وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ غیر آئینی، عمران خان کے بیان پر عدالت سوموٹو ایکشن لے، اسحٰق ڈار

وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ غیر آئینی، عمران خان کے بیان پر عدالت سوموٹو ...

  

لاہور (آئی این پی) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نوازشر یف سے استعفیٰ مانگنے کا مطالبہ غیر آئینی ہے‘عمران خان کس آئین کے تحت وزیر اعظم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں ؟ میرے پاس عمران خان کے متعلق 100سوال ہے وہ کسی کا ایک بھی جواب نہیں دے سکیں گے ‘عمران خان کے شہید یا غازی ہونے کے بیان کا عدالت کو سوموٹو ایکشن لینا چاہیے ‘حکومت کی پالیسی ہے کسی کو شہر بند کر نے نہیں دیں گے ‘تحر یک انصاف کا دھرنے اور احتجاج کا مقصد کچھ اور ہے جو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘126دن کے دھر نوں میں بھی عمران خان اور انکے جماعت نے انتظامیہ سے جو معاہدہ کیا اسکی خلاف ورزی کی گئی ‘(ن) لیگ کی حکومت پر تحر یک انصاف کے احتجاج کا کوئی پریشر نہیں ‘ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ سے ضرور ملوں گا جمہو ریت کو مضبوط کیا جائیگا ۔ گزشتہ روز اپنے ایک انٹر ویو میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا خبر لیک ہونے کے معاملے پر متعلقہ ادارے کام کر رہے ہیں میں سمجھتاہوں کہ اس معاملے پر فوجی اور سیاسی قیادت سمیت تمام اداروں کو ملکر کام کر نا چاہیے اور حکومت بھی ہر صورت خبر لیک کر نیوالے تک پہنچا چاہتی ہے تاکہ حقائق سامنے آسکے مگر حکومت کے پاس کوئی میجک نہیں جس سے فوری اصل بندے تک پہنچ جائے اس تحقیقات میں انٹیلی جنس اداروں کا کردار اہم ہوگا ہم جلد بازی میں کسی بے گناہ کو قر بانی کا بکر ا بھی نہیں بنانا چاہتے میں سمجھتاہوں کہ جس رپورٹر نے یہ نیوز دی ہے اس کوبھی تحقیقات کر نیوالوں کے ساتھ تعاون کر نا چاہیے اور بتادیں کس نے ان کو سٹوری دی ہے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان 2نومبر کے احتجاج سے پہلے جو باتیں کر رہے ہیں اس سے یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ عمران خان کے احتجاج کا مقصد پانامہ لیکس کی تحقیقات کروانا نہیں بلکہ ملک کو عدم استحکام کا شکار کر نے کی سازش ہے مگر وہ اس میں پہلے بھی ناکام ہوئے ہیں اور آئندہ بھی انکو ناکامی کا ہی سامنہ کر نا پڑ یگا ۔ ایک سوا ل کے جواب میں وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ 2نومبرکو کسی کو شہر بند کر نے نہیں دیں گے اس حوالے سے کیا اقدامات ہو رہے ہیں وہ وزارت داخلہ اور دیگر ادارے کام کر رہے ہیں اور حکومت کی پالیسی ہے کسی کو شہر بند کر نے نہیں دیں گے۔

،ا سحق ڈار

مزید :

صفحہ آخر -