کچھ نہ کچھ تو ہوکے رہے گا

کچھ نہ کچھ تو ہوکے رہے گا
کچھ نہ کچھ تو ہوکے رہے گا

  

۲ نومبر مُلک و قوم کے لئے بہت اہم دِن ہے۔ ہر شخص اِس دن کے حوالے سے پریشان دکھائی دیتا ہے۔عمران خان کی دھواں دھار تقریوں سے سے لگتا ہے کہ مذکورہ دھرنا حکومت کے لئے او رعا م شہریوں کے لئے بہت ساری مشُکلا ت کا پیش خیمہ ثا بت ہو گا۔

عمران خان کے پلان کے مُطابق، ا سلام آباد کی طر ف آنے و الی ۹ ( نو) اہم شاہراﺅں کو بند کر دیا جائے گا۔ جس سے پاکستان کے دار الخلافہ کی عملی زندگی مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ سٹاک ایکسچینج پر بلا شُبہ مند ی کا رُجحان ہو گا۔ مُلک میںآنے والی اہم شخصیتوں کی آمد و رفت رُک جائے گی۔ مُلک میں افراتفری پھیلنے کا اندیشہ اپنی جگہ ہے۔ ذِی شعور شہری اِس صورتِ حال سے متفکر اور رنجیدہ ہیں۔ گو پیپلز پارٹی نے عمران خان کا با ضابطہ ساتھ دینے کا اعلان نہیں کیا ۔ تاہم بلاول بھٹو نے چار مطالبات پیش کئے ہیں۔ اِن مطالبات کا لُب لباب یہی ہے کہ وزیر ا عظم خُود کو احتساب کے لئے پیش کریں۔ تاہم انہوں نے یہ عندیہ دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی بھی غیر قانونی اور غیر آئنیی اقدام کی حمائت نہیں کرے گی۔ جس سے بعض حلقے یہ تا ثر لے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی در پردہ مُسلم لیگ کی حکومت کی مدد کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کی طرف سے دئے گئے بیانات محض ڈرامہ ہیں۔ کیونکہ اگر مُسلم لیگ کی حکومت کے خلاف بد عنوانی کے سلسلے میں جانچ پڑتال کی جاتی ہے تو پیپلز پارٹی کی اپنی قیادت کے دامن بھی بد عنوانی کے دھبوں سے ہرگز صاف نہیں۔ اُنکی بھی تحقیق ہو سکتی ہے۔ زرداری صاحب بھی دودھوں نہائے ہوئے نہیں ہیں۔ علاوہ ازیں، دونوں پارٹیاںفوج کو دل سے پسند نہیں کرتیں۔ کیونکہ دونوں پارٹیوں کا ماضی قابلِ رشک نہیں۔

پیپلز پارٹی کے اہم لیڈر اور حزبِ اختلاف کے ایوان میں سر برا ہ خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے پُر امن احتجاج کو تسلیم کرتی ہے لیکن اسلام آباد بند کرنے کی دھمکی کو غیر قانونی تصور کرتی ہے۔ عمران خانصا حب کا جارحانہ اندازِسیاست اُ نکی خود پسندی کا مظہر ہے۔ وُہ سولو فلائیٹ کو پسند کرتے ہیں۔ اس سے مُلک و قوم کو فائدہ نہیں ہو گا۔ اور اگر اِن کے اِس اقدام کی وجہ سے مُلک میں تیسیری طاقت اقتدار میں آئی تو پیپلز پارٹی پوری شدت سے اُسکی مخالفت کرے گی۔ جماعت اسلامی نے عمران خان کے دھرنے میں شرکت کرنے کا تو عندیہ نہیں دیا لیکن جماعت کے امیر کے بیانات سے ظاہر ہے کہ وُہ بھی موجودہ حکمر انوں کو کرپٹ سمجھتے ہیں، جماعتِ اسلامی نے بھی موجودہ حکمر انوں کے خلاف پانا مہ لیکس کے بارے میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے۔ مُسلم لیگ (ق) نے عملی طور پر دھرنے میں شرکت کی حامی بھر لی ہے۔ شیخ رشید کی حمایت بھی عمران خان کی تحریک انصاف کو حاصل ہے۔ ڈاکٹر طاہر قادری صاحب بھی ذہنی اور قلبی طور پر عمران خان کے موقف کی تائید کرتے ہیں لیکن چند ایک اختلافات کی وجہ سے عملی طور پر شرکت نہیں کر رہے۔ تاہم اُن کو رضامند کرنے کے لئے شیخ رشید پوری کوشش کر رہے ہیں۔

مُلک میں ایک عجیب ہل چل سی مچی نظر آتی ہے لیکن نواز شریف اور اُنکے رفقاءکے چہروں پر پریشانی کے کوئی آثار دکھائی نہیں۔ یہ خوش فہمی یا بد گمانی کے پیچھے کون سے محرکات ہیں؟ عام شہری سمجھنے سے بالکُل قا صر ہے۔ ایک طرف وزیر اعظم غریبوں کی زبوں حالی پر آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف و ہ اپنے قتدار کی خاطر مُلک کی نیا ڈبونے پر تیار نظر آتے ہیں۔ آخر کیوں؟ لگتا ہے کہ انہیں کسی غیبی مدد کا بھروسہ ہے ۔ اِس لئے وُہ سرحدوں سے مطمئن ہیں۔

بلاشبہ پانامہ لیکس کا معاملہ عدالت عا لیہ میں ہے۔ زیر سماعت معاملے کے بارے رائے زنی کرنا ٹھیک نہیں ہو گا۔ تاہم اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ عدالت عالیہ کا درخواستوں کو سماعت کے لئے منظور کر لینا ہی اِس بات کا ثبوت ہے کہ پانامہ لیکس کے کیس میں ایسا مواد موجود ہے جس کی تحقیق ہونی ضروری ہے اور تمام درخواست گُزاروں کے موقف کو سُننا قا نون کے مُطابق مناسب ہو گا۔ باالفاظ دیگر، وزیر اعظم،اُنکی بیٹی، بیٹوں اور تمام لوگوں کو جو اِس میں ملوث ہیں ،طلب کر لیا گیا ہے۔ اگر در خواست دہند گان کی در خو استوں میں سُقم ہو تا یا عدلیہ کو محسوس ہوتا کہ در خو استیں زیاں وقت کے علاوہ کُچھ بھی نہیں تو عدلیہ بغیر کیس طرف داری کے اُنکو پہلی ہی پیشی پر خارج کر دیتی۔ لیکن عدلیہ نے تمام درخواستوں کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد تمام فریقوں کو شناختی کارڈوں کیساتھ پیش ہونے کا حکم جاری کیاہے۔ عدالت عالیہ نے اشخاص کے علاوہ، نیب، ایف بی آئی، اور دوسرے اداروں کے سر براہوں کو بھی طلب کیا ہے۔ جس کا مطلب ہے معا ملہ گمبھیر ہے۔ یہ کم از کم بد عنوانی کی جانب اشارہ ضرور کرتا ہے۔ لیکن حکمران خوش آمدی ٹولے کی میٹھی میٹھی باتوں میں مگن ہیں۔ فوج سے خائف بھی ہیں لیکن فوج سے وفاداری کا دم بھی بھرتے ہیں۔ یہ دوغلی پالیسی کسی حادثے کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ فوج کی خدمات کا اعتراف بھی کرتے ہیں لیکن فوج کے خلاف خبر یں بھی فیڈ کرتے ہیں۔ مانا کہ وزیر اعظم اِس میں ملوث نہیں لیکن بطور وزیر اعظم وُہ اپنی اخلا قی ذمہ داری سے پہلو تہی نہیں کر سکتے۔ فوجی قیادت کا غصہ اپنی جگہ بالکُل جائیز اور مُناسب ہے۔ وزیر اعظم ہاو¿س سے اعلیٰ سطحی میٹنگ کی کارر وائی کا لیک ہونا متعدد شکوک وشُبہات کو جنم دیتا ہے۔ فوج کی قیادت نے اِس بات کو شدت سے محسوس کیا ہے کہ مُسلم لیگ (ن) کی حکومت بھارت کے وزیر اعظم مودی کوخوش کرنے کے لئے اور اپنی فوج کو بد نام کرنے لئے یہ سار ڈرامہ خود رچا رہی ہے۔ فوج کی سنجیدگی کا اندازہ کور کمانڈروںکی میٹنگ اور اُن کے جاری کردہ متفقہ بیان سے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن افسوس اورحیرت کا مقام ہے کہ موجودہ حکومت حالات کو نارمل سمجھے بیٹھی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اندر سے حکمران خود حالات سے خوفزدہ ہوں لیکن سیاسی مخالفین کو سَب اچھا کا تا ثر دے رہے ہوں۔ تا ہم دال میں کُچھ کالا ضرور ہے۔

مزید :

بلاگ -