نیٹو کی تاریخ میں پہلی بار انٹیلی جنس سربراہ کی تقرری

نیٹو کی تاریخ میں پہلی بار انٹیلی جنس سربراہ کی تقرری

  

برسلز(این این آئی)مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی تاریخ میں پہلی بار اس عسکری بلاک کے ایک نئے انٹیلی جنس سربراہ کی تقرری عمل میں آئی ہے۔ اس شعبے میں نیٹو کا اولین سربراہ آرنٹ فرائٹاگ فان لورِنگ ہوفن کو بنایا گیا ہے، جن کا تعلق جرمنی سے ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بیلجیم کے دارالحکومت برسلز سے، جہا?ں نیٹو کے صدر دفاتر قائم ہیں مغربی دفاعی اتحاد کے اولین انٹیلی جنس چیف مقرر کیے جانے والے فرائٹاگ فان لورِنگ ہوفن ماضی میں جرمنی کے وفاقی خفیہ ادارے کے نائب سربراہ رہ چکے ہیں۔

نیٹو کے ایک ترجمان نے بتایا کہ فرائٹاگ فان لورِنگ ہوفن کی یہ تقرری گزشتہ روز عمل میں آئی۔ ترجمان کے مطابق اپنے فرائض کی نوعیت کے لحاظ سے انٹیلی جنس امور کے یہ جرمن ماہر نیٹو کے ’نائب سیکرٹری جنرل برائے انٹیلی جنس اور سکیورٹی امور‘ ہوں گے۔ان کی بنیادی ذمے داری ماہرین کی ایک ایسی ٹیم کی سربراہی ہو گی، جس کا کام نیٹو کی رکن تمام 28 ریاستوں کے قومی خفیہ اداروں کی کارکردگی کو سکیورٹی نقطہ نظر سے مربوط بنانا اور ان کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کا تجزیہ کرنا ہو گا۔نیٹو کے ترجمان نے مزید بتایا کہ اس اولین تقرری کے ساتھ اس بلاک میں انٹیلی جنس کی سطح پر روس اور روسی خفیہ اداروں کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ نیٹو کی انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کو بھی بہتر بنایا جا سکے گا۔نیٹو کے ترجمان کے بقول یہ تقرری اس لیے بھی ضروری تھی کہ دو درجن سے زائد ملکوں کے دفاعی اتحاد کے طور پر نیٹو ایک ایسی تنظیم ہے، جس کا اپنا کوئی خفیہ ادارہ نہیں ہے۔ فرائٹاگ فان لورِنگ ہوفن اپنی نئی ذمے داریاں سال رواں کے اختتام سے پہلے سنبھال لیں گے

مزید :

عالمی منظر -