مقبوضہ کشمیر، فوجی کیمپ کی طرف مارچ کرنیوالے مظاہرین پر لاٹھی چارج، 27زخمی، 30گرفتار

مقبوضہ کشمیر، فوجی کیمپ کی طرف مارچ کرنیوالے مظاہرین پر لاٹھی چارج، 27زخمی، ...

  

سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں باھرتی مظالم اور تشدد کا سلسلہ107ویں روز بھی جاری رہا، بھارتی فورسز کی فائرنگ اور تشدد سے مزید27افراد زخمی ہو گئے جبکہ دیگر30کو گرفتار کر لیا گیا ہے،پلہالن میں فوجی کیمپ کی طرف مارچ کی کوشش ناکام،شوپیاں قابض فورسز کا کریک ڈاؤن،لوگوں نے مزاحمت کر کے مجاہدین کو فرار کر وا دیا،بانڈی پورہ میں بھارتی فورسز کی جانب سے قبرستان کی بے حرمتی،لوگوں نے پتھر مار کر اہلکاروں کو بھگا دیا،مظاہرین کا ایک اور رکن اسمبلی کے گھر پر پتھراؤ،کوٹ بالا میں مقامی وزیر کے قافلے پر سنگ باری،کوئی نقصان نہیں ہوا،مشتعل مظاہرین نے ٹرک اور ڈمپر کو نذر آتش کر دیا ،پٹرول بم کے حملے میں گاڑی تباہ،وادی میں کاروباری اور تجارتی مراکز بند،نظام زندگی معطل ،مظاہرین کایاسین ملک کو طبی امداد کی فراہمی اور مزاحمتی قیادت کو رہا کرنے کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ کے107ویں روز بھی وادی میں احتجاج کی لہر میں کمی نہیں آئی جبکہ دورسی طرف بھارتی فورسز نے بھی مظالم کی انتہا کر رکھی ہے ۔گزشتہ روز سرینگر کے سیول لائنز علاقوں میں دکانیں ، بینک ،سکول ، کالج ، سرکاری ا ورغیر سرکاری دفاتربند رہے تاہم نجی گاڑیاں چلتی رہیں ۔ ہم پائین شہرمیں ہڑتال کا زیادہ اثر دیکھنے کو ملا اور وہاں ہر طرح کے کاروباری اور تجارتی ادارے بند رہے۔اس دوران شہر کے حساس علاقہ مائسمہ میں مردوزن نے لبریشن فرنٹ کے علیل محبوس چیئر مین محمد یاسین ملک کو مبینہ طور تسلی بخش طبی سہولیات فراہم نہ کئے جانے کے خلاف ایک احتجاجی جلوس نکالا۔ جلوس میں شامل مردوزن ملک یاسین کو رہا کرنے کی مانگ کرنے کے ساتھ ساتھ دوران اسیری انہیں معقول طبی سہولیات فراہم کرنے کی مانگ کر رہے تھے۔ اس دوران پولیس اور فورسز نے احتجاجی مظاہرین کومنتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے کچھ گولے داغے جس کے بعد کچھ وقت کیلئے مقامی نوجوانوں اور پولیس کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال بھی جاری رہی اور اس دوران کچھ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کی کوشش کو خواتین نے ناکام بنا دیا۔اس دوران سرینگر میں محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری گودام و دفتر کے باہر ایک ٹرک پراسرار طور پر نذر آتش ہوا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاڑی مذکورہ دفتر کے باہر تھی جس دوران اچانک اس میں آگ نمودار ہوئی جس کے دوران اس کو جزوی طور پر نقصان پہنچا تاہم اس دوران کوئی بھی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دریں اثنا مزاحمتی لیڈر شپ کے مشترکہ احتجاجی کلینڈر میں 22اکتوبر کو شام 5بجے سے 14 گھنٹو ں کیلئے دی گئی ڈھیل کا وقت شروع ہوتے ہی سرینگر میں شہر خاص ، سیول لائنز اور دیگر علاقوں میں بازار کھل گئے اور اس کے بعد بڑی تعداد میں لوگ خریداری کیلئے بازاروں کا رخ کرنے لگے۔ بھارتی فورسز کی جانب سے قبرستان کی بے حرمتی،لوگوں نے پتھر مار کر بھگا دیا۔

مزید :

صفحہ آخر -