’ایک کاغذ پکڑو اور جو چیز چاہے اُس پر لکھ دو، ہم تمہیں دیں گے‘ یہ ناقابل یقین پیشکش روس نے کس ملک کو کی؟ جان کر امریکیوں کے واقعی ہوش اُڑجائیں گے

’ایک کاغذ پکڑو اور جو چیز چاہے اُس پر لکھ دو، ہم تمہیں دیں گے‘ یہ ناقابل یقین ...
’ایک کاغذ پکڑو اور جو چیز چاہے اُس پر لکھ دو، ہم تمہیں دیں گے‘ یہ ناقابل یقین پیشکش روس نے کس ملک کو کی؟ جان کر امریکیوں کے واقعی ہوش اُڑجائیں گے

  

ماسکو (نیوز ڈیسک) دنیا کے کئی ممالک محض اس خوف سے امریکہ کے غلام بنے ہوئے ہیں کہ بغاوت کی صورت میں نجانے سپر پاور ان کا کیا حشر کرے گی، لیکن دوسری جانب فلپائن جیسے کمزور اور چھوٹے ملک نے امریکی غلبے کو لات مار کر یہ ثابت کردیا کہ سر اٹھا کر جینے والی قوموں کی ہر کوئی عزت کرتا ہے۔ فلپائن کے صدر راڈریگو ڈوٹرٹے نے امریکہ سے بغاوت کا علم بلند کیا تو پہلے چین نے اس کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھادیا اور اب روس نے بھی ایسی پیشکش کر دی ہے کہ جس نے سنا حیران رہ گیا۔

اخبار دی انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق روس نے فلپائنی صدر کو کھلی پیشکش کر دی ہے کہ جو چاہئیے اس کی لسٹ بنا کر لے آﺅ، روس سب کچھ دینے کو تیار ہے۔ روسی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ فلپائن کو ہر شعبے اور ہر میدان میں سفارتی مدد فراہم کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ روس کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلپائن ایک خودمختار ریاست ہے جس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے گی بلکہ اسے بغیر کسی شرط کے تعاون اور حمایت کی پیشکش کی جارہی ہے۔

روس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات سے قبل فلپائنی صدر چین کے دورے پر گئے تو وہاں بھی انہیں غیر معمولی گرمجوشی اور تعاون ملا۔ چین کے دورے کے دوران ہی انہوں نے کہا تھا، ”امریکہ شکست کھاچکا ہے۔ میں روس بھی جاﺅں گا اور ولادی میر پیوٹن سے بات کروں گا۔ میں انہیں بتاﺅں گا کہ اب ہم تینوں، چین، فلپائن اور روس، ایک ہیں۔“

روس نے اب ایسی جگہ سے ایٹم بم برسانے کی تیاری مکمل کر لی کہ امریکہ روکنا تو دور اسے آتا دیکھ بھی نہیں سکتا

فلپائنی صدر کے بیانات کے جواب میں امریکی حکومت کی جانب سے بھی ایک بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ان بیانات کی وضاحت درکار ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے فلپائنی صدر امریکی صدر باراک اوباما کو غلیظ گالیوں سے بھی نواز چکے ہیں، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس بار امریکہ نے ان سے براہ راست وضاحت مانگنے کی کوشش نہیں کی۔

مزید :

بین الاقوامی -