مہاجروں کو اب مزید ایندھن نہیں بنایا جا سکتا، ڈاکٹر سلیم حیدر

مہاجروں کو اب مزید ایندھن نہیں بنایا جا سکتا، ڈاکٹر سلیم حیدر

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا ہے کہ مہاجروں کو اب مزید ایندھن بنایا نہیں جاسکتا۔ کچھ عناصر لندن سے بیٹھ کر مہاجر نوجوانوں کو اشتعال دلارہے ہیں اور گلے پھاڑ پھاڑ کر مہاجر بقاء کی دہائیاں دے رہے ہیں۔ آج سندھ کے مہاجر عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ یہاں سے کثیر سرمایہ لوٹ کر فرار(بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

ہونے والے ان نام نہاد مہاجررہنماؤں کی قوم کیلئے کیا قربانیاں ہیں۔ لندن میں بیٹھا 5افراد کا یہ ٹولہ سب سے پہلے پوری قوم کو یہ بتائے کہ 30 سال میں مہاجر جدوجہد کے دوران ان کے یا ان کے اہل خانہ نے کتنی مرتبہ جیلیں کاٹیں اور کتنی مرتبہ قربانیاں دیں۔ دودھ پینے والے یہ مجنوں برسوں سے مہاجر نوجوانوں کو گمراہ کررہے ہیں ، تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر انہیں دہشت گرد بنایا گیا ، جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مہاجر تحریک میں 15ہزار مہاجر شہید ہوئے ہیں تو وہ یہ بتائیں کہ ان 15ہزار شہداء میں ان کے اپنے کتنے رشتے دار شامل ہیں اور کیا ان قربانیوں کے نتیجے میں انہوں نے مہاجر قوم کو منزل کے قریب پہنچایا۔ انہوں نے کہاکہ گمران کن نعرے لگانے والے آج بھی لندن میں بیٹھ کر لوگوں کو بزدلی کے طعنے دیتے ہیں ، مہاجر قوم ان سے معلوم کرنا چاہتی ہے کہ وہ خود دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کب پاکستان آکر اپنے لوگوں میں سیاست کریں گے۔ قیادت کا کام سب سے پہلے قربانی دینا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے مہاجرنام پر سیاست کرنے والے عوام سے تو قربانی لیتے رہے لیکن خود کبھی قربانیاں نہیں دیں بلکہ وہ عناصر جو معاشی بدحالی کا شکار تھے آج ارب پتی بن چکے ہیں جس کی واضح مثال ایم کیوایم کے تمام دھڑوں کی جانب سے ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ مہاجر عوام شعور اور ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان بازی گروں اور بہروپیوں سے جان چھڑالیں۔ ورنہ گھسے پٹے ناکام کمیونسٹ لیڈر پھر ان پر مسلط کردیئے جائیں گے۔ انہوں نے مقتدر حلقوں سے اپیل کی کہ وہ کراچی میں آپریشن کے ساتھ سیاسی عمل کا بھی آغاز کریں اور مہاجروں کی بحالی کیلئے پیکیج دیا جائے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ملازمتوں میں سے 40فیصد ملازمتیں مہاجر نوجوانوں کو دی جائیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -