چیمبرز نے چھوٹے تاجروں کو ہمیشہ تالیاں بجانے کے لئے استعمال کیا

چیمبرز نے چھوٹے تاجروں کو ہمیشہ تالیاں بجانے کے لئے استعمال کیا

  

انٹرویو : نعیم الدین / غلام مرتضیٰ

تصاویر : عمران گیلانی

تعارف :

عتیق میر آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین ہیں اور کراچی کے سیاسی اور تجارتی حلقوں میں ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کراچی میں چھوٹے تاجروں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے بھرپور جدوجہد کی ہے اور کراچی اولڈ سٹی مارکیٹوں میں امن و امان کی بحالی انہی کی محنتوں کا ثمر ہے۔ بنیادی طور پر وہ فرنیچر انڈسٹری سے منسلک ہیں اور اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے ان کی خدمات قابل ستائش ہیں۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ نے عتیق میر سے خصوصی بات چیت کی ہے جو قارئین کی نذر ہے۔

بزنس پاکستان :پاکستان کی موجودہ اقتصادی صورت حال پر آپ کیا تبصرہ کریں گے ؟

عتیق میر: سال 2016ء میں موجودہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے منفی اثرات واضح طور پر محسوس کئے جارہے ہیں اس لئے تاجر برادری 2016ء کو تجارت کش سال قرار دیتی ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ہم نے بالعلموم پاکستان اور بالخصوص کراچی کی تاجر برادری کو اتنا زیادہ مایوس نہیں دیکھا جتنی مایوسی ان کو گزشتہ ایک سال کے دوران ہوئی ہے۔ جب حکومت نے بینکوں سے رقم نکلوانے پر ود ہولڈنگ ٹیکس کا اطلاق کیا تو عام خیال یہ تھا کہ وہ لوگ جو کسی بھی طرح ٹیکس کے دائرہ کار میں نہیں آتے مثال کے طور پر ریٹائرڈ افراد یا وہ افراد جنہوں نے کچھ رقم پس انداز کی ہو پر ہولڈنگ ٹیکس کا اطلاق نہیں ہوگا، لیکن اس حوالے سے بھی حکومت نے مایوس کیا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ عام افراد اور خصوصاً تاجر برادری نے بینکوں سے رقم نکلواکر اپنے پاس رکھ لی ہے اور تاجر برادری اب عموماً کاروباری لین دین کیش میں کرتی ہے۔ جس کیلئے انہوں نے پرانے پرچی سسٹم کا سہارا لیا ہوا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے۔ اور وہ عدم تحفظ کا بھی شکار ہیں۔ لیکن حکومت کے اس اقدام کی وجہ سے وہ یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہیں اس کے علاوہ حکومت نے پراپرٹی کے معاملات کو اپنے اقدامات کی وجہ سے بہت زیادہ پیچیدہ بنادیا ہے جس کی وجہ سے جائیداد کی خرید و فروخت پر سرمایہ کاری کا عمل تقریبا رک چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے افراد جو بہت زیادہ دولتمند ہیں لیکن ٹیکس نیٹ میں نہیں ہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ جبکہ وہ فراد جو پہلے سے ہی ٹیکس دے رہے ہیں ان پر ٹیکس کا مزید بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں تاکہ مزید افراد کو بھی ٹیکس کے دائرے کار میں از خود داخل ہونے کی جانب راغب کیا جاسکے لیکن تاحال حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کرنے کے بارے میں کوئی عندیہ نہیں دیا گیا جو میں سمجھتا ہوں کہ انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ٹیکس دینے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ان کو یوٹیلیٹی بلز یا خریداری پر خصوصی رعایت دی جائے تاکہ لوگ خوشی خوشی ٹیکس ادا کریں اور یہ محسوس کریں کہ ٹیکس کی ادائیگی سے ان کو فائدہ ہورہا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ ٹیکس میں ایسے شکایتی مراکز کھولے جائیں جہاں ٹیکس دہندگان اپنی شکایت کا اندراج کرواسکیں۔ ان اقدامات کو کئے بغیر نا تو پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل سکتا ہے اور نہ ہی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بزنس پاکستان : گزشتہ تین سال کے دوران خریداری کے رجحان میں آپ نے کیا تبدیلی محسوس کی ہے؟

عتیق میر: گزشتہ سال عید الفطر کے موقع پر کراچی میں 70ارب روپے کی خریداری کی گئی تھی جو ایک ریکارڈ ہے، لیکن رواں سال شہر میں خریداری کا رجحان 45تا 50ارب روپے تک محدود رہا۔ یہ ایک پہلی ضرب تصور کی جاتی ہے جو خریداروں کی قوت خرید پر لگائی گئی ہے کیونکہ لوگوں کی قوت خرید میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ اس کی وجہ مہنگائی ہے جس کا تناسب تسلسل کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں، تاجروں اور عوام کی بہت زیادہ حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ روزگار کے مواقع پیدا کئے جائیں اور اس کیلئے ضروری ہے کہ تاجروں کو کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے۔ کراچی میں امن و امان تو قائم ہوگیا ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ رینجرز و پاک فوج نے ناممکن کو ممکن بنادیا ہے۔ لیکن اس سے قبل کراچی سے صنعتیں منتقل ہونا شروع ہو گئی تھیں اور سرمائے کا انخلاء ہورہا تھا۔ پھر ستمبر 2013ء میں ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز ہوا جس کے ثمرات آج لوگوں کو مل رہے ہیں اور کراچی میں زندگی پھر سے رواں دواں ہے۔ آپریشن سے ہڑتالوں کا سلسلہ رک گیا ہے جبکہ بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان سے مکمل طور پر نجات مل گئی ہے جس کی وجہ سے کراچی کی عوام کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہوا ہے۔ سال 2016ء میں جشن آزادی کے موقع پر کراچی میں 10ارب روپے کے جھنڈے اور دیگر سامان کی بھی خریداری کی گئی جو انتہائی خوش آئند ہے۔

بزنس پاکستان : کراچی کی مارکیٹوں کو کس طرح عالمی معیار کے مطابق بنایا جاسکتا ہے اس کے لئے کیا منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے؟

عتیق میر: کراچی شہر گزشتہ 30سال سے ایک ایسی عمارت کی طرح ہے جو مسلسل زیر تعمیر ہے اس کی تعمیر کا کام بدقسمتی سے بار بار رک جاتاہے یہی وجہ ہے کہ کراچی کو آج سے 30سال پہلے ترقی اور اصلاحات کے اعتبار سے جس مقام پر ہونا چاہئے تھا وہ اس مقام پر نہیں ہے اور یہ بات انتہائی افسوسناک ہے۔ آج بھی کراچی میں پانی اور سیوریج سسٹم کے مسائل سمیت دیگر کئی مسائل جوں کے توں ہیں۔ جس کی وجہ سے کراچی ایک کھنڈر کا منظر پیش کرتا ہے۔ کراچی وہ شہر ہے جہاں کی سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں ، جگہ جگہ گندگی کے انبار لگے ہیں اور پارکنگ کے مسائل عروج پر ہیں۔ تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز تو ہوتا ہے لیکن جلد ہی یہ مہمات دم توڑ دیتی ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لئے تمام اداروں کو ایک پیج پر آکر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج کل کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی ایک نئی لہر اٹھی ہے جس نے کراچی کے شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پھر دوبارہ موبائل چھینے جا رہے ہیں اور دکانوں کے تالے بے دھڑک ہوکر توڑے جارہے ہیں جبکہ چور اور ڈاکو دندناتے پھر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی پنجرہ دوبارہ کھل گیا ہے۔ گزشتہ 5تا 6ماہ کے دوران لا تعداد جرائم پیشہ افراد نے شہر پر یلغار کردی ہے جہاں تک رینجرز کی بات ہے تو سارا کے سارا ملبہ رینجرز پر ڈال دیا جاتا ہے حتیٰ کہ گلیوں میں اگر گٹر بھی کھلے ہوئے ہوں تو تاجر رینجرز کے پاس جاتے ہیں وہ وزیراعلیٰ کے بجائے رینجرز سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ان کا کام کردے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر تھانے بند کردیئے جائیں تو شہر میں جرائم کم ہو جائیں گے۔ تھانے میں جرائم کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف کوئی کریک ڈاؤن نہیں ہوتا ہے۔ ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کی سطح کے لوگوں نے کبھی تھانے میں آکر جانچ پڑتال کرنے کی زحمت نہیں کی۔ ماضی میں ڈی ایس پی، ایس ڈی ایم تھانوں کے دورے کرتے تھے جبکہ ڈی آئی جی بذات خود اسنیپ چیکنگ کرتے تھے۔ لیکن اب یہ تمام چیزیں ناپید ہوچکی ہیں۔ سی پی ایل سی ایک فعال ادارہ تھا لیکن جب سے اس کے سربراہ کو تبدیل کیا گیا ہے وہ ادارہ بالکل ناکارہ ہوکر رہ گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کیا جائے اور افسران کی تعیناتی میرٹ پر کی جائے۔

بزنس پاکستان : کسی زمانے میں چیمبرز چھوٹے تاجروں کے لئے خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام کرتے تھے لیکن اب ایسا نظر نہیں آتا اس کی کیا وجہ ہے ؟

عتیق میر: چاہے وہ چیمبرز ہوں یا فیڈریشن ان میں سے کسی فورم پر چھوٹے تاجروں کے لئے کوئی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر چھوٹے تاجروں کی بات کی جائے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ حکومت کو جھکاؤ چھوٹے تاجروں کی جانب ہوجائے اور ان کی اہمیت ختم ہوجائے۔ چیمبرز نے چھوٹے تاجروں کو اپنے پروگراموں میں ہمیشہ تالیاں بجانے کیلئے بلایا ہے۔ میں اس کو کچھ اس طرح بیان کرتا ہوں کہ چھوٹے تاجر چیمبرز کے پروگراموں میں جاتے ہیں وہ وہاں تالیاں بجاتے ہیں پھر کھانا کھا کر واپس آجاتے ہیں جبکہ ان کے مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ یعنی ’’تالیاں، تھالیاں اور پھر وہی گالیاں‘‘۔ بڑے چیمبرز کے پاس چھوٹے تاجروں کیلئے یہی کچھ ہے جو میں نے پہلے بیان کیا ہے۔

بزنس پاکستان : فیڈریشن چھوٹے تاجروں کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کیا کردار ادا کررہا ہے؟

عتیق میر: فیڈریشن دراصل بڑے صنعتکاروں کا ایک پکنک پوائنٹ ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ چاہے فیڈریشن ہو یا چیمبر جہاں سرکار کی مداخلت بڑھ جاتی ہے وہاں تاجر یا صنعتکار اپنی مرضی کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کرواسکتے۔

بزنس پاکستان : اگر ایسا ہے تو چھوٹے تاجروں کے لئے کونسا پلیٹ فارم رہ جاتا ہے جہاں وہ اپنے مسائل کو حل کرواسکیں ؟

عتیق میر: کراچی کی حدتک آل کراچی تاجر اتحاد ایک ایسا فورم ہے جس کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ چھوٹے تاجروں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھائے۔ کراچی میں امن و امان کی خراب صورت حال کی ذمے داری یہاں کی برسراقتدار پارٹی ہے اور آج بھی ہم اس کی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہے ہیں۔ ہم نے ان سے ناراضگی کا اظہار کیا اور ان کے خلاف آواز اٹھائی، اب خدا کا شکر ہے کہ متعلقہ اداروں نے ہماری آواز سنی اور حالات اب آپ کے سامنے ہیں۔ موجودہ آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر جو پہلے ڈی جی رینجرز تھے انہوں نے کراچی میں امن کے مشن کا آغاز کیا تھا اور موجودہ ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے ان کے ان کے اس مشن کو آگے بڑھایا ہے اور ان سے بھی تاجروں کو اچھی توقعات ہیں۔

بزنس پاکستان : چھوٹے تاجروں کے چیمبر کے قیام کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے ؟

عتیق میر: آل کراچی تاجر اتحاد کے فورم کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم چھوٹے تاجروں کے مسائل کو حل کروانے کی جدوجہد کررہے ہیں، کیونکہ چھوٹے تاجروں کے چیمبر کے قیام کا ایسا تصور جس کے تحت ہم سمجھتے ہوں کہ ہم آواز اٹھاسکتے ہیں وہ اب تک کسی آئین کے تحت سامنے نہیں آیا ہے۔ ہاں گزشتہ دنوں اسمال چیمبر کے نام سے مذاق کیا گیا تھا کیونکہ ایک ایسی چیز جس کا کوئی ایجنڈا نہ ہوں تو نہ ہی کوئی قواعد و ضوابط ہوں اس کا اعلان کرنا اپنا مذاق اڑوانے کے مترادف ہے۔ لیکن مستقبل میں اس حوالے سے کام کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ میری یہ خواہش ہے کہ مستقبل میں ایک ایسا فورم بنایا جائے جس کو حکومت چھوٹے تاجروں کے چیمبر کے طور پر تسلیم کرے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -