نوجوان روسی لڑکی کی کتے کیساتھ ایسی شرمناک حرکت کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا، گرفتار کر لی گئی

نوجوان روسی لڑکی کی کتے کیساتھ ایسی شرمناک حرکت کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ...
نوجوان روسی لڑکی کی کتے کیساتھ ایسی شرمناک حرکت کہ سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہو گیا، گرفتار کر لی گئی

  

سینٹ پیٹرز برگ (مانیٹرنگ ڈیسک) روسی پولیس نے کتوں اور بلیوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر انہیں موت کے گھاٹ اتارنے وال 2 لڑکیوں ایلینا اور اورلوا کوگرفتار کر لیا ہے۔ یہ لڑکیاں کتوں اور بلیوں کو تشدد کا نشانہ بنے اور انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتی تھیں۔

شادی کی تقریب میں نوجوان دلہن کی آنکھوں کے سامنے دولہا کا گلا کاٹ دیا گیاکیونکہ۔۔۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اورلووا کو روس کے شہر ولادی ووستوک کے ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا جو خباروسک سے سینیٹ پیٹرزبرگ جانے والی فلائٹ میں بیٹھنے کیلئے وہاں پہنچی تھی۔ حکام کے مطابق فیس بک پر پہچانے جانے کے باعث شائد وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

اس کی 19 سالہ ساتھی ایلینا کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جو اورلووا کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی متعدد تصاویر اور ویڈیوز میں اس کے ساتھ تھی۔ ایلینا متعدد تصاویر میں ڈراﺅنی فلموں جیسا میک اپ کئے اور کنٹیکٹ لینز لگائے نظر آتی۔ ایک بلی کو خنجر کیساتھ ڈرانے سے لے کر کتے کیل کے ذریعے دیوار کے ساتھ لٹکانے تک، یہ بالکل ایک ڈراﺅنی فلموں کے مناظر جیسا محسوس ہوتا تھا جو یہ لڑکیاں بے زبان جانوروں کے ساتھ کرتیں۔

نوجوان لڑکی نے اپنا کنوارہ پن فروخت کرنے کا اعلان کر دیالیکن وجہ ایسی کہ ہر کسی کو پریشان کر دیا

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام ’کارروائی‘ مقامی جگہ پر موجود ایک بند ہسپتال میں کی گئی۔ سوشل میڈیا پر تصاویر دیکھنے کے بعد جانوروں کے حقوق کی آواز بلند کرنے والے میدان میں آئے اور ایک مقامی رہائشی نے انہیں گرفتار کرنے کی پٹیشن جاری کی جس پر ایک لاکھ 86 ہزار افراد نے دستخط کئے۔ اس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور کارروائی کرتے ہوئے دونوں لڑکیوں کو گرفتار کر لیا۔

ایلینا کالج آف ٹیکنالوجی کی سابق طالبہ ہے جسے فیل ہونے پر نکال دیا گیا تھا جبکہ اورلووا پیسفک سٹیٹ یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ اورلووا نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ایلینا نے اسے پھنسانے کیلئے فوٹو شاپ کے ذریعے اسے تصاویر میں شامل کیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -