جھوٹا مقدمہ بنانے پر پولیس آفیسر کیخلاف کاروائی کی جائے ، ابراہیم

جھوٹا مقدمہ بنانے پر پولیس آفیسر کیخلاف کاروائی کی جائے ، ابراہیم

  

چارسدہ (بیورو رپورٹ) ناکردہ گناہ کے پاداش میں جیل کی سزا کاٹنے والے پانچ شہریوں نے آئی جی خیبر پختونخوا اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اختیارات کے ناجائز استعمال ، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور 2کروڑ روپے اغواء برائے تاوان کا جھوٹا مقدمہ درج کرکے شریف لوگوں کو بد نام کرنے پر سٹی تھانہ چارسدہ کے ایس ایچ او عمران خان اور امن جرگہ مر دان کے خلاف فوری کاروائی کرکے ان کو انصاف دلایا جائے ۔ قانون کے رکھوالوں کی قانون شکنی پر کسی صورت خاموش نہیں بیٹھیں گے ۔انصاف نہ ملا تو احتجاجی تحریک شروع کرینگے ۔ تفصیلات کے مطابق جیل سے رہا ہونے والے تین سگے بھائیوں ابراہیم ، زاہد ، نور حبیب پسران نذر حکیم ، بھتیجے نعمت ولد فضل حبیب اور قریبی رشتہ دار فرمان نے سینکڑوں عمائدین علاقہ کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قریبی رشتہ دار نور محمد ولد سلطان محمد نے ان سے دو کروڑ روپے مالیت کی گاڑیاں خریدی تھی جس کو فروخت کرکے انہوں نے تمام سرمایہ سعودی عرب منتقل کیا جہاں پر ان کے دو بیٹے کاروبار کر رہے ہیں جبکہ نور محمد خود بھی 6اکتوبر کو سعودی عرب جانے والے تھے ۔ یکم اکتوبر کو 2کروڑ روپے ادائیگی کے حوالے سے عمائدین علاقہ کے 100رکنی جرگہ نے نور محمد اور ہماری رضامندی سے فیصلہ لکھ کر سنا یا اور فریقین سے باقاعدہ دستخط لئے ۔ اس دوران سود کے خلاف قائم امن جرگہ مر دان کے عہدیداروں نے سید کمال شاہ کی صدارت میں چارسدہ میں ایک اجلاس منعقد کیا اور ہم پر نور محمد کو اغواء کرنے اور 2کروڑ روپے طلب کرنے کا الزام لگاکر پولیس کو چار گھنٹے کے اندر نور محمد کی بازیابی کی ڈیڈ لائن دے دی جس پر سٹی تھانہ چارسدہ کی نفری بختی روان مہمند کے حجرہ پہنچ گئی جہاں پر 100رکنی جرگہ ہو رہا تھا ۔ جرگہ مشران نے پولیس کو راضی نامہ اور معاہدے کے حوالے سے آگاہ کیا جس پر پولیس نے امن جرگہ مردان کے ڈیڈ لائن کا حوالہ دیا جس پر جرگہ مشران نے نور محمداور ہمیں پولیس کے ساتھ جانے کی ہدایت کی ۔ سٹی تھانہ چارسدہ پہنچ کر ایس ایچ او عمران خان نے امن جرگہ مردان کے لوگوں کے سامنے گالی گلوچ سے ہمارا استقبال کیا اور ساتھ ساتھ بد ترین تشدد شروع کیا جس پر نور محمد اور ہم نے 100رکنی جرگے کا فیصلہ اور معاہدہ دکھا یا مگر ایس ایچ او نے راضی نامہ پھینک کر نور محمد کو ڈرا دھمکا کر راضی نامہ اور معاہدہ نہ ماننے پر مجبور کیا اور امن جرگہ مر دان کی خواہش کے مطابق ہم پر نور محمد کو اغواء کرنے اور دو کروڑ روپے تاوان طلب کرنے کی ایف آئی آر درج کرکے ہمیں حوالات میں بند کیا ۔اس دوران 100رکنی جرگہ کے مشران تھانہ پہنچ گئے مگر پولیس نے ان کو اندر جانے نہیں دیا ۔ رات گئے ایس ایچ او عمران خان نے پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ ہمارے گھر پر چھاپہ لگا کر چادر اور چار دیواری کا تقدس پا مال کرکے خواتین کی بے خرمتی اور تشدد کا نشانہ بناکر گھر سے نکال دیا جبکہ گھر سے ایک کلاشنکوف ، دو پستول اور حجرے میں کھڑی دو گاڑیاں لے گئے۔پولیس حجرے میں پڑی دو بیٹریاں بھی چوری کر کے لے گئے ۔ سٹی تھانہ چارسدہ کے ایس ایچ او عمران خان نے اگلے روز ہمارے چہرے ڈھانپ کر میڈیا کے سامنے پیش کیا اور ایک جھوٹی پریس کانفرنس کرکے ہمیں خطرناک اغواء کار قرار دیکر تین کلاشنکوف ، تین پستول اور دو گاڑیاں برآمد کرنے کا ڈرامہ رچایا ۔ اگلے روز عدالت نے ہمیں جیل بھیج دیا اور بلا آخر کار ایڈ یشنل سیشن جج رشیدہ بانو نے انصاف دلا کر ضمانت پر رہا کر نے احکامات جاری کئے۔انہوں نے مزید کہا کہ گاڑیوں کے کاروبار میں وہ خود اتنے مقروض ہو چکے ہیں کہ تین کروڑ روپے مالیت کے گھر کو ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے میں فروخت کیا اور اب اپنے گھر میں کرایہ پر رہائش پذیر ہیں ۔ اس موقع پر جرگہ مشران اور عمائدین علاقہ کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور آئی جی خیبر پختونخوا ناصر درانی سے ایس ایچ او عمران خان کے خلاف فوری کاروائی اور ان کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انصاف نہ ملا تو وہ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کرینگے ۔ میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے جرگہ مشران مولانا یوسف خان ، پیر دلاور شاہ ، بخت روان مہمند اور دیگر نے کہا کہ ایس ایچ او عمرا ن خان کی پولیس گردی اور پختون روایات کی پامالی کے خلاف وہ عنقریب آئی جی خیبر پختونخوا سے ملاقات کرکے اصل حقائق سے ، پختون روایات اور پختون جرگہ کی اہمیت سے آگاہ کرینگے ۔ انہوں نے امن جرگہ مردان کے کردار پر شدید تنقید کی اور کہا کہ امن جرگہ مسائل حل کرنے کی بجائے بگاڑ پیدا کر رہا ہے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -