فرسٹ ائیر کے نتائج کا معاملہ، غیر تربیت یافتہ ایگز امینرز کی غفلت و لاپرواہی ثابت، رپورٹ تیار

فرسٹ ائیر کے نتائج کا معاملہ، غیر تربیت یافتہ ایگز امینرز کی غفلت و لاپرواہی ...

  

لاہور(لیاقت کھرل) انٹر میڈیٹ پارٹ ون کے امتحانی نتائج کی تیاری میں انٹر بورڈز پالیسی ، پیپروں کی مارکنگ میں برق رفتاری اور نتائج کی تیاری میں پیریڈ کم ہونے پر اُجلت سے امتحانی نتائج کی تیاری میں امتحانی نتائج کومشکوک بنایا اور بعدازاں امتحانی نتائج کی تیاری میں رہی سہی کسر ایگزامینر اور ہیڈ ایگزامینر نے بھی اپنا کوئی خاص کردار ادا نہ کر کے نکال دی ۔جس میں لاہور بورڈ کے 20ہزار طلبا سمیت پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈوں کے ایک لاکھ کے قریب طلبا کے رزلٹ میں نقائص پائے گئے۔جس کی بناء پر تعلیمی بورڈ لاہور سمیت پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کے خلاف طلبا احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے اور اس میں بعض طلباء تنظیموں نے بھی احتجاجی مظاہروں کو احتجاجی تحریک کی شکل دینے میں اپنا کردارادا کیا، جس سے تعلیمی بورڈ لاہور سمیت دیگر تعلیمی بورڈز کی ساکھ متاثر اور تعلیمی بورڈز پر سے بچوں کے اعتماد میں کمی نے جنم لیا ہے۔ جبکہ تعلیمی بورڈز کے حکام نے اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے پرائیویٹ اکیڈمیوں کی توقعات کے برعکس نتائج نہ آنے پر ملبہ اکیڈمیوں پر ڈالنے کی ناکام کوشش کی ۔ انٹرمیڈیٹ پارٹ ون کے امتحانی نتائج کی تیاری میں پائی جانے والے نقائص پر وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر قائم کردہ اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں چیئر مین ایم آئی ٹی ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن سمیت5رکنی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی کی تیارکردہ رپورٹ سے حاصل کردہ معلومات میں سنسی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں جو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی آج اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ لاہور بورڈ سمیت پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے فرسٹ ایئر کے نتائج کی تیاری میں پائے جانے والے نقائص اور بے قائدگیوں کے حوالے سے تعلیمی بورڈ لاہور اور پنجاب کے دیگر تعلیمی بورڈز کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر قائم کردہ اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی نے جو اپنی رپورٹ تیار کی ہے اس میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ فرسٹ ایئر کے نتائج کی تیاری میں اساتذہ سے پیپر چیک کروانے کی نگرانی میں بورڈز حکام نے نااہلی اور کوتاہی کا مظاہرہ کیا ہے جس میں امتحانی پرچوں کی مارکنگ اور نتائج کی تیاری کے عمل کو مزید سخت بنایا جانے کی سفارش کی گئی ہے اور مارکنگ کے بعد امتحانی نتائج کی تیاری میں پسند ناپسند اساتذہ کو ایگزامینر اور ہیڈ ایگزامینر تعینات نہ کیاجائے۔ جبکہ پیپروں کی مارکنگ اور نتائج کی تیاری میں لاہور بورڈ سمیت دیگر بورڈز نے ایگزامینرز کو 300سے 400 تک امتحانی کاپیاں چیک کرنے کی اندر کھاتے سہولت فراہم کی ۔ اساتذہ نے پیپروں کی چیکنگ میں فاسٹ ہینڈ استعمال کیا ۔ اس کے ساتھ ایسے ایگزامینرز سے بھی پیپر چیک کروائے گئے جو کہ پہلی مرتبہ پیپر چیک کرنے کی ڈیوٹی پر مامور ہوئے ان ٹیچرز کی نہ تو ٹریننگ کروائی گئی اور نہ ہی ہیڈ ایگزامینر نے مناسب طریقہ سے نگرانی کی جبکہ چیئر مین لاہور بورڈ محمد اسماعیل چودھری سمیت سیکرٹری لاہور بورڈ امتحانات کی تیاری کے حوالے سے بھی نا واقف اور تربیت نہ رکھتے تھے۔ ایگزامینر کی تعداد بڑھانے کی بجائے محض پسند نہ پسند کی بنا پر ان کی پوسٹنگ اور اپنی مرضی سے امتحانی کاپیوں کی تقسیم کی جس میں مارکنگ کی تعداد بڑھائی گئی اور ایگزامینر بھاری معاوضہ کی لالچ میں روزانہ کہ بنیاد پر سینکڑوں امتحانی کاپیوں کی چیکنگ پر لگا رہا جس میں صرف لاہور بورڈ میں 18سے 20ہزار طلبہ و طالبات کا رزلٹ متاثر ہوا جس میں 3ہزار سے زائد طلبا و طالبات لاہور بورڈ سے اضافی نمبر حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ انٹر بورڈز پالیسی کے تحت ایک بورڈ کے پیپرز دوسرے بورڈ سے چیک کروانے کی پالیسی نے بھی امتحانی نتائج کوغیرمعیاری کیا ہے ۔جس سے لاہور بورڈ سمیت دیگر بورڈز کے ایک لاکھ سے زائد طلبا و طالبات کے متاثر ہونے کے بارے رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو آج ر پورٹ پیش کی جائے گی جس میں سنسنی خیز انکشاف کئے گئے ہیں جس میں چیئر مین لاہور بورڈ ،سیکرٹری لاہور بورڈ ،اور کنٹرولر لاہور بورڈ سمیت دیگر تعلیمی بورڈوں کے چیئر مینوں ،سیکرٹریوں اور کنٹرولرز سمیت دیگر متعلقہ افسران کو نتائج کی تیاری سے نا واقف اور ان کی مبینہ غلط پالیسی اور نا اہلی قرار دیا گیا ہے ۔ پیپروں کی مارکنگ اور نتائج کی تیاری پر مامور ٹیچرز اور ایگزامینرز کے معاوضہ کو بھی روکنے کی سفارش کی گئی ہے جس سے لاہور بورڈ سمیت دیگر تعلیمی بورڈرز کے ضائع ہونے والے کروڑوں روپے بچ جائیں گے ۔اس حوالے سے چیئرمین لاہور بورڈ اور پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کی کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر محمد اسماعیل چودھری نے ’’پاکستان‘‘ کو بتایا کہ انٹربورڈز پالیسی کے تحت امتحانی پیپروں کی چیکنگ دیگر اضلاع سے کروانا قانون کا حصہ ہے ۔چیئرمین نے مزید بتایا کہ امتحانی نتائج کی تیاری میں اور پیپروں کی چیکنگ میں بچوں کی خواہش کے مطابق نمبر نہیں دیئے جا سکتے ہیں اور نہ ہی بچوں کی خواہش کے مطابق پیپروں کی چیکنگ اور ری چیکنگ کروائی جا سکتی ہے۔ بچے والدین سے زیادہ انہیں عزیز ہیں تاہم تعلیمی بورڈز کی پالیسی اور قانون کے مطابق طلبا و طالبات کے پیپروں کی مارکنگ اور ری چیکنگ کی جاتی ہے ۔ اس حوالے سے کنٹرولر امتحانات ناصر جمیل کا کہنا تھا کہ احتجاجی مظاہروں میں بعض طلبا تنظیموں کی جانب سے پلان کے تحت مظاہرے کئے جا رہے ہیں تاہم مظاہرین یا مظاہرے میں شامل طلبا و طالبات کو ان کے پیپروں کی چیکنگ کروا دی گئی ہے باقی ماندہ طلبا و طالبات کے پیپروں کی چیکنگ اور ری چیکنگ کے سلسلہ کو تیز کر دیا گیا ہے اب تک 20ہزار میں سے 30سے 40فیصد طلبا و طالبات کے پیپر ری چیک کروائے جا چکے ہیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -