سیاسی بحرانوں سے بچنے اور جمہوریت کے استحکام کیلئے اسمبلی کی مدت چار سال کی جائے :سراج الحق

سیاسی بحرانوں سے بچنے اور جمہوریت کے استحکام کیلئے اسمبلی کی مدت چار سال کی ...

  

لاہور(خصوصی رپورٹ)امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں آئے روز کے سیاسی بحرانوں سے بچنے اور جمہوریت کے استحکام کیلئے اسمبلی کی مدت چار سال کی جائے ۔سندھ کی طرح ملک بھر میں شراب کی فروخت پر فوری طور پر پابندی عائد کی جائے ۔عدالتی نظام بے کار ہوچکا ،بے گناہ لوگ جیلوں میں سڑتے رہتے اور پھانسیوں پر چڑھ جاتے ہیں تو عدالتیں انہیں بری کرتی ہیں ۔ہسپتالوں میں بستر اور سکولوں میں ٹاٹ نہیں اور حکمران غریبوں کی غربت پر ٹسوے بہا رہے ہیں ،ملک میں تعلیم اور صحت کا نظام زبوں حالی کا شکار ہے ۔خیبر پختونخوا حکومت اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنائے تاکہ پورے ملک کیلئے ایک رول ماڈل دیا جاسکے ۔پاکستان کا مستقبل اسلام سے وابستہ ہے یہاں سیکولر اور لبرل ازم کی کوئی گنجائش نہیں ۔نظریہ پاکستان کے مخالفین سے کھلی جنگ ہے ،ملک کی نظریاتی شناخت کا تحفظ کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اضاخیل نوشہرہ میں ہونے والے دوروزہ صوبائی اجتماع عام سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجتماع سے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اور امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخواہ مشتاق احمد خان نے بھی خطا ب کیا ۔اجتماع میں پچاس ہزار سے زائد خواتین سمیت جماعت اسلامی کے کارکنان اور عوام نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم ملک کی خارجہ پالیسی کو مسترد کرتے ہیں، ابھی تک ملک کا کوئی وزیر خارجہ نہیں ۔ آرمی چیف سمیت جرنیلوں کے اجلاس میں متنازع خبر پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، خبر لیک ہونے پر حکومت کا کردار مشکوک ہوگیا ہے ، حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں۔ پانامہ لیکس شرم ناک معاملہ ہے جو حکمرانوں کے گلے کی زنجیر بن چکا ہے۔ حکمران توبہ و استغفار کرکے خود کو احتساب کے لئے پیش کریں ، وزیر خزانہ نے ریکارڈ قرض لے کر بہترین وزیر خزانہ کا اعزاز پایا لیکن ہماری آئندہ نسلوں پر قرضو ں کاکوہ ہمالیہ لاد دیا۔ جو لوگ نظریہ پاکستان سے غداری کررہے ہیں ان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے۔ اس ٹولے نے ملک کو یرغمال بناکر قوم کا مستقبل تاریک کرنے کی کوشش کی۔ ملک میں عدالتی نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، عدالت کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں۔ لبرل پاکستان کی باتیں کرنا نظریہ پاکستان ، قائد اعظم اور شہداء کی روحوں سے غداری ہے۔ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نئے سال میں دینیات کے معلمین کی تعیناتی کے لئے بجٹ مختص کرے، سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق صوبہ بھر میں اردو زبان کو رائج کیا جائے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں ترقی کے کام نہ ہونے کا طعنہ دینے والے دراصل خود مجرم ہیں، پوری قوم لٹیروں کے احتساب کیلئے اٹھ کھڑی ہو۔ ملک میں بندوق سے نہیں عوام کی طاقت اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی لائیں گے۔ سراج الحق نے کہا کہ قائد اعظم نے مختلف مواقع پر 114بار کہا کہ پاکستان کا دستورر قرآن و سنت ہوگا۔ لاکھوں مسلمانوں نے قیام پاکستان کے لئے قربانیاں دیں، لیکن70سال سے کرپٹ ٹولے نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ یہ اشرافیہ میر جعفر اور میر صادق کے ٹولے سے تعلق رکھتی ہے ،جس نے قوم کا مستقبل تاریک کردیا ہے۔ پاکستان میں پانچ دریا بہتے ہیں لیکن ملک اندھیروں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ محنت کسان اور مزدور کرتا ہے، لیکن پھر بھی اسے اپنی محنت کا پھل نہیں ملتا۔ اس کے بچوں کو تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں میسر نہیں ۔ کوئلے اور سونے کے ذخائر ہمارے قدموں کے نیچے ہیں، لیکن پھر بھی ملک مقروض اور غریب ہے، ملک کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جارہا ہے۔ قرضے لے لے کر تمام دولت حکمران اپنے اللے تللوں اور عیاشیوں پر خرچ کرتے ہیں۔ ایک پاکستانی کے علاج کے لئے سالانہ صرف 111روپے رکھے گئے ہیں، ان سے روزانہ کئی گنا زیادہ امراء کے کتوں پر خرچ ہوتا ہے۔ لیکن اب اسلام کی باری ہے، اسلامی نظام بندوق کے زور پر نہیں عوام کی طاقت اور ووٹ سے نافذکریں گے،اس عظیم مقصد کیلئے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں اور فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔

سراج الحق

مزید :

صفحہ اول -