عراق میں شراب کشید ،فروخت اور درآمد کرنے پر پابندی عائد

عراق میں شراب کشید ،فروخت اور درآمد کرنے پر پابندی عائد

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں شراب کشید کرنے، بیچنے اور در آمد کرنے پر عراقی پارلیمنٹ نے حیرت انگیز طور پر اچانک ہونے والی ایک رائے شماری میں ارکان کی اکثریت کی حمایت سے مکمل پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے، خلاف ورزی پر کم از کم 10ملین دینار ( 8 ہزار یو ایس ڈالر )جرمانہ ہو گا ،پابندی کے حامیوں کے مطابق یہ منظوری ملکی آئین کے مطابق ہے ، مسیحی رکن پارلیمنٹ نے قانون چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی پارلیمنٹ کا یہ فیصلہ ملک میں بااثر مسلم مذہبی سیاسی جماعتوں کے لیے جہاں خوشی کا سبب بنے گا وہیں اقلیتی گروپ ناراض بھی ہو سکتے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ عراق میں رہنے والے مسیحی اقلیت کا روزگار شراب کے کاروبار سے وابستہ ہے ،اس چانک پابندی نے عراق میں اس کاروبار سے وابستہ مسیحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ پابندی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملکی قانون ساز ادارے کا یہ فیصلہ ریاستی آئین سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے کیونکہ عراقی آئین کے تحت کوئی بھی ایسی قانون سازی نہیں کی جا سکتی جو اسلامی احکامات سے متصادم ہو۔پابندی کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ یہ منظوری دراصل خود عراقی آئین سے متصادم ہے، جو یہ ضمانت دیتا ہے کہ مذہبی اقلیتوں کو اپنے رسم و رواج پر عمل پیرا رہنے کی اجازت ہو گی۔

مزید :

صفحہ آخر -