیں آ رہے۔ عین ممکن ہے تحریک انصاف کی یہ طفلانہ ضد ملک میں کوئی ایسی بے نظمی یا بدنظمی پیدا کر دے کہ اس کو بعد میں روکنا بے وقت کی راگنی ثابت ہو۔ وہ جو کسی شاعر نے ابرِ خوش ہنگام کے ایک بروقت ایک قطرے کو سارے کھیت کے جل جانے کے بعد کسی موسلا دھار بارش کو بے فائدہ قرار دیا تھا تو وہ کوئی شاعرانہ استدلال نہیں تھا بلکہ ایک زندہ و پائندہ حقیقت بھی تھی۔

اگر سوال یہ ہو کہ حکومت کو آنے والے خطرے کو ٹالنے کے لئے کیا کرنا چاہیے تو میرے خیال میں اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ وزیراعظم کو اپنی کچن کیبنٹ سے ہٹ کر ’’ عوامی کیبنٹ‘‘ کی طرف رجوع کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ ملک میں کئی تھنک ٹینک موجود ہیں۔ ان کو دعوتِ کلام دی جا سکتی ہے۔ میں کہ ایک بے نواسا کالم نگار ہوں، میں نے جن باشعور اور پاکستان سے غائت محبت رکھنے والے دوستوں سے اس موضوع پر بات کی ہے تو ان کا خیال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں جو مناظر جنم لے سکتے ہیں ان کی روک تھام کرنے کے لئے حکومت کو معمول کی SOPs سے آگے نکل کر ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔۔۔ آیئے چند ممکنہ منظر ناموں پر نظر ڈالتے ہیں اور ان کی روک تھام کی سٹرٹیجی کو بھی زیر بحث لانے کی کوشش کرتے ہیں:

1۔ حکومت کے کرتا دھرتاؤں کو تحریک انصاف کے رہنماؤں سے مکالمہ کرنے کو اَنا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ عمران خان اور نوازشریف دونوں کے حالیہ بیانات اور ردِّ بیانات فریقین کے مزاجوں کی گرمیء گفتاری کا اظہار ہیں لیکن کیا ان پر پانی نہیں ڈالا جا سکتا؟ کہا جاتا ہے کہ پہل کرنے کے لئے ہمیشہ طاقتور اور غالب فریق کو آگے بڑھنا چاہیے۔ کمزور یا کمتر قوت والا فریق ایسا نہیں کر سکتا۔وہ احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے اور ۔۔۔ احساسِ کمتری بعض اوقات ناقابلِ بیان نقصانات کا باعث بن جاتا ہے۔ بے شمار تاریخی واقعات کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔۔۔ میں کہ تاریخِ جنگ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہوں، مجھے (اور آپ میں سے بھی اکثر قارئین کرام کو) یہ معلوم ہے کہ پہلی جنگ عظیم جب 1918ء کو ختم ہو گئی تھی تو اتحادی قوتوں (امریکہ،برطانیہ، فرانس) نے معاہدۂ ورسیلز میں جرمنی کو ایسی شرمناک شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا تھا جو کسی بھی معمولی فہم رکھنے والے کو یہ بتا رہی تھیں کہ اس معاہدے کی شقوق میں اتحادیوں نے جرمنی کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے۔ لیکن یہ معاہدہ طوعاً و کرہاً جرمنی کو تسلیم کرنا پڑا۔۔۔ لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟۔۔۔صرف 21برس گزرنے کے بعد دنیا نے دیکھا کہ وہی شکست خوردہ جرمنی 1939ء میں شروع ہونے والی دوسری جنگ عظیم کا ’’بانی مبانی‘‘ بن گیا۔۔۔ تاریخ گواہ ہے کہ نہ صرف یورپ بلکہ ساری دنیا کو 1918ء کے جرمن احساسِ کمتری کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔۔۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف کو مزید احساسِ کمتری کا شکار نہ ہونے دیں۔ مکالمہ میں پہل حکومت کی طرف سے ہو تو اس میں حکومت کی سبک سری نہیں بلکہ اس کی کشادہ ظرفی (Magnanimity) کا اظہار ہو گا!

2۔ آج ساری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہوئی ہیں۔ فاضل عدالتِ عظمیٰ کی تاریخ ہمہ رنگ ہے۔ نظریہء ضرورت سے لے کر وزیراعظم کو بیک بینی و دوگوش گھر بھیجنے کے فیصلے عدالت عظمیٰ کے ریکارڈز کا حصہ ہیں۔ فاضل عدالت نے یکم نومبر کو جن مختلف حضرات کو حاضر آنے کے نوٹس بھیجے ہیں، اس تاریخ پر نظرثانی بھی کی جا سکتی ہے اور یہ تاریخ پیچھے بھی لائی جا سکتی ہے۔ یکم نومبر کے بعد قانون کے جو وقت طلب تقاضے ہوں گے وہ کیسے پورے کئے جائیں گے، ان پر بحث ہو سکتی ہے لیکن چونکہ ملک اس وقت ایک طرح کی حالتِ جنگ میں ہے اس لئے ان تقاضوں کو ’’جنگی تقاضوں‘‘ کے عینک سے دیکھنا چاہیے۔ سپریم کورٹ اگر چاہے تو یکم نومبر سے پہلے بھی بہت کچھ کر سکتی ہے۔ اس بات کے شواہد اور مثالیں بھی سپریم کورٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہیں کہ یہ کورٹ لگاتار ہر روز اجلاس منعقد کرتی رہی ۔ بھٹو کیس کی سماعت کا ریکارڈ دیکھ لیجئے۔ کیا آج ایسا ممکن ہے کہ فاضل عدالت ایک لارجر بنچ تشکیل دے اور دن رات اس کیس کی سماعت کر کے مقدمے کا کوئی نہ کوئی فیصلہ سنا دے۔ لیکن یہ فیصلہ اگر 2نومبر سے پہلے سنا دیا جائے تو شائد اسلام آباد کو بند کرنے کی کال واپس لے لی جائے یا اس کال کے روبہ عمل آنے کی ’’تاثیر‘‘ کم ہو جائے۔

3۔ بعض لوگ فوج کی طرف دیکھتے ہیں۔۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ آپش ہر لحاظ سے ناقابلِ قبول ہوگی۔ اس سے ملک کی تقدیر سنورنے کی بجائے زیادہ بگڑے گی۔ فوج کی اعلیٰ ترین قیادت ماضی ء قریب کے تین چار برسوں (بلکہ 2008ء کے بعد سے اب تک کے 8برسوں ) میں بار بار اس تاثر کو زائل کر چکی ہے کہ فوج کی مداخلت کسی سیاسی تنازعہ کا کوئی کافی یا شافی حل ہے۔ اگر فوج مداخلت کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کو سو بار سوچنا پڑے گا کہ اس ایکشن کے ’’کولیٹرل نقصانات‘‘ کا کیف و کم اندرون ملک اور بیرون ملک کیا ہو گا۔ فوج کو اس بات کا بھی علم ہے کہ نہ صرف اندرونی بلکہ کئی بیرونی عناصر بھی تاک میں بیٹھے ہیں۔ فوج نے ان بیرونی عناصر کے خطروں کو پہلے دیکھنا ہے اور اندرونی امن و امان کی طرف بعد میں توجہ دینی ہے۔ تاہم دو نومبر کی کال اگر ایسا رُخ اختیار کرتی ہے جس میں مُلک کی بقا اور سلامتی کسی خطرے سے دوچار نظر آئے تو ایسے میں بادلِ نخواستہ فوج کو آگے آنا پڑے گا۔ فوج کے سربرآوردہ قائدین نے اس صورتِ حال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے بھی یقیناًایک ہنگامی پلان (Contingency Plan) تیار کر رکھا ہو گا۔ اس پلان کے خدوخال ٹاپ سیکرٹ ہوں گے(اور ہونے بھی چاہئیں) لیکن آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ موجودہ آرمی چیف کے لئے اس تنازع میں کودنا اگر ناممکن نہیں تو ناقابلِ یقین ضرور ہے ۔ آئی ایس آئی کے پاس بھی دو نومبر کی تحریک کے بعد مُلک کی صورتِ حال کے خدوخال کا اُبھرتا ہوا کوئی نہ کوئی خاکہ ضرور موجود ہو گا کہ یہ اس تنظیم کی پروفیشنل ذمہ داری بھی ہے۔۔۔۔ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر خدانخواستہ ایسا لمحہ آیا کہ فوج کو بیچ میں آنا پڑا تو کسی ممکنہ خونریزی سے پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ اس مداخلت کی پرچھائیاں زیادہ گہری نہ ہوں!

(4) چین، پاکستان کا ایک مخلص اور دیرینہ دوست ہے۔ اس نے بظاہر آج تک کسی دوست مُلک کے اندرونی سیاسی حالات میں مداخلت نہیں کی۔ یہ چین کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل کارنر سٹون ہے، لیکن آج اگر سی پیک کے تناظر میں دیکھیں تو پاکستان میں چین کے سٹیک ماضی میں کبھی بھی اتنے اہم اور وزنی نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ چین کا بہت کچھ CPEC کی کامیاب اور مسلسل (Uninterupted) تکمیل پر لگا ہوا ہے۔ اگر ماضی میں ہماری سویلین اور فوجی حکومتیں نازک اور ہنگامی لمحات میں واشنگٹن کی طرف دیکھتی رہی ہیں تو آج مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو بیجنگ کی طرف دیکھنے میں کوئی ہرج نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی ممکن ہے حکومت، چین کو اس دو نومبر کے مابعد کی صورتِ حال کے سلسلے میں کسی نہ کسی لیول کے اعتماد میں لے چکی ہو! اگر ایسا ہے تو چین کو باقاعدہ ایک ثالث کا کردار ادا کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے۔۔۔۔

عمران خان اور ان کے ہمرایوں کو بین الاقوامی معاملات و مسائل کی نزاکتوں کا وہ شعور حاصل نہیں جو مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کے چوٹی کے رہنماؤں کو حاصل ہے۔یہ دونوں سیاسی پارٹیاں تین تین باریاں لے چکی ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ اس قسم کے نازک لمحات میں کس سپر طاقت سے کیا کہنا ہے۔ یہ ادراک اور یہ تجربہ تحریک انصاف کے رہنماؤں کو حاصل نہیں۔ شاہ محمود قریشی کا بطور وزیر خارجہ تجربہ اگرچہ اس اہم موضوع کے بیرونی خدوخال (Contours) سے کچھ نہ کچھ آگاہی ضرور رکھتا ہو گالیکن یقیناًوہ تجربہ ویسا ’’بھرپور‘‘ اور ’’چشم دید‘‘ نہیں ہو گا جیسا ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اُن چوٹی کے قائدین کو حاصل ہے جو وزیراعظم اور صدرِ مملکت رہ چکے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کو اِس حوالے سے بھی کشادہ ظرفی سے کام لینا پڑے گا اور تحریک انصاف کی اس ناتجربہ کاری کو نگاہ میں رکھ کر تصادم کی بجائے درگزر کی پالیسی اپنانی ہو گی۔

قارئین گرامی! درج بالا چار منظر ناموں (Scenerios) کی یہ تصویر کشی کوئی حتمی تبصرہ یا تجزیہ نہیں۔ اچانک کوئی پانچویں یا چھٹی صورتِ حال ایسی بھی سامنے آ سکتی ہے جو میرے احاط�ۂ فکر میں نہ ہو اور سب سے آخر میں(آخری نہیں بلکہ بے حد ضروری) وہ رول ہے جو میڈیا نے پلے کرنا ہے۔ ہمارے بعض ٹی وی چینل ہر روز جو ٹاک شوز آن ائر کر رہے ہیں، ان میں مصالحت کی بجائے مخاصمت کا رجحان نظر آ رہا ہے۔ یہ وقت پوائنٹ سکورنگ کا نہیں۔ چینل مالکان کو انپے پروڈیوسر صاحبان اور اینکر حضرات/ خواتین کو بالخصوص ہدایات جاری کرنی چاہئیں کہ وہ جلتی پر تیل نہ گرائیں۔ پیمرا کو چاہیے کہ آنے والے ہفتوں میں ایسے پروگراموں کو بلیک آؤٹ کر دے جو ناظرین و سامعین کو انتہا پسندی کی طرف لے کر جا رہے ہوں۔ اگر بھارتی فلموں اور ڈراموں وغیرہ کے بعض Segments آف ائر کئے جا سکتے ہیں تو اس موضوع پر ایسا کرنے کی کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ گزشتہ15،16 برسوں میں میڈیا نے مارشل لا کا عروج و زوال بھی دیکھا، ملک کی دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں کی حکومتوں میں ان کی محدودات اور مقدورات کو بھی پرکھا اور گزشتہ آٹھ برسوں سے فوج کے رول کو بھی دیکھا ہے۔۔۔۔وقت آ گیا ہے کہ میڈیا ایسے پروگرام آن ائر کرے جو ’’دوبدو‘‘ ہونے کی پالیسی کی بجائے ’’یکسو‘‘ہونے کی طرف حاضرین و سامعین کی رہنمائی کریں۔

مزید :

کالم -