زہریلی شراب پینے سے طالبعلم کی ہلاکت ،پولیس نے کوئی ایکشن نہ لیا

زہریلی شراب پینے سے طالبعلم کی ہلاکت ،پولیس نے کوئی ایکشن نہ لیا

  

لاہور (کرائم رپورٹر)صوبائی دارالحکومت میں ڈرگ کا استعمال اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کے استعمال سے نئی نسل بتدریج موت کے منہ میں جا رہی ہے جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ہر سال ملک میں کہیں نہ کہیں زہریلی شراب یا ڈرگ کے زائد استعمال سے سینکڑوں افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔وقتی طور پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن آج تک کسی کو بھی ایسے مقدمے میں عبرتناک سزا نہیں مل سکی ۔ گزشتہ روز بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا جب یونیورسٹی آف لاہور کے تین طالب علموں نے شراب پی تینوں کی حالت خراب ہونے پر انہیں ہسپتال لیجایا گیا جن میں سے ایک دم توڑ گیا جبکہ دو کی حالت انتہائی نازک بیان کی جاتی ہے ۔مرنے والا طالب علم سیکنڈ ایئر کا سٹوڈنٹ تھا ۔بتایا گیا ہے کہ ایک روز قبل یونیورسٹی آف لاہور کے تین طالب علموں صالح ،سرمد اور جواد نے شبلی ٹاؤن کے ہاسٹل میں بیٹھ کر شوق شوق میں شراب پی جو کہ زہریلی ثابت ہوئی جس سے تینوں کی حالت شراب پینے کے دوران ہی خراب ہو گئی انہیں فوری طور پر دیگر ساتھیوں نے فاروق ہسپتال بھجوایا جہاں طالب علم صالح دم توڑ گیا ۔جبکہ سرمد اور جواد کے معدہ کو ڈاکٹر صاف کرتے رہے تاہم ان کی حالت بھی نہیں سنبھل سکی مرنے والے طالب علم صالح کی لاش کو مردہ خانہ بھجوایا گیا ۔تاہم اہل خانہ نے اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کر دیا ہے ۔اور وہ لاش لیکر چلے گئے۔مقامی ایس پی سے اس بارے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا ہے کہ پولیس کو پہلے اس واقعہ سے بے خبر رکھا گیا اب وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ شراب کہاں سے حاصل کی گئی جس شخص سے شراب حاصل کی گئی تھی اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

لاہور،ڈرگ

مزید :

صفحہ آخر -