450 سال پرانا روبوٹ دریافت جو آج بھی بالکل ٹھیک انداز میں کام کرتا ہے، کس نے بنایا؟ ناقابل یقین انکشاف

450 سال پرانا روبوٹ دریافت جو آج بھی بالکل ٹھیک انداز میں کام کرتا ہے، کس نے ...
450 سال پرانا روبوٹ دریافت جو آج بھی بالکل ٹھیک انداز میں کام کرتا ہے، کس نے بنایا؟ ناقابل یقین انکشاف

  

لندن(نیوزڈیسک) آٹومیشن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ بیسویں صدی میں عام ہوالیکن حال ہی میں ایک ایسا خودکار مونک کا مجسمہ ملا ہے جو کہ تقریباًپانچ سو سال پہلے بنایا گیا تھا اور یہ خودبخود حرکت کرتا ہے۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سولہویں صدی عیسویں میں ہسپانوی خاتون گھڑی ساز ’خوانیلوٹوری آنو‘ نے بنایا تھا۔ہسپانوی گھڑی ساز کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ رومن بادشاہ چارلس الزبتھ کے دربار سے منسلک تھی اور خودکار چیزوں کو بنانے میں ماہر سمجھی جاتی تھی۔یہ بات مشہور ہے کہ بادشاہ کا بیٹا شدید بیمار تھا ،بادشاہ نے یہ دعا کی تھی کہ اگر اس کابیٹا صحت یاب ہوگیا تو وہ ایک ایسی چیز بنوائے گا جو کہ اپنے دور کی عجوبہ ہوگی۔قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ شہزادہ صحتیاب ہوگیا اوربادشاہ نے خوش ہوکر اسے یہ کام دیا کہ وہ ننھے شہزادے کے لئے ایسا کھلونا بنائے جسے دیکھ کر بچہ خوب کھیلے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اپنے زمانے کے حساب سے یہ کھلونا ایک عجوبہ ہے،اس وقت یہ امریکہ کے ایک عجائب گھر میں موجود ہے اور اس پر تحقیق جاری ہے۔

وہ گاڑی آگئی جسے چلاتے ہوئے آپ کو کسی ٹریفک سگنل پر نہیں رکنا پڑے گا

اس نے اپنے مضمون "Clockwork Prayer: A Sixteenth-Century Mechanical Monk."میں اس تخلیق پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔

اس مجسمے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے جسم کا ہر عضو علیحدہ سے حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے، سر دائیں اور بائیں جانب حرکت کرتا ہے،جب بھی اسے اٹھایا جاتا ہے تو آنکھیں کراس کی جانب دیکھتی ہیں۔اس کا دائیاں ہاتھ حرکت کرتے ہوئے سینے کے ساتھ لگتا ہے۔ گوکہ اسے مذہبی شکرانے کے طور پر بنوایا گیا تھا لیکن اس کو دیکھنے سے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ اسے 1560ءمیں بنوایا گیا تھا، اس دور میں موجودہ دور کی طرح کی انجینئرنگ موجود نہ تھی لیکن پھر بھی اس طرح کی تخلیق انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -