بیگم نصرت بھٹو کو خراج عقیدت

بیگم نصرت بھٹو کو خراج عقیدت
 بیگم نصرت بھٹو کو خراج عقیدت

  

آپ بھٹو خاندان کی سیاست اورنظریات سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر اس کی جدوجہد اور قربانیوں سے نہیں، اس خاندان میں ایک خاتون ایسی بھی ہیں جنہیں یاد کرنا شاید اب پیپلزپارٹی والوں کے بھی ضروری نہیں رہا، بشیر ریاض صاحب نے وہ الفاظ یاد کروا دئیے جو ایک پارٹی رہنما نے ان کی پہلی برسی پر کہے،’بیگم نصرت بھٹو عہد ماضی ہیں اوریہ ہمارا دور ہے‘مگر وہ افراد، جماعتیں اور قومیں کب زندہ رہتی ہیں جو اپنے ماضی کو فراموش کر دیتی ہیں، اپنے سر سے وہ تاج اتار دیتی ہیں جو تاریخ نے کسی اعزاز کی طرح انہیں پہنائے ہوتے ہیں۔نصرت بھٹو سے زیادہ خوش قسمت کون ہو گا کہ ان کے سسر وزیراعظم تھے، ان کے شوہر وزیراعظم بنے اور پھر ان کی بیٹی وزیراعظم بنیں، ان کے داماد کو ملک کی صدارت ملی مگر دوسری طرف میں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایسی کسی بدقسمت خاتون کوبھی نہیں جانتا جس نے بیگم صاحبہ سے زیادہ دکھ سہے ہوں، جس کے شوہر کو ایک فوجی آمر نے پھانسی دے دی ہو، جس کا ایک بیٹا بیرون ملک زہر دے کر اور دوسرا اپنی ہی بیٹی کی حکمرانی میں پراسرار انداز میں مار ڈالا گیا ہو، جس کی انتہائی بہادر بیٹی کوبھی ہزاروں کے سامنے بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا گیا ہو۔ کہتے ہیں کہ بیگم صاحبہ کو قومے میں ہونے کی وجہ سے کبھی بتایا ہی نہیں گیا کہ جمہوریت کی جدوجہد ان کے خاندان سے بیٹی کی قربانی بھی لے چکی ہے۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ بھٹو خاندان کو زندگی کا آئینی حق سیاست سے دور رہنے کی شرط کے ساتھ دیا جاتا ہے اورحیران ہوتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کے نواسے اور بے نظیر بھٹو کے اکلوتے بیٹے کو بھی اسی خونی سیاست کے حوالے کر دیاگیا ہے، بہت حوصلہ ہے اس خاندان کا،میرا ظرف تو اجازت نہیں دیتا کہ بھٹو خاندان کی جرأت اور ہمت سے انکارکروں۔

بیگم نصرت بھٹو ایک عورت کا نام نہیں، ایک عہد کا نام ہے، ایک نظریے کا نام ہے، ایک جدوجہد کا نام ہے، مجھے افسوس ہے کہ میری ان سے زیادہ ملاقاتیں نہیں رہیں،میں نے جب عملی صحافت میں قدم رکھا تو بیگم نصرت بھٹو، بیگم نصرت بھٹو نہیں رہی تھیں، وہ بہت حد تک ایک زندہ لاش میں تبدیل ہو چکی تھیں، وہ بھٹو کو مار دئیے جانے کے بعد قیدیں اور جلاوطنیاں بھگت چکی تھیں ،انہیں اپنے بیٹے مرتضیٰ بھٹو اور بیٹی بے نظیر بھٹو کے درمیان سیاسی اختلافات پربھی شدید افسوس تھا۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں اور پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے شب خون مارتے ہوئے انہیں پارٹی کی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر سبکدوش کر دیا تھا، یہ سیاست بھی عجب شے ہے جس میں ہر بات، ہر دکھ ممکن ہے۔ اگر محترمہ نصرت بھٹو اپنی وفات تک ایکٹو رہتیں تو وہ اپنے شوہر کی جماعت کے فیصلوں پر کس طرح اثرانداز ہوتیں اور کس حد تک اثرانداز ہوتیں۔کیا وہ ان لوگوں کو پارٹی کے عہدوں پر برداشت کر لیتیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی پھانسی پر مٹھائیاں تقسیم کی تھیں ۔ وہ پیپلزپارٹی کے پجارو پاکٹل پارٹی مشہور ہونے کے بعد بھی حقیقی اور نظریاتی کارکنوں کی خیرخواہ اور دوست سمجھی جاتی تھیں، وہ اپنے ایک ایسے ہی کارکن اکبر خان کی بیٹی کی شادی پر سندھ سے اچھرہ لاہور تشریف لے آئیں، یہ وہ زمانہ تھا جب بیماری کے باوجود ان کی نقل و حرکت بہت حد تک محدود ہو چکی تھی۔

ہماری سیاسی تاریخ عورتوں کی بہادرانہ جدوجہد سے بھری ہوئی ہے، میں بیگم نصرت بھٹو کو اسی قطار میں دیکھتا ہوں جس میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جنا ح ان سے پہلے کھڑی تھیں، انہوں نے اپنے بھائی کے ساتھ بھی عظیم الشان جدوجہد کی اور اپنے بھائی کے انتقال کے بعد پاکستان کے پہلے فوجی آمرایوب خان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اس کے مقابلے میں صدارتی انتخاب تک لڑا۔ یحییٰ خان کی آمریت کا دور مختصر رہا مگر ہمیں ہماری تاریخ کا سب سے بڑا نقصان دے گیا، بیگم نصرت بھٹو پیپلزپارٹی کی سربراہی چار اپریل1979ء کو کانٹوں کے کسی ہار کی طرح ملی تھی اور جو انہوں نے دس جنوری 1984ء تک پہنے رکھا۔ اسی دوران انہیں کینسر کا مرض لاحق ہو گیا تو فوجی حکومت نے انہیں 1982ء میں لندن جانے کی اجازت دے دی، انہوں نے ایک طویل وقت سہالہ میں بھی گزارا۔ہمارے بہت سارے دوستوں کے لئے نصرت بھٹو کی ذات اور نظریات قابل قبول نہیں تھے ، وہ برقعہ پہننا پسند نہیں کرتی تھیں، انہوں نے عورتوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے لئے ہی ٹرین مارچ ہی نہیں کیا بلکہ اپنی پارٹی میں لیبر ونگ کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ہم پیپلزپارٹی کو غریبوں اور مزدوروں کی پارٹی کہتے ہیں تواس پارٹی کو یہ پہچان دینے میں بیگم نصرت بھٹو نے بھی بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ضیاء دور میں اسلام جب سیاست کے لئے استعمال ہوا تو بیگم صاحبہ کے لائف سٹائیل کو قابل اعتراض بنا کر پیش کیا گیا، اس نکتہ نظرسے متاثر ہونے والے نوجوانوں میں سے ایک میں بھی تھا اور آج غیر جانبداری کے ساتھ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچتا ہوں کہ ماں ، بیٹی نے کیسے کیسے خوفنا ک پروپیگنڈے کا سامنا کیا۔

میں نے بیگم نصرت بھٹو کو ضیا ء الحق کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا مگر محترمہ فاطمہ علی جناح اور بیگم نصرت بھٹو کے بعد اسی انداز میں جدوجہد کرتے ہوئے بیگم کلثوم نواز شریف کو ضرور دیکھا ہے۔ کیا دلچسپ بات ہے کہ یہ تینوں خواتین اپنے اپنے دور کے آمروں کے خلاف سینہ سپر ہوئیں۔ بیگم کلثوم نواز نے وہ راز جان لیا جو بیگم نصرت بھٹو نے نہیں جانا تھا ورنہ وہ اپنے شوہر کو اسی طرح منا اور بچا لیتیں جس طرح بیگم کلثوم نواز شریف نے منایا اور بچایا۔ بھلا یہ کب سوچا جا سکتا تھا کہ اقتدار سے محروم کرنے والے جان سے بھی محروم کر دیں گے، بہت سارے دوست کہتے ہیں کہ خود بھٹو مرحوم کو بھی آخر دم تک یہ یقین تھا کہ ضیاء الحق انہیں پھانسی پر نہیں لٹکائے گا، وہ محض انہیں ڈر ارہا ہے۔کیا دلچسپ امر ہے کہ ہم جب بہادری کے ساتھ کی جانے والی کسی جدوجہد کا ذکر کرتے ہیں تو اسے مردانہ وار مقابلہ کرنے کا نام دیتے ہیں مگر پاکستان کی سیاست میں مردانہ وار مقابلہ کرنے والوں میں مرد وں سے زیادہ اہم اور نمایاں نام تو ان عورتوں کا ہے ، ہماری مارشل لاؤں سے بھری تاریخ بتاتی ہے کہ جب بات کسی آمر سے لڑائی کی ہوتی ہے تو بڑے بڑے شملوں اور جثوں والے مرد، بھیڑ بن جاتے ہیں، پاکستانی قوم کی سیاسی تاریخ لکھی جائے تو ان خواتین کو جدوجہد کو سامنے رکھتے ہوئے لکھا جانا چاہئے کہ جب بھی اس ملک میں مارشل لاء لگا تو یہ قوم اس کے خلاف زنانہ وار لڑی، ان خواتین نے ہماری سیاسی لغت کی تراکیب ،اس کے مفاہیم اور تشریحات ہی تبدیل کر کے رکھ دی ہیں۔

بیگم نصرت بھٹونے پیپلزپارٹی کو اس دور میں زندہ رکھا جب ذوالفقارعلی بھٹو کے ساتھی اپنی غداریوں کے لئے نت نئے جواز تراش رہے تھے، ذوالفقار علی بھٹو کے ووٹ بنک پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے فکری مغالطے پیدا کر رہے تھے۔میر مرتضیٰ بھٹو کی طرف سے اس دورمیں کئے جانے والے بہت سارے فیصلوں پر اعتراضات اب بھی ہیں مگر کیا اس کی بنیاد پر آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کے مطالبے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ابھی پچھلے عشرے میں جس طرح پرویز مشرف مسلم لیگ نون کو ختم کرنا چاہتے تھے اس سے بھی کہیں زیادہ شدت کے ساتھ ضیاء الحق پیپلزپارٹی کا خاتمہ کرنے کے درپے تھے۔ میں نے بیگم نصرت بھٹو کی پانچویں برسی کے موقعے پر محترم نویدچودھری کی سوشل میڈیا وال پر1993ء کے انتخابات کے موقعے پر بیگم نصرت بھٹو کی کچھ تصاویر دیکھیں، ناشتے کے موقعے پر جہانگیر بدر اور دیگر کارکن بھی ان کے ساتھ نظر آ رہے تھے۔ مجھے شدت کے ساتھ احساس ہونے لگا کہ خود پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے بیگم نصر ت بھٹو کا قرض اس طرح نہیں چکایا جس طر ح چکائے جانے کا حق تھا، سوچا، میں انہیں خراج عقیدت پیش کروں،پیپلزپارٹی کے قربانیاں دینے والے، ماریں اور کوڑے کھانے والے ، ان نظریاتی کارکنوں کے ساتھ اظہار افسوس کروں جن پربھٹومرحوم کے قاتلوں کے ساتھیوں کی جی حضوری کسی بوجھ کی طرح لاد دی گئی ہے۔

مزید :

کالم -