فرسٹ ایئر کے پرچوں کی ری چیکنگ کا عمل خانہ پوری تک محدود طلباء بورڈ آفس میں رل گئے

فرسٹ ایئر کے پرچوں کی ری چیکنگ کا عمل خانہ پوری تک محدود طلباء بورڈ آفس میں رل ...

  

لاہور (دیبا مرزا :تصاویر ندیم احمد ) فرسٹ ایئر کے پرچوں کی ری چیکنگ کا عمل محض خانہ پوری تک محدود ہو کر رہ گیا، ری چیکنگ کی مد میں بھاری فیس جمع کروانے کے باوجود طلبہ روزانہ کی بنیاد پر لاہور بورڈ کے چکر لگانے پر مجبور ہیں، طلباء کا احتجاج بھی رنگ نہ لایا، بورڈ حکام اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر قائم، ہونہار اور ٹاپرز طالب علم بورڈ کے رویئے سے مایوس نظر آنے لگے،احتجاج کے بعد ہمیں ری چیکنگ کروانے اور نمبر لگوانے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی، لیکن اب تک صورتِ حال جوں کی توں ہے ری چیکنگ کے لئے فیس جمع کروانے کے باوجود بورڈ کے چکر لگ رہے ہیں، لیکن کوئی پُرسان حال نہیں۔ لاہور بورڈ کے باہر آئے طالب علموں اور والدین نے بورڈ حکام کے رویئے کے خلاف شکایتوں کے انبار لگا دیئے۔تفصیلی سروے کے مطابق فرسٹ ایئر کے پرچوں کی ری چیکنگ کا عمل جاری ہے،لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، طالب علموں کی جانب سے احتجاج کرنے کے باوجود ابھی تک ری چیکنگ اور ری مارکنگ کا عمل مکمل نہیں ہو سکا، عمل مکمل ہونا تو ایک طرف ایک ماہ سے ری چیکنگ فیس جمع کروانے کے باوجود ابھی تک جوابی پیغام بھی موصول نہیں ہوئے ہیں۔ طالب علم اور والدین شدید ذہنی انتشار کا شکار ہیں۔ دوسری جانب طالب علموں کے ساتھ بورڈ حکام کا رویہ روایتی ہٹ دھرمی کا عکاس ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کی جانب سے کئے گئے سروے میں لاہور بورڈ کے باہر آئے ہوئے طالب علموں اور والدین نے شکایتوں کے انبار لگا دیئے۔ جوہر ٹاؤن کی مسز ارشد نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے ایک ماہ ہو گیا ہے کہ مَیں اپنے بیٹے کے پیپر کی ری چیکنگ کے لئے بورڈ کے چکر لگا رہی ہوں۔20ستمبر کو ری چیکنگ کے لئے 1250روپے فیس جمع کروائی تھی، آج تک کوئی جوابی میسج موصول نہیں ہوا۔ روزانہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ اس طرح ری چیکنگ کے لئے آئے ہوئے دوسرے طالب علم محتشم، دانش، کاشف، محمد لائق، محمد فائق، اور طیبہ کا کہنا ہے کہ ری چیکنگ کرنا تو دور کی بات، ہمیں روزانہ محض طفل تسلیاں دے کر واپس بھیج دیا جاتا ہے، جن بچوں نے پچھلے سال ٹاپ کیا تھا اس مرتبہ غلط ری چیکنگ کی وجہ سے50ء فیصد نمبر بھی نہیں حاصل کر سکے۔ پنجاب کالج کے طالب علم محمد فائق اور محمد لائق نے بتایا کہ پچھلے سال ہم دونوں بھائیوں نے بورڈ میں ٹاپ کیا تھا اور اس مرتبہ ہمیں50فیصد نمبر بھی نہیں دیئے گئے، احتجاج کے بعد بائی ہینڈ درخواست بھی جمع کروائی جس کا کوئی جواب نہیں آیا، پھر آن لائن بھی فیس جمع کروائی جس کا جوابی میسج تو ضرور موصول ہوا لیکن آج ری چیکنگ کے بعد بھی نمبروں میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا، محض خانہ پوری کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بورڈ حکام کا رویہ ہمارے ساتھ نہایت ہی مایوس کن ہے ہم ملک و قوم کے معمار ہیں اس طرح کے ناروا سلوک سے ہمارے ذہنوں میں انتشار پیدا ہوتا ہے، والدین الگ پریشان ہیں اور ری چیکنگ فیس تو ویسے ہی غریب بچوں کی دسترس سے باہر ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ہمارے اس ری چیکنگ کے مسئلے کو جلد از جلد حل کریں تاکہ ہم اپنی پڑھائی پر توجہ دے سکیں۔دوسری جانب ترجمان لاہور بورڈ کی جانب سے سب اچھا کا الا پ راگا جا رہا ہے ،ان کا کہنا ہے ہے کہ ری چیکنگ کا عمل جاری ہے اور بچوں سے ہر ممکن تعاون کیا جا رہا ہے ۔۔

مزید :

علاقائی -