انسولین تھراپی کیلئے عوام میں آگاہی کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عامر کمال

انسولین تھراپی کیلئے عوام میں آگاہی کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عامر کمال

  

کراچی (خصوصی رپورٹ ) عام لوگوں میں انسولین تھراپی یعنی طریقہ علاج کے بارے میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں ہر سال 10فیصد اضافہ ہو رہاہے۔ ذیابیطس ایک خطرناک بیماری ہے جو دل اور گردوں کا امراض کے علاوہ ہائی بلڈ پریشر یعنی بلند فشار خون کا باعث بنتی ہے۔ یہ بات ڈاکٹر عامر کمال نے ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری جوہر اور صفورا سینٹر کے زیر اہتمام "ذیابیطس انسولین تھراپی"کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر مہمان خصوصی وزیر اعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی نادر حسین خواجہ ، ڈاکٹر صبیحہ عیسیٰ ،شیخ محمد ارشاد جنرل سیکریٹری سندھ تاجر اتحاد، غلام یاسین CMIT، ڈاکٹر فرح زیدی،ڈاکٹر نہال عیسیٰ،سید عقیل انجم قادری صدر جمعیت علماء پاکستان سندھ ،ڈاکٹر شادعیسیٰ، غلام محمد خان ،ضمیر احمد کھوسو ڈائریکٹر کالج کراچی ریجن،شکیل احمد قاسمی، ڈاکٹر فرحان عیسیٰ، ڈاکٹر خرم عیسیٰ،سید شہریار عاصم شیری،حمزہ بشیر، سید تنویر قادری، فلک ناز ، انور شیخ،عظمت اللہ خان ، عدنان خان، سید غضنفر حسین رضوی اور دیگر بھی موجود تھے۔ڈاکٹر عامر کمال نے مزید کہا کہ انسولین ایک ہارمون ہے جو جسم کو شوگر کے خطرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار اداکرتاہے ۔انسولین نہ صرف ذیابیطس کے مریضوں کی صحت یابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ بلکہ ذیابیطس ٹائپ ون میں مبتلا لوگوں کی زندگی کو محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عام لوگوں میں انسولین کے استعمال اور فوائد کے بارے میں درست معلومات اور شعور پیدا کیاجائے۔ڈاکٹر عامر کمال نے مزید بتایا کہ اگر یہی صورتحال رہی تو 2030میں زیا بیطس کے مریضوں کی تعداد پاکستان میں بہت زیادہ ہو جائیگی ۔انہوں نے کہا کہ مشرقی وسطیٰ جس میں پاکستان بھی شامل ہے یہاں ذیابیطس کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے جو کہ2030تک میں51.7ملین ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے جہاں7.4ملین ذیابیطس سے متاثر ہیں۔ ذیابیطس کے حوالے سے پاکستان کا شمار ساتویں نمبر پر ہے اگر ہم نے ذیابیطس ہر قابو نہیں پایا تو2030میں پاکستان ذیابیطس کے حوالے سے چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔نادر حسین خواجہ نے کہا کہ شوگر ذیابیطس جسے خاموش قاتل بھی کہا جا تاہے کہ مریضوں کی دنیا بھر میں بڑھتی تعداد نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، تاہم علاج کے ساتھ ساتھ پرہیز کے نتیجے میں اس خطرناک مرض پر باآسانی قابو پایاجا سکتاہے ، جہاں سستی اور کاہلی ،ورزش کی کمی میٹھے کا زیادہ استعمال اور مرغن غذائیں ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں وہیں سبزیوں ، پھلوں اور دیگر غذاؤں کا استعمال شوگر کے مریضوں کے لیے انتہائی مفید ہے جو نہ صرف اس مرض کو مزید بڑھنے سے روکتاہے بلکہ ان غذاؤں کے باقاعدگی سے استعمال کے ذریعے اس خاموش قاتل پر آسانی سے قابو بھی پایاجا سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ ذیابیطس کے ماہرین اس موذی بیماری کے خاتمے پر اس سے محفوظ رکھنے کے حوالے سے اہم کردار اداکر سکتے ہیں اس سلسلے میں مریضوں کی کمیونٹی اور حکومتی سطح پر مل کر ٹھوس بنیادوں پر جدو جہد کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر فرح زیدی نے کہا کہ خواتین میں دوران حمل میں ذیا بیطس شروع ہو تی ہے بچے کی پیدائش کے بعد ختم ہو جا تی ہے۔ڈاکٹر صبیحہ عیسیٰ نے کہا کہ ذیابیطس پر قابو پا کر اس کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتاہے ذیابیطس پاکستان میں تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری ہے دس میں سے ہر چوتھا شخص ذیابیطس کا مریض ہے۔ ڈاکٹر شاد عیسیٰ نے کہا کہ سادہ زندگی اختیار کر کے بہت سے جان لیوا امراض سے بچا جا سکتا ہے ہلکی ورزش اور چہل قدمی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مسلسل تن آسانی بھی بہت سے امراض کا باعث بن جاتی ہے۔ ضمیر احمد کھوسو نے کہا کہ تازہ مچھلی ، تازہ سبزی سمیت دیگراشیاء کا استعمال کریں اور عمر کے ساتھ ساتھ عوام کو چاہیے کہ وہ کولیسٹرول والی اشیاء کا استعمال کم کریں گے۔ سادہ غذا احتیاط پذیر اور معمولی ورزش ہمیں شوگر جیسے موزی امراض سے بچا سکتی ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -