سرکاری سکولوں میں بے ضابطگیوں کا میگا سکینڈل عام انکوائری میں تبدیل

سرکاری سکولوں میں بے ضابطگیوں کا میگا سکینڈل عام انکوائری میں تبدیل

  

 لاہور(لیاقت کھرل) شہر کے سرکاری سکولوں میں ایجوکیٹرز کی بھرتی ،اساتذہ کی انٹر ڈسٹرکٹ تبادلوں اور نان سیلری بجٹ میں پائی جانے والی بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کے خلاف کی جانے والی انکوائری کو پہلے میگا سکینڈل کی شکل دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔وزیر اعلی کی جانب سے ممکنہ ایکشن لینے کے احکامات سامنے آنے پر اربوں روپے کے اس کرپشن کے سکینڈل کو عام انکوائری میں تبدیل کیا جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے ۔محکمہ سکول ایجوکیشنز لاہور کے اعلیٰ افسران جن میں ڈی ای او کینٹ شیخ حسنات احمد ،ڈی ای او فی میل کینٹ رخسانہ منظور ،آفتاب احمد اور محکمہ سکولز ایجوکیشن لاہور کے ایک درجن سے زائد افسروں اور ملازمین کے خلاف بے ضابطگیوں اور بے قاعدگیوں کی انکوائری کو انڈر گراونڈ اور بعد میں سب اوکے کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے محکمہ اینٹی کرپشن سے انڈر ہینڈ بات چیت شروع کر دی گئی ہے ۔"پاکستان " کو محکمہ سکول ایجوکیشن لاہور کے ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق محکمہ تعلیم لاہور کے افسران نے ایجوکیٹرز کی مرحلہ وار بھرتی میں اختیارات سے تجاوز کیا اور بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی گئی ۔اسی طرح کئی سالوں سے اساتذہ کی ٹرانسفر پر پابندی اٹھنے کے بعد اساتذہ کی انٹر ڈسٹرکٹ تبادلوں میں 20ہزار سے 50ہزار تک ریٹ مقرر کئے گئے ۔محکمہ اینٹی کرپشن کے ذرائع کے مطابق سینکڑوں اساتذہ سے تبادلوں کے نام پر لوٹ مار کی گئی ۔اسی طرح نان سیلری بجٹ میں اربوں روپے خرد برد کئے گئے ۔جس میں بے ضابطگیاں سامنے آنے پر اینٹی کرپشن حکام نے محکمہ سکول ایجوکیشن لاہور سے ریکارڈ طلب کیا تو اربوں روپے نیچے اوپر کر کے خرد برد کئے جانے پر پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب کو رپورٹ بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا کہ نان سیلری بجٹ میں محکمہ تعلیم نے 7ارب کے ملنے والے فنڈز میں بڑے پیمانے پر اختیارات سے تجاوز اور لوٹ مار کی ہے ۔بعد ازاں محکمہ سکول ایجوکیشنز اور محکمہ اینٹی کرپشن کے درمیان انڈر ہینڈ بات چیت سامنے آئی جس میں وزیر اعلیٰ کو بھجوائی جانے والی رپورٹ میں ان تینوں بڑے بڑے سکینڈلز کو میگا سکینڈلز کی شکل دینے کی بجائے الگ الگ تین انکوائریوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔تاکہ محکمہ تعلیم لاہور کے اساتذہ ،ڈی ای اوز ،ڈپٹی ڈی ای اوز ،اے ای اوز اور ہیڈ ٹیچرز کے خلاف بڑے پیمانے پر انکوائری اور تحقیقات کے معاملہ کو گول کیا جا سکے اور محکمہ تعلیم لاہور کے ساتھ ساتھ بے ضابطگیوں کا یہ سلسلہ پنجاب کے سکولوں تک نہ بڑھ سکے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ اس بڑے سکینڈل کو دبانے کے لئے محکمہ سکولز ایجوکیشن نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے ہیں جبکہ محکمہ اینٹی کرپشن کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری ابھی بند نہیں ہوئی ۔انویسٹی گیشن کا سلسلہ جاری ہے ۔ذمہ داروں کو نوٹس جاری کئے جا رہے ہیں ۔فی الحال اساتذہ کی ٹرانسفر میں پائی جانے والی کرپشن کے انکشاف پر ایک افسر گرفتار جبکہ دو اعلیٰ افسروں کو محکمہ تعلیم کی ڈسپوزل پر بھجوایا گیا ہے اور ان کے خلاف بھی انکوائری کی جا رہی ہے جبکہ محکمہ تعلیم لاہور کے اساتذہ اور ڈی او اوز اور ڈپٹی ڈی او اوز میں پائی جانے والی خوف کی فزا بڑھ گئی ہے اور اساتذہ، ہیڈ ماسٹروں اور ڈی ای اوز سمیت ڈپٹی ڈی ای اوز اور اے ای اوز نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کر دیئے ہیں ۔اس حوالے سے ای ڈی او تعلیم لاہور طارق رفیق کا کہنا ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار کرنے والے کسی بھی افسر یا ٹیچر کو معاف نہیں کیا جائے گا بچوں کا پیسہ بچوں پر خرچ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق کوالٹی ایجوکیشن پر کسی قسم کاکمپرومائز نہیں کیا جائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -