تیسری قوت آئی تو نوازشریف ذمہ دار ہونگے :عمران خان ،کسی کے باپ کو بھی جمہوریت غیر مستحکم نہیں کرنے دینگے :فضل الرحمٰن

تیسری قوت آئی تو نوازشریف ذمہ دار ہونگے :عمران خان ،کسی کے باپ کو بھی جمہوریت ...

  

اسلام آباد/ڈیرہ اسماعیل خان(مانیٹرنگ دیسک،بیورو چیف)تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری جد و جہد تیسری قوت کو بلانے کیلئے نہیں، اگر تیسری قوت آئی تو ذمہ دار صرف نواز شریف ہوں گے۔ کپتان نے حکومت پر فوج کو بدنام کرنے کا بھی الزام لگا دیا۔بنی گالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاناما لیکس میں وزیر اعظم کے خلاف ثبوت آ گئے ہیں، وزیر اعظم تلاشی دیں، حساب دیں، خود کو پیش کریں، سپریم کورٹ میں کیس چلتا رہے گا۔عمران خان نے کہا کہ جو اپوزیشن جماعتیں عوام کے سڑکوں پر آنے کے خلاف ہیں، اصل میں یہ خود کرپٹ ہیں، انہیں پتا ہے کہ اگر نواز شریف پکڑا گیا تو یہ بھی پکڑے جائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ حکومت فوج کو بدنام کر رہی ہے، ان کی جد و جہد تیسری طاقت کو بلانے کیلئے نہیں۔ عمران خان نے سلامتی امور سے متعلق خبر کے افشاء ہونے پر استفسار کیا کہ خبر لیک کس طرح ہوئی، انگلیاں اب وزیر اعظم کی طرف اٹھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ دھرنافوج کے کہنے پر ہو رہا ہے ،اس تاثر کے ذریعے بھارت اور اسرائیل کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ فوج اینٹی سٹیٹ عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی تاکہ فوج کو دنیا میں بد نام کیا جاسکے ۔ان کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی خبر کس طرح لیک ہوئی اور اس کا فائدہ کس کو ہوا ،اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فوج کو کمزور کرنے کی بین الاقوامی سازش چل رہی ہے اور حکومت ایسے تاثر دے رہی ہے جیسے حکومت بھی اس سازش کا حصہ ہو ،انگریزی اخبارکی خبر لیک ہونے پر بھی وزیر اعظم پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں،حکومت جان بوجھ کر فوج کو بدنام کر رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمار ا احتجاج نہ صرف وزیراعظم کی چوری کے خلاف بلکہ اداروں کی بے حسی کے خلاف بھی ہے ،اگر ہم سڑکوں پر نہیں آئیں گے تو لوگ پاناما لیکس کو بھول جائیں گے ۔عمران خان نے کہا کہ اگر حکومت نے دھرنے کو روکا تو نقصان وزیراعظم کو ہی ہو گا کیونکہ لوگ سمجھ گئے ہیں کہ یہاں ایک کرپٹ حکومت بیٹھی ہوئی ہے۔بعد ازاں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب پولیس نے 2 نومبر کو عوام کے سمندر کو روکنے کی کوشش کی تو وہ اس میں بہہ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک سیاستدان نواز شریف کے ساتھ ہے جس کے ضمیر کی قیمت ڈیزل ہے۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف نے طلبہ کو لیپ ٹاپ دے کر خریدنے کی کوشش کی، وہ اداروں کے سربراہوں اور صحافیوں کو بھی لفافے دے کر خرید رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاناما لیکس الزام نہیں بلکہ وزیر اعظم کی چوری کا ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی ملک میں نہیں بلکہ وزیر اعظم کے اکاؤنٹس میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں مجرم کو وزیر اعظم نہیں مانتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے ساتھ زرداری کھڑا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ شکر ہے بانی متحدہ کی تقریروں سے جان چھوٹ گئی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بھی نصیحت کی کہ جو بھی آپس کے اختلافات ہیں، وہ ختم کر دیں۔عمران خان نے کہاکہ کرپشن بچانے کیلئے فوج کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے آصف زرداری اور فضل الرحمان نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگر پنجاب پولیس نے 2 نومبر کو عوام کے سمندر کو روکنے کی کوشش کی تو وہ اس میں بہہ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کا ایک سیاستدان نواز شریف کے ساتھ ہے جس کے ضمیر کی قیمت ڈیزل ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی ملک میں نہیں بلکہ وزیر اعظم کے اکاؤنٹس میں ہو رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں مجرم کو وزیر اعظم نہیں مانتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف کے ساتھ زرداری کھڑا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ شکر ہے بانی متحدہ کی تقریروں سے جان چھوٹ گئی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بھی نصیحت کی کہ جو بھی آپس کے اختلافات ہیں، وہ ختم کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ نظام سے فائدہ اٹھانے والے آصف زرداری اور فضل الرحمان نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

لاہور( نمائندہ خصوصی) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کے منتخب وزیر اعظم کو بچانا کوئی جرم نہیں ہے ، ہم کسی کے باپ کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جمہوریت کو غیر مستحکم کرے ، میں مارشل لاء یا ان ہاؤس تبدیلی نہیں دیکھ رہا ،پی ٹی آئی نے استعفے دئیے پھر واپس لیے ، سول نافرمانی کی تحریک چلائی واپس لے لی جہاں یو ٹرن ہو وہاں کوئی بورڈ لگانے کی بجائے ’’ان کی ‘‘تصویر لگا دی جائے ، عمران خان سپریم کورٹ پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کافیصلہ لینا چاہتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہارانہو ں نے جمعیت علماء پاکستان کے صدر پیر اعجاز ہا شمی اور سیکرٹری جنرل صاحبزادہ شاہ محمد اویس نورانی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دورا ن کیا ۔ اس موقع پر جے یو پی کے دیگر رہنما جن میں قاری زوار بہادر ، قاری سید صداقت علی سمیت بھی مو جود تھے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم عوام کے ووٹوں سے منتخب وزیر اعظم کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایک جمہوری منتخب وزیر اعظم کو بچانا کو ئی جرم نہیں ہے ،کسی کے باپ کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ جمہوریت کو غیر مستحکم کرے اور یہاں بیرونی ایجنڈا نافذ کر ے ۔پانامہ لیکس کے بعد وزیر اعظم آئین کی شک 62اور 63پر پو را اترتے ہیں یا نہیں اس بات کا فیصلہ سپریم کو رٹ کر ے گی اور عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوا ہم وہ قبول کریں گے ، اس وقت موجودہ مسئلے کے حل کیلئے ملک میں سپریم کو رٹ سے بڑا کوئی فورم نہیں لیکن عمران خان سپریم کو رٹ پر بھی خدشات اور عدم اعتماد کا اظہار کررہا ہے ، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ سپریم کو رٹ پر دباؤ ڈال کر اپنی مرضی کا فیصلہ لینا چاہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد 2نومبر تو کیا ساری زندگی بند نہیں ہوسکتا ،حکومت اس حوالے سے ہر گز خوفزدہ نہیں ،لیکن اسے اپنی ذمہ داری کا احساس ضرور ہے کہ اسے عام عوام کے جان ومال کا تحفظ کیسے کرنا ہے ،حکومت پی ٹی آئی کے کارکنوں سے کس طرح نمٹے گی اس حکمت عملی بارے میری ساتھ کوئی بات نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت کیس عدالت میں ہے اور عمران خان بھی یہی چاہتے تھے تو اب عدالت کے فیصلے کاانتظار کریں ، اس دوران دھرنوں کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا ۔عمران خان جو بھی بڑا بول بولتے ہیں اسے خود ہی واپس لے لیتے ہیں ۔انہوں نے استعفے دئیے اور واپس لیے ، سول نافرمانی کی تحریک چلائی اسے واپس لے لیا اسی لیے میں کہتا ہوں کہ جہاں یو ٹرن ہو وہاں بورڈ لگانے کی بجائے ’’ انکی ‘‘تصویر لگا دی جائے لوگ خود ہی سمجھ جائیں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف اس ملک کے سپہ سالار ہیں ، ان کی مدت ملازمت میں توسیع کرنا یا نہ کرنا وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے ، ان کی توسیع ہونے یا نہ ہونے کے معاملات کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے ۔ جنرل راحیل شریف نے بطور فوج کے سپہ سالا نیک نامی کمائی ہے،دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیا اس طرح کی باتیں ان کی شخصیت کو متنازعہ بنانے کا سبب ہو سکتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارامذہبی جماعتوں کا آپسی اتحاد کبھی نہیں ٹوٹا ، ہم آج بھی متحد ہیں ۔مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے بہت جلد پاکستان اور کشمیر کی تمام جماعتوں کی اے پی سی بلارہے ہیں ،جب تک بھارت میں ظلم کرنے کی ہمت موجود رہے گی تب تک کشمیریوں میں آزادی کی جنگ لڑنے کی ہمت موجود رہے گی بالآخر کشمیر آزاد ہو کر رہے گا۔دریں اثناء وزیراعلیٰ شہبازشریف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد بند کرنے کا اعلان پاکستان اور 18کروڑ عوام کے ساتھ کھلی دشمنی ہے ۔پاناما کیس عدالت عظمی میں لیجانے کا اپوزیشن کامطالبہ تسلیم ہونے اورعدالت عظمی میں سماعت شروع ہونے کے بعد سڑکوں پر مظاہرے کرنے کا کوئی سیاسی اور اخلاقی جوازباقی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں سماعت شروع ہونے کے بعد مظاہرے جاری رکھنا عدالت سے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کیلئے عدالت پر دباؤ ڈالنے کے زمرہ میں آتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنی پے درپے شکستوں کا انتقام غریب عوام سے نہ لیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ کوئی ذی شعور پاکستانی ایسے غیر جمہوری اورغیر آئینی اقدام کا ساتھ نہیں دے گا۔عمران خان ترسی ہوئی قوم پر رحم کریں اور مثبت جمہوری طرز عمل کا مظاہرہ کریں ۔

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر228اے این این) تحریک انصاف نے2نومبر کو دھرنے سے قبل اسلام آباد میں احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کرلیا،29اکتوبر کو ریلی پورا شہر گھومے گی،اٹھال چوک سے شروع ہونے والی ریلی،چراہ اور ترامڑی سے میلوڈی پہنچنے گی،جی ٹن اور جی الیون سے آئی ٹن ،ائی ایٹ میں اختتام ہو گا،تحریک انصاف کا کارکنان کو گرفتاریوں سے بچانے کیلئے24رکنی لیگل کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان،حکومت کی بھی حالات سے نمٹنے کی تیاری ،کنٹینرز کی بکنگ شروع،مظاہرین سے نمٹنے کے لئے واٹر کینن بھی تیار،آنسو گیس سے شیلنگ بھی ہوگی۔تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف نے دو نومبر کے دھرنے سے قبل اسلام آباد کے شہریوں کو متحرک کرنے کیلئے رواں ہفتے کے اختتام پر ایک اور احتجاج کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں روٹ پلان بھی جاری کر دیا گیا ہے ۔تحریک انصاف کی طرف سے جاری روٹ پلان کے مطابق ریلی29اکتوبر کی سہہ پہر دو بجے بھارہ کہو میں اٹھال چوک سے عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی قیادت میں شروع ہو گی جو پنڈ بھگوال،تمیر،چراہ اور ترامڑی چوک سے ہوتی ہوئی روال چوک پہنچے جہاں اور وہ اسلام آباد میں داخل ہو کر میلوڈی،ستارہ مارکیٹ،جی ایٹ مرکز،جی نائن مرکز،جی ٹن مرکز اور جی الیون پہنچے گی،جہاں سے ریلی پولیس لائن کا راستہ اختیار کرے گی اور پھر آئی ٹن اور آئی نائن سے آئی ایٹ مرکز پہنچ کر اختتام پزیر ہوگی۔ ذراعء کے مطابق اس ریلی کیلئے لوگوں کو جمع کرنے کاٹاسک پارٹی کے منتخب مقامی بلدیاتی نمائندوں اور سابق امیدواروں کو دیا گیا ہے ۔ تحریک انصاف نے اسلام آباد دھرنے کے حوالے سے 24لیگل کمیٹی بنا دی جو کارکنان کو ہر قسم کی قانونی معاونت فراہم کرے گی۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں 24رکنی لیگل کمیٹی سے متعلق آگاہ کیا گیا ہے، اس کمیٹی کے 12ارکان اسلام آباد اور 12 راولپنڈی کیلئے مخصوص ہونگے جو کارکنوں کو کسی بھی پریشانی اور گرفتاری کی صورت میں قانونی مدد فراہم کریں گے۔لیگل کمیٹی کے ارکان سے رابطے کے لیے ان کے نمبرز بھی دیئے گئے ہیں، جہانگیر ترین کی جانب سے لیگل کمیٹی کے نوٹیفکیشن کی کاپی ملک بھر کے پی ٹی آئی ذمہ داران کو بھجوا دی گئی ۔ ادھر وفاقی حکومت نے بھی پولیس کو تحریک انصاف کا دھرنا روکنے کیلئے تیاری کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں کنٹینرز کی بکنگ بھی شروع کر دی گئی ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تحریک انصاف کے 2نومبر کے دھرنے کے پیش نظر حکومت کی جانب سے پولیس کو شرکا کو روکنے کی تیاری کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔اسلام آباد میں وزیرداخلہ چودھری نثارکی زیرصدارت پاکستان تحریک انصاف کے 2 نومبرکو ہونے والے دھرنے پرسیکیورٹی پلان کے حوالے سے اجلاس ہوا، اجلاس میں راولپنڈی اوراسلام آباد کے پولیس حکام نے شرکت کی اور دھرنے کے شرکا کو روکنے کی حکمت عملی پرغور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران وزیرداخلہ چوہدری نثارنے پولیس کوشرکا کوروکنے کی تیاری کرنے کا حکم دیا، دھرنے کے شرکا کو کنٹینرلگا کرروکا جائے گا جب کہ مظاہرین سے نمٹنے کیلئے واٹرکینن بھی تیارکرلیا گیا ہے۔ پولیس نے آنسو گیس سے بچنے کیلئے 700جدید گیس ماسک خرید لئے ہیں تاکہ پولیس اہلکاراپنی ہی شیلنگ کا شکار نہ ہوں۔ پولیس کی جانب سے دھرنا روکنے کیلئے کنٹینرزکی بکنگ بھی شروع کردی گئی ہے تاہم اجلاس میں واضح طورپریہ نہیں بتایا گیا کہ شرکا کو آنے سے روکا نہیں جائے گا یا ان کے راستے میں رکاوٹیں لگائی جائیں گی۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت نے بھی مزاحمت کی تیاریاں شروع کرتے ہوئے پارٹی رہنماں کوکارکنوں کی تربیت کی ہدایت کردی ۔ پی ٹی آئی رہنما کارکنوں کو آنسو گیس کی شیلنگ سے بچا ؤکے طریقے بتائیں گے جب کہ کارکنوں کو رومال، پانی اورمتعلقہ اشیا ساتھ لانے کی ہدایت بھی کی جائے گی، اس کے علاوہ کارکنوں کی آگاہی کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال بھی کیا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -