مولانا فضل الرحمٰن حکومت کی حمایت میں کھل کر میدان میں آ گئے

مولانا فضل الرحمٰن حکومت کی حمایت میں کھل کر میدان میں آ گئے

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان لفظوں کی جو جنگ جاری ہے اس کا دائرہ پھیلتا جارہا ہے اور امید ہے 2 نومبر تک اس میں مزید توسیع ہوگی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اتوار کو لاہور میں مصروف دن گزارا، وہ خادم پنجاب شہباز شریف سے بھی ملے اور ایک دھواں دھار پریس کانفرنس بھی کر ڈالی۔ فضل الرحمان کہیں گفتگو کریں اور عمران خان کا ذکر خیر نہ آئے یہ تو ممکن ہی نہیں کہ چھیڑ خوباں سے چلی جاتی ہے، عمران خان بھی انہیں یاد رکھتے ہیں۔ آج ان کے بارے میں فرمایا کہ فضل الرحمان کو تو سیاست نہیں آتی، سچی بات ہے یہ بات دل کو لگتی نہیں، مروجہ سیاست کے جتنے شاطر کھلاڑی فضل الرحمان ہیں شاید ہی کوئی دوسرا ہو، اس لئے عمران خان انہیں اور جو کچھ بھی کہیں سیاسی کھلاڑی تو انہیں ماننا پڑے گا۔ اس وقت بھی سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین اور اسلامی نظریہ کونسل کا تعلق ان کی جماعت سے ہے۔ وفاق میں ان کی جماعت کی نمائندگی ہے، بلوچستان کی حکومت میں وہ شامل ہیں اور اگر 2013ء کے الیکشن کے بعد فضل الرحمان کو موقع دیا جاتا تو وہ خیبر پختونخوا کی حکومت بناکر دکھا دیتے، وہ تو نوازشریف ہی تھے جو وفاقی حکومت پر اکتفا کرگئے ورنہ فضل الرحمان کے پاس صوبائی حکومت کی تنگئ داماں کا علاج بھی تھا‘ فضل الرحمان نے صرف اتنا کہا تھا کہ مسلم لیگ ان کے ساتھ کھڑی ہو تو وہ تحریک انصاف کی حکومت نہیں بننے دیں گے۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ تحریک انصاف صوبے کی سب سے بڑی جماعت ضرور تھی، لیکن اس کے پاس حکومت سازی کیلئے سادہ اکثریت نہیں تھی، اسی لئے تحریک انصاف نے جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی، فضل الرحمان کو موقع دیا جاتا تو وہ ضرور بالکل اسی طرح صوبائی حکومت بنا کر دکھا دیتے جس طرح صدر غلام اسحاق خان کے زمانے میں جام صادق علی نے تن تنہا حکومت بنا کر دکھا دی تھی اور صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی اکثریت کو بے اثر کر دیا تھا۔ غلام اسحاق خان نہیں چاہتے تھے کہ صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنے اس لئے انہوں نے جام صادق علی کو ’’فری ہینڈ‘‘ دے دیا اور جام صادق علی نے اس ہاتھ پر سرسوں جما دی اور اکثریتی جماعت ہاتھ ملتی رہ گئی۔ وہ اپنے آپ کو غلام اسحاق خان کا ایس ایچ او کہا کرتے تھے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی یہی کچھ ہوا، اب کی بار جام صادق والا کارنامہ علی محمد مہر اور ارباب غلام رحیم نے انجام دیا ارباب اپنے آپ کو جنرل پرویز مشرف کا سپاہی کہتے تھے۔ ارباب رحیم نے بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ وہی کچھ کیا جو جام صادق نے کیا۔ ذرا اور پیچھے جائیں تو اس طرح کے اور بھی کئی ’’جمہوری تماشے‘‘ ہمیں نظر آجائیں گے۔ 70ء کے انتخابات میں بلوچستان میں پیپلز پارٹی کو ایک بھی نشست نہیں ملی تھی، لیکن ان انتخابی نتائج کی بنیاد پر جب 71ء کے اواخر میں (سقوط ڈھاکہ کے بعد) حکومتیں بنیں تو وفاق اور دو صوبوں (پنجاب اور سندھ) میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں جبکہ سرحد (اس وقت یہی نام تھا) اور بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومتیں بنیں۔ بلوچستان میں وزیراعلیٰ سردار عطاء اللہ مینگل تھے جبکہ سرحد کی مخلوط حکومت کی سربراہی مفتی محمود (مولانا فضل الرحمان کے والد گرامی) کر رہے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مینگل وزارت برطرف کی تو مفتی محمود کی وزارت نے احتجاجاً استعفیٰ دیدیا اور یوں ان دونوں صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومتیں بن گئیں بعد میں بھٹو نے نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگا دی اور خان ولی خان سمیت نیپ کی پوری قیادت کو جیلوں میں ٹھونس دیا جب ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹا اس وقت نیپ کی پوری قیادت کے خلاف قلعہ حیدر آباد میں بغاوت کا مقدمہ چل رہا تھا، یہ مقدمہ جنرل ضیاء الحق نے ختم کیا، حیدرآباد ٹربیونل بھی انہی کے حکم سے توڑا گیا۔ پاکستانی سیاست میں توڑ جوڑ تو کوئی نئی بات نہیں اختصار کے ساتھ ذکر اس لئے کردیا تاکہ خوانندگان محترم کو معلوم ہوکہ ماضی کے جمہوری ادوار میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود صوبائی حکومتیں ایسے لوگ بناتے رہے جن کے پاس اکثریت نہیں تھی، اس لئے اگر فضل الرحمان نے مسلم لیگ (ن) کو یہ پیشکش کردی تھی کہ انہیں موقع دیا جائے تو وہ اپنی مخلوط حکومت بناکر دکھا سکتے ہیں، تو یہ ایسا ’’گناہ‘‘ تھا جو اس سے پہلے کئی حکمران بشمول ذوالفقار علی بھٹو کرچکے تھے۔ فضل الرحمان کا یہ مشورہ نہ مانا گیا اور اب وزیراعلیٰ پرویز خٹک یہ دھمکی دینے کی پوزیشن میں ہیں کہ وہ سی پیک کو صوبے سے نہیں گزرنے دیں گے اور تازہ ترین یہ ارشاد کیا ہے کہ ایک لاکھ لوگ کے پی کے سے اسلام آباد بند کرنے کیلئے آئیں گے۔ یہ مصرع بے محل نہیں لگتا۔

یہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو میں

مولانا کو اگر ہاتھ دکھانے کا موقع میسر آیا ہوتا تو آج عمران خان بھی یہ گلہ نہ کر رہے ہوتے کہ انہیں سیاست نہیں آتی، بلکہ یہ کہنے پر مجبور ہوتے کہ سیاست کوئی فضل الرحمان سے سیکھے، اب بھی ہاتھ کنگن کو آرسی کیا مولانا فضل الرحمان بگڑی ہوئی بات بنا سکتے ہیں انہیں موقع دے کر تو دیکھیں۔ قارئین محترم بات مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کی لفظی جنگ سے شروع ہوئی تھی اور درمیان میں پاکستانی سیاست کی بو قلمونیوں کا ذکر آگیا۔ دونوں جماعتوں میں جو لفظی جنگ شروع ہے اس میں تازہ حصہ تحریک انصاف کے لیڈر اسد عمر کے بھائی محمد زبیر نے ڈالا ہے جو نجکاری کے وزیر ہیں۔ محمد زبیر کا کہنا ہے 1983ء میں عمران نے نیازی لمیٹڈ سروس کے نام پر آف شور کمپنی بنائی، عمران نے ایک سال تک کمپنی کا ٹیکس ریٹرن میں ذکر نہیں کیا۔ 20 ہزار پاؤنڈ کا فلیٹ خریدا، 1989ء تک عمران نے ٹیکس ریٹرن میں کمپنی کو چھپا کر رکھا۔ عمران نے کمپنی کو 2000ء میں شو کیا جب مشرف حکومت نے کالے دھن کو سفید کرنے والی سکیم نکالی تھی۔ محمد زبیر کا کہنا تھا کہ عمران نے مشرف کی سکیم کے تحت کالے دھن کو سفیدکرلیا۔ عمران پہلے پلاٹ خود خریدتے پھر جمائما کے نام کردیتے تھے، بیوی واپس ان کے نام کرتی تو عمران اس کو گفٹ قرار دے دیتے۔ انہوں نے کہا کہ 2005ء میں جمائما نے بنی گالہ کا گھر ان کے نام کردیا تھا، بنی گالا والے گھر پر عمران نے گفٹ شو کرکے آج تک ٹیکس نہیں دیا۔ محمد زبیر نے یہ بھی کہا کہ بے نامی اکاؤنٹس پر لیکچر دینے والا جواب دے کہ اس نے بے نامی ٹرانزیکشن کیوں کی؟ 2014ء میں گرینڈ ہائٹ میں عمران نے فلیٹ بک کرایا لیکن الیکشن کمیشن کو دی گئی دستاویزات میں فلیٹ کا ذکر نہیں کیا۔ محمد زبیر نے کہا کہ ہم ساتھ ہر چیز کی رسیدیں بھی دکھا رہے ہیں۔ محمد زبیر نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں انہیں ان تمام سوالات کے جواب دینے پڑنے تھے جس وجہ سے وہ اسلام آباد بند کرنے آ رہے ہیں۔ محمد زبیر نے دعویٰ کیا کہ لاک ڈاؤن کی آئین میں اجازت نہیں، یہ بغاوت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ محمد زبیر نے عمران کے اقدام کو بغاوت تو قرار دیدیا، بغاوت کا مقدمہ بھی بنتا ہے یا نہیں؟

مزید :

تجزیہ -