سپریم کورٹ کے جج اقبال حمید الرحمٰن مستعفی ہو گئے

سپریم کورٹ کے جج اقبال حمید الرحمٰن مستعفی ہو گئے
 سپریم کورٹ کے جج اقبال حمید الرحمٰن مستعفی ہو گئے

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) جسٹس حمود الرحمن کے صاحبزادے مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن نے سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے استعفےٰ دے دیا ہے انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر کو بھجوا دیا۔ذمہ دار ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بعض تقرریوں کو خلاف ضابطہ قرار دئے جانے کے بعد سے جسٹس اقبال حمید الرحمن تناؤ کا شکار تھے۔ جسٹس اقبال حمید الرحمن اسلام آباد ہائی کورٹ کے پہلے چیف جسٹس تھے اور سپریم کورٹ کی طرف سے خلاف ضابطہ قرار دی گئی تعیناتیاں2010 میں انہی کے دور میں کی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق چند روز قبل دئے جانے والے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سے ہی انہوں نے اپنے خاندان اور قریبی افراد سے اپنے استعفے کی بابت مشورے شروع کر دئے تھے۔ انہوں نے اپنی فیملی سے مشاورت کے بعد استعفٰے ایوان صدر بجھوا دیا۔ جسٹس اقبال حمید الرحمن لاہور ہائیکورٹ بار کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔ جس وقت اکتوبر 2007ء میں پرویز مشرف نے پی سی او جاری کیا وہ لاہور ہائیکورٹ کے جج تھے ۔شدید دباؤ کے باوجود انہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ان کی ذات ہمیشہ غیر متنازعہ اور کسی بھی قسم کے الزام سے بالا رہی ہے۔ وہ اعلیٰ عدلیہ کے واحد جج ہیں جنہوں نے عدلیہ کی ویب سائٹس پر اپنے تعارف کے ساتھ اپنا بنک اکاؤنٹ بھی دے رکھا ہے تا کہ کوئی بھی شخص یا ادارہ ان کی آمدنی کے بارے میں جان سکے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جسٹس اقبال حمید الرحمن کافی دلبرداشتہ نظر آ رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کی روشنی میں وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے تحفظات کا شکار تھے۔ جسٹس اقبال حمید الرحمن اس قدر قانون اور آئین پسند ہیں کہ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 206 (1) کے تحت اپنا ستعفٰے ہاتھ سے لکھ کرایوان صدر کو بجھوایا کیونکہ آئین میں درج ہے کہ کوئی بھی جج اپنے ہاتھ سے ٰ تحریر کر کے اپنے عہدے سے استعفے دے سکتا ہے۔ جسٹس اقبال حمید الرحمن نے آئین کے اس آرٹیکل کے لفظوں کا بھی پاس کیا ہے۔انہیں قریب سے جاننے والے وکلاء کا کہنا ہے کہ جسٹس اقبال حمید الرحمن کو اپنے مرحوم والد جسٹس حمود الرحمن کی عزت کا ہمیشہ خیال رہا اور وہ کہتے ہیں کہ کوئی ایسا کام نہیں کر سکتا جس سے میرے والد کی روح کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔ سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے سے وہ کافی دلبرداشتہ تھے ۔ان کی یہی کیفیت ان کے عہدے سے استعفے پر منتج ہوئی۔ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے مذکورہ فیصلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی تقرریوں کے حوالے سے اختیارات کے غلط استعمال کی بات کی گئی ہے۔عدالتی فیصلے کی اسی آبزرویشن کی بنیاد پر جسٹس اقبال حمید الرحمن نے اپنے عہدہ سے استعفےٰ دیا۔ انہوں نے اپنے استعفے میں اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی کیونکہ یہ آئینی تقاضا نہیں ہے ۔ آئین کے تحت کوئی بھی جج کسی وجہ کے بغیر بھی مستعفی ہو سکتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -