مارکیٹنگ کمپنیوں اور کھاد ڈیلرزنے یوریا کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا

مارکیٹنگ کمپنیوں اور کھاد ڈیلرزنے یوریا کھاد کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر ...

  

لاہور (عامر بٹ سے )مارکیٹنگ کمپنیوں اور کھاد ڈیلرزنے حکومتی نوٹفکیشن کے بغیر یوریا کھاد کی فی بوری قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ، کھاد ڈیلرز کی جانب سے ذخیرہ اندوزی کا بہانہ بنا کر 150سے لے کر 2 سو روپے اضافے کے ساتھ فی بوری وصول کی جانے لگی ، کھاد کی فی بوری کی قیمت 2 ہزار سے تجاوز کر گئی کسانوں اور کاشتکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ،کھاد کی ذخیرہ اندوزی کے باعث جعلی کھاد سپلائی کرنے والے ڈیلرز بھی متحرک ہو گئے بچی کچی فصلیں بھی جعلی کھاد کے استعمال تباہ ہونے کا خدشہ ، سیلاب سے تباہ و برباد ہونے والے کسان اور کاشتکار وں نے مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کی جانب سے کھاد کے خود ساختہ اضافہ کیا جانے کے حوالے سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا تفصیلاے کے مطابق حکومت پاکستان اور پنجاب کی جانب سے کھاد کی قیمتوں میں اضافے کئے بغیر ہی مارکیٹنگ کمپنیوں نے اس میں خود ساختہ اضافہ کیا ہے ۔بیشتر ڈیلرز کھاد دوکانوں پر مہیا نہ ہونے کا بہانہ بنا کر اس کو مجبوری کی بنیادوں پر مہنگے فروخت کرنے میں مصروف عمل ہیں جس کے باعث صوبائی دارلحکومت سمیت پورے پنجاب بھر میں کھاد کی بوری کی قیمت 2ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ۔ 4سال قبل یوریا کھاد کی فی بوری کی قیمت 8سو روپے حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی تھی جس میں 3سو روپے کا اضافہ کر دیا گیا تھا بعدازاں ایک سال کے دوران کی اس کی قیمت میں 2سو روپے کا اضافہ کر دیا گیا جس کی وجہ سے کھاد کی فی بوری کی قیمت 13سو روپے تک پہنچ گئی تھی مگر اسی کے ساتھ ساتھ ایک

مرتبہ پھر اس کی قیمت میں 4 سو روپے کا اضافہ کر دیا گیا تھا جس کے کاشتکاروں اور کسانوں کو اس کی قیمت 17 سو بھی زیادہ خریدنے پر مجبور کر دیا گیا تھا اس کے بعد 2سال تک حکومت کی جانب سے یوریا کھاد کی قیمت میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا تھا ۔ بالاخر گزشتہ سال حکومت پاکستان کی جانب سے کھاد کی فی بوری کی قیمت میں اضافہ کر کے اس کی قیمت میں 18سو روپے سے بھی تجاوز کر دی گئی تھی ۔ گزشتہ 10مہینوں سے مارکیٹنگ کمپنیاں اور یوریا کھاد کے ڈیلرز حکومت کی جانب سے مقرر کردہ طے کئے گئے نرخوں کے مطابق فروخت کر رہے تھے مگر؂ گزشتہ چند روز سے یوریا کھاد کی فی بوری کی قیمت میں 150روپے سے لے کر 2 سو روپے کا خود ساختہ اضافہ دیکھنے میں نظر آ رہا ہے ۔

؂جس کو حکومت پاکستان کی جانب سے نہیں بڑھایا گیا ۔مگر چند منافع خور ڈیلرز اور مارکیٹنگ کمپنیوں نے حکومتی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے اس میں اضافہ کیا ہے دریں اثنا یوریا کھاد کے ڈیلرز سے اگر کوئی کاشتکار یا کسان کھاد کی بوری خریدنے جاتا ہے تو اس کو کہا کہ جاتا ہے کہ یوریا کھاد کی قلت پیدا ہو گئی ہے کسانوں کے اسرار اور مجبور کرنے پر مخصوص ڈیلرز اپنی مرضی کے نرخوں میں اس کی فروخت جاری رکھے ہوئے ہیں جن کی روک تھام کے لئے کوئی حکومتی ادارہ کاروائی نہیں کر رہا ہے حکومت پاکستان کے معیار کے مطابق پاکستان میں یوریا کھاد کی پیداوار میں مصروف عمل سب سے فوجی فرٹیلائزر کمپنی لمٹیڈ ، نیشنل فرٹیلائزر کمپنی لمٹیڈ اور فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمٹیڈ شامل ہیں جو پاکستان میں کسانوں اور کاشتکاروں کی ضروریات کو پورا کرتیں ہیں اس کے باوجود پاکستان میں زمینیں کمزور ہونے کی وجہ سے یوریا کھاد کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کو بیرون ممالک سے برامد بھی کروایا جاتا ہے جس پر حکومت پاکستان 50فیصدی سبسڈی کے دعوے کرتی ہے کسان تنظیموں کے عہدیداروں کی جانب سے شدید مذمت کی جارہی ہے اس ناجائر منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے دریں اثنا کسان برادری اور کاشتکار اپنا جمہوری حق احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔

مزید :

کامرس -