ٹرمپ کا انتخابی نتائج کو قبل از وقت تسلیم نہ کرنے کاموقف درست ہے :ری پبلکن چیئرمین

ٹرمپ کا انتخابی نتائج کو قبل از وقت تسلیم نہ کرنے کاموقف درست ہے :ری پبلکن ...
 ٹرمپ کا انتخابی نتائج کو قبل از وقت تسلیم نہ کرنے کاموقف درست ہے :ری پبلکن چیئرمین

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) ری پبلکن پارٹی کے نامزد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری مباحثے میں ایک سوال کے جواب میں انتخابی نتائج کو قبل از وقت تسلیم نہ کرنے کا جو موقف بیان کیا تھا، اس کی غیر متوقع طور پر پارٹی کی نیشنل کمیٹی کے چیئرمین اینس پری بس نے تائید کر دی ہے۔ پارٹی سربراہ سمیت تقریباً ساری اسٹیبلشمنٹ کے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں تحفظات کسی سے چھپے نہیں ہیں۔ نامزدگی کے مرحلے کے دوران ایسی اطلاعات آتی رہتی تھیں کہ پارٹی چیئرمین سمیت زیادہ تر قیادت ٹرمپ کی بجائے کسی دوسرے امیدوار کو ٹکٹ دلانے کے حق میں تھی اور قومی کنونشن میں مندوبین نے ٹرمپ کو منتخب کرنے کا جو فیصلہ کیا اسے انہوں نے چار و ناچار قبول کیا۔ ایوان نمائندگان کے سپیکر رائن پال اور سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین جان مکین جو اسٹیبلشمنٹ میں بڑی موثر حیثیت رکھتے ہیں، کھل کر ٹرمپ کی مخالفت میں بیان دے چکے ہیں۔ اس پس منظر میں پارٹی چیئرمین کی طرف سے ٹرمپ کے کم از کم ایک موقف کو درست تسلیم کرنا ٹرمپ کی ایک اہم سیاسی کامیابی ہے۔اتوار کے روز ’’سی بی ایس نیوز‘‘ کے پروگرام ’’فیس دی نیشن‘‘ میں ایک انٹرویو کے دوران چیئرمین پری بس نے کہا کہ آخری مباحثے میں انتخابات سے تین ہفتے قبل پوچھا جانے والا یہ سوال قبل از وقت تھا کہ ٹرمپ انتخابی نتائج کو تسلیم کریں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی امیدوار سے تین ہفتے قبل ہی اپنی ’’شکست تسلیم کرنے والی تقریر‘‘ کرائی جاتی۔ سوال کنندہ زور دے کر مطالبہ کر رہا تھا کہ ری پبلکن کا امیدوار الیکشن فراڈ پر سوال اٹھانے کے اپنے حق سے دستبردار ہو جائے۔ پارٹی چیئرمین نے انٹرویو میں کہا ’’کہ آپ خود تصور کریں کہ انتخابات میں حصہ لینے والا امیدوار اپنے اردگرد ایک ناقابل یقین دنیا کو دیکھ رہا ہے اور پھر وہ بیلٹ بکس میں فراڈ کی باتیں سنتا ہے تو وہ صرف یہ کہتا ہے کہ وہ انتخابات مکمل ہونے کے بعد اپنی تمام آپشنز کو کھلا رکھنے کا اعلان کرتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے‘‘۔ پارٹی چیئرمین نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ مطالبہ درست ہے کہ 8 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں فراڈ کی روک تھام کے لئے مانیٹرنگ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں ووٹروں کے فراڈ کی توقع نہیں ہے لیکن تھوڑی بہت ہیرا پھیری ممکن ہے جس کے لئے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملواکی میں چھ سال قبل پولیس نے ووٹر فراڈ کی رپورٹ دی تھی جس میں ری پبلکن پارٹی ملوث نہیں تھی۔ اس لئے ضروری ہے کہ انتخابات کو درست اور جائز بنانے کیلئے ٹھوس انتظامات کئے جائیں۔

مزید :

صفحہ اول -