عراق میں شراب کی تیاری فروخت اور درآمد پر مکمل پابندی

عراق میں شراب کی تیاری فروخت اور درآمد پر مکمل پابندی

  

بغداد(این این آئی)عراقی پارلیمان نے اچانک ہونے والی ایک رائے شماری میں ارکان کی اکثریت کی حمایت سے ملک میں شراب کی تیاری، فروخت اور درآمد پر مکمل پابندی کی منظوری دے دی ۔ پابندی کے حامیوں کے مطابق یہ منظوری ملکی آئین کے عین مطابق ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراقی پارلیمان نے یہ فیصلہ ہفتہ کی رات کو کیا۔

یہ اچانک پارلیمانی فیصلہ ایک طرف اگر ملک میں مذہبی اور نسلی اقلیتی گروپوں کو ناراض کر دے گا تو دوسری طرف یہی منظوری عراق میں بااثر مسلم مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے خوشی کا باعث بنے گی۔مشرق وسطیٰ کی اس عرب ریاست میں شراب کی تیاری سے لے کر اس کی فروخت اور درآمد تک پر مکمل پابندی کے حامیوں کا کہنا تھا کہ ملکی قانون ساز ادارے کا یہ فیصلہ ریاستی آئین سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے کیونکہ عراقی آئین کے تحت کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں کی جا سکتی جو اسلامی احکامات سے متصادم ہو۔

دوسری طرف اس پابندی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ یہ منظوری دراصل خود عراقی آئین سے متصادم ہے، جو یہ ضمانت دیتا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو اپنے رسم و رواج پر عمل پیرا رہنے کی اجازت ہو گی۔ یہ ناقدین اپنے موقف کی حمایت میں یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ شراب اسلام میں تو منع ہے لیکن دوسرے مذاہب میں نہیں، اس لیے اس پابندی کا اطلاق عراقی غیر مسلم شہریوں پر نہیں ہونا چاہیے۔اس رائے شماری کے بعد بغداد میں ملکی پارلیمان کے ایک اہلکار اور ایک منتخب رکن نے بتایا کہ اس پابندی کو عین آخری وقت پر ملکی بلدیاتی علاقوں اور اداروں سے متعلق اس مسودہ قانون میں شامل کیا گیا، جو منظور کر لیا گیا۔عراق میں ریستوراں کھلے عام مہمانوں کو شراب پیش تو نہیں کرتے لیکن وہاں کافی شراب نوشی کی جاتی ہے،عراق میں شراب پر ممکنہ پابندی کے مخالفین کو یہ امید ہی نہیں تھی کہ بلدیاتی اداروں سے متعلق قانون سازی سے کچھ ہی دیر پہلے اس پابندی سے متعلق شقوں کو بھی مجوزہ قانونی مسودے میں شامل کر لیا جائے گا۔ اسی لیے اس مسودے کی منظوری سے قبل اس شق پر کھل کر کوئی بحث بھی نہ ہو سکی۔اس منظوری کے بعد طویل عرصے سے عراقی پارلیمان کے رکن چلے آ رہے ایک مسیحی سیاستدان یونادم کنّا نے کہاکہ پارلیمان کی طرف سے منظور کیے گئے قانونی مسودے کی شق نمبر 14 کے مطابق ملک میں ہر قسم کی شراب کی تیاری، فروخت اور درآمد ممنوع قرار دے دی گئی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -