اسلام آباد کا منظر نامہ اور پنجاب پولیس

اسلام آباد کا منظر نامہ اور پنجاب پولیس
اسلام آباد کا منظر نامہ اور پنجاب پولیس

  

تبدیلی ایک خوفناک اور خطرناک چیز ہے۔ اس کی خواہش بھی ہوتی ہے اور اس کا خو ف بھی ہو تا ہے۔ پاکستان کی سیاست بھی اس وقت تبدیلی کی خواہش اور خوف کا شکار لگ رہی ہے۔ جو تبدیلی کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ بھی اس کے خوف کا شکار ہیں،جو تبدیلی کا راستہ روک رہے ہیں وہ بھی کہیں نہ کہیں کسی اور شکل میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔

ایک طرف وزیراعظم میاں نواز شریف کے آنسوؤں نے بحث چھیڑ دی ہے۔ پانامہ کا خوف ہے۔ تبدیلی کا خوف ہے۔ یا عوام کا درد ہے،جو بھی ہے اچھا ہے۔ قابل ستائش ہے۔ دیر آیا اچھا آیا کے مصداق قابل قبول ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے تبدیلی کا بگل بجا دیا ہے۔مَیں کہہ رہا ہوں کہ سپریم کورٹ نے اسلام آباد کو بند کرنے والوں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کو اشارہ ہو گیا ہے۔ مَیں کہہ رہا ہوں کہ سپریم کورٹ نے تمام اشارے اُلٹ دیئے ہیں۔اس نے تو اشارے کرنے والوں کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ اسی لئے تو میاں نواز شریف بار بار سپریم کورٹ پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں ۔ اور عمران خان اسلام آباد بند کرنے پر بضد ہیں۔ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں کہہ رہے کہ انہیں سپریم کورٹ پر اعتماد ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے ملزم کو تو عدالتوں پر اعتماد ہے، لیکن مدعی کو عدالت پر اعتماد بھی نہیں ہے اور اس کے پاس اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مدعی کے پاس ملزم کے خلاف الزام تو ہیں ثبوت نہیں، جبکہ عدالت ثبوت مانگے گی۔ جیسے دھاندلی کے خلاف مانگے گئے۔

لوگ کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے یک دم پانامہ کی سماعت شروع کر کے میاں نواز شریف کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔مَیں کہتا ہوں کہ اگر میاں نواز شریف کو گھر بھیجنے کا کوئی بھی غیر جمہوری پلان کہیں بھی موجود تھا تو سپریم کورٹ نے یک دم پاناما کی سماعت شروع کر کے اس پلان کو نا کام کر دیا ہے۔وہ کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ نواز شریف کو ہٹانے کے لئے میدان میں آئی ہے۔مَیں کہہ رہا ہوں کہ سپریم کورٹ نواز شریف کو مکمل انصاف اور دفاع کا موقع دینے کے لئے میدان میں آئی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سیدھا سادہ کیس ہے۔ مَیں کہہ رہا ہوں کہ یہ دھاندلی جیسا سیدھا ساد ہ کیس ہے اور اس کا انجام بھی دھاندلی جیسا ہی ہو گا۔ وہ جو دھاندلی کا کیس ہار گئے تھے وہ پانامہ کا کیس بھی ہار گئے تو کیا ہو گا۔

اب یہ کوئی سوال نہیں کہ اسلام آباد کو بند کرنے سے کیا میاں نواز شریف کی حکومت چلی جائے گی۔ عمران خان کی کسی بھی تحریک کے نتیجے میں میاں نواز شریف کے جانے کا کوئی چانس نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی ا سٹیبلشمنٹ کوپاکستان کے سیاست دانوں سے زیادہ پاکستان کی سیاست کی سمجھ ہے۔ اس لئے سیاسی طور پر سیاست دان تو غلطی کر سکتے ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ نے آج تک پاکستان کی سیاست میں کوئی غلطی نہیں کی۔ انہیں اپنے آنے اور جانے کا بھی بھرپور اندازہ ہو تا ہے۔ یہ کوئی ترکی کی گولن تحریک نہیں یہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ ہے۔ اس نے ناکامی نہیں دیکھی۔ یہ سوال ضرور ہے کہ کیا سپریم کورٹ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے۔ ماضی میں تو سپریم کورٹ ہمیشہ ہی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رہی ہے، لیکن اس بار اب تک تو سپریم کورٹ نے ایسا کوئی کام نہیں کیا کہ لگے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہے۔

ایسی صورتِ حال میں عمران خان کے دھرنے کو نا کام بنانے کی تمام تر ذمہ داری پنجاب پولیس کے کمزور کندھوں پر آ گئی ہے۔ عمران خان بلا شبہ ایک دور اندیش سیاست دان ہیں انہیں علم ہے کہ ان کی اسلام آباد پر کسی بھی قسم کی چڑھائی کے راستہ میں پنجاب پولیس ہی رکاوٹ ہو گی۔ خیبرپختونخوا کی پولیس تو ان کی پارٹی کی حکومت کے ماتحت ہے۔ اس کو تو عمران خان نے پاکستان کے دارالخلافہ پر چڑھائی کے لئے معاونت پر تیار کر لیا ہوا ہے۔اس لئے اس بار اسلام آباد پر چڑھائی کے جلوس کی پشاور سے قیادت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک کریں گے اور اسلام آباد پر چڑھائی کو خیبر پختونخوا کی پولیس مکمل تحفظ دے گی۔ مجھے نہیں معلوم کہ پاکستان کے مستقبل اور جمہوریت کے لئے یہ منظر کتنا حسین اور دلفریب ہو گا۔

بہرحال پنجاب پولیس کی یہ مشکل رہی ہے کہ جب بھی اسلام آباد پر چڑھائی کی بات ہوئی ہے اس کا کام اس کو روکنا ہی رہا ہے۔ چاہے وہ چڑھائی میاں نواز شریف کی جانب سے ہو۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی جانب سے ہو۔ یا عمران خان کی جانب سے ہو۔پنجاب پولیس کو ایسا موقع کبھی نہیں ملا کہ وہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنے والوں کے ساتھ کھڑی ہو، لیکن پھر بھی پنجاب پولیس بد نام ہے۔

مَیں کبھی کبھی پنجاب پولیس کا مقدمہ اس لئے لڑتا ہوں، کیونکہ میں پنجاب پولیس کو اس کی تمام تر زیادتیوں اور ظلم کے باوجود ایک مظلوم سمجھتا ہوں ۔ اس کی بھی کوئی آواز نہیں۔ اس لئے اس کے خلاف بولنا اور لکھنا فیشن ہے اور اس کے حق میں لکھنا پولیس ٹاؤٹی ہے، حالانکہ عمران خان جب خیبرپختونخوا کی پولیس کے گن گاتے ہیں تو وہ پولیس ٹاؤٹی نہیں کرتے۔ شاید اسی لئے بیکن ہاؤس نے پنجابی کے خلاف قانون بنا دیا ہے۔

ویسے تو عمران خان نے گزشتہ روزبھی پنجاب پولیس کو للکارا ، لیکن شا ید کوئی یہ نہیں جانتا کہ امریکہ کے ایک چھ رکنی وفد نے اسسٹنٹ سیکرٹری اسٹیٹ برائے نارکوٹیکس اینڈ لا انفورسمنٹ افیئرز ویلیم آر براؤن فیلڈ کی سربراہی میں آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا سے سنٹرل پولیس آفس میں ملاقات کی اور دوران ملاقات انہوں نے پنجاب پولیس کی استعداد کار میں اضافہ کے لئے دونوں ممالک کے درمیان ٹریننگ اور آئی ٹی کے پراجیکٹس تعاون اور راہنمائی کے لئے دونوں ممالک کے پولیس آفیسرز کے وفود کے تبادلوں کی پیشکش کی۔ اس موقع پر آئی جی پنجاب نے انہیں سنٹرل پولیس آفس میں گزشتہ دو سال کے دوران شروع کئے گئے مختلف پراجیکٹس کے حوالے سے بریفنگ دی اور اس بریفنگ کے بعد ویلیم آر براؤن فیلڈ نے یہ پراجیکٹس دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر انہیں ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم ، 8787 کمپیوٹرائز کمپلینٹ سسٹم اور کرمینل ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم سمیت تمام پراجیکٹس دکھائے گئے، جنہیں دیکھ کر وہ حیران رہ گئے اور ان کے منہ سے بے ساختہ ’’ایکسیلنٹ اینڈویلڈن انسپکٹر جنرل‘‘ کے الفاظ نکلے۔ ولیم آر براؤن کا کہنا ہے کہ مَیں نے 90 ممالک کے پولیس ہیڈ کوارٹرز دیکھے ہیں لیکن پنجاب پولیس کا ہیڈ کوارٹر دیکھ کر آیا ہوں وہ ان تمام ہیڈ کوارٹرز سے بڑھ کر ہے اور میرے خیال میں بھی نہ تھا کہ پنجاب پولیس اتنی ایڈوانس ہو چکی ہے۔ مشتاق سکھیر اکی جانب سے کی گئی اصلاحات امریکیوں کو تو سمجھ آگئی ہیں، لیکن شاید پنجاب کے حکمرانوں اور عمران خان کو سمجھ نہ آئیں، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پنجاب پولیس پراسلام آباد پر چڑھائی روکنے کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کے نتیجے میں اس پر سیاسی گند اچھلے گا، جس میں یہ اصلاحات ایک مرتبہ پھر دفن ہو جائیں گی۔

مزید :

کالم -