’سعودی عرب کے پاس صرف 3 برس ہیں، اس کے بعد۔۔۔‘ انتہائی خطرناک پیشنگوئی منظر عام پر، طاقتور عرب ملک کیلئے بڑا خطرہ!

’سعودی عرب کے پاس صرف 3 برس ہیں، اس کے بعد۔۔۔‘ انتہائی خطرناک پیشنگوئی منظر ...
’سعودی عرب کے پاس صرف 3 برس ہیں، اس کے بعد۔۔۔‘ انتہائی خطرناک پیشنگوئی منظر عام پر، طاقتور عرب ملک کیلئے بڑا خطرہ!

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) مشکلات میں گھری سعودی معیشت کے بارے میں غیر ملکی میڈیا اور اداروں کی جانب سے پریشان کن دعوے تو پہلے ہی سامنے آرہے تھے لیکن اب مملکت کے اپنے اعلیٰ سطحی حکام نے بھی یہ تشویشناک وارننگ جاری کردی ہے کہ اگر حد سے بڑھے ہوئے سرکاری شعبے کو محدود نہ کیا گیا تو تین سال میں معیشت کا دیوالیہ نکل سکتا ہے۔

عریبین بزنس کی رپورٹ کے مطابق وزیر برائے سماجی خدمت خالد العراج نے MBCٹی وی نیٹ ورک پر منعقد ہونے والے ایک مباحثے کے دوران کہا کہ مملکت میں سرکاری ملازمین دفتر میں یومیہ ایک گھنٹہ بھی مشکل سے گزارتے ہیں اور انہیں کام کی جانب مائل کرنے کے لئے ضروری ترغیبات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

’اب سب کو پیسے ملنے والے ہیں۔۔۔‘ سعودی حکومت نے بڑا اعلان کردیا، پریشان حال لوگوں کو خوشخبری سنادی

برطانوی اخبار ٹائمز کی رپور ٹ کے مطابق وزیر سماجی خدمت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”مملکت کا سرکاری شعبہ، جو کہ 70 فیصد افرادی قوت کو ملازمت فراہم کرتا ہے، انتہائی غیر پیداواری ہے اور اس کے ملازمین کے کام کا معیار انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ نظام کا ٰیہ حال ہے کہ ملازمت چھوڑ جانے والوں کو بھی تنخواہیں ادا کی گئی ہیں۔“

سعودی حکومت اب اس صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کررہی ہے۔ گزشتہ ماہ یہ اعلان سامنے آیا کہ وزراءکی تنخواہ میں 20 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ دیگر سرکاری ملازمین کی مراعات میں بھی کمی کی جائے گی۔

سعودی معیشت کے ان مسائل کا آغاز عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں ہونے والی غیر معمولی کمی سے ہوا۔ تیل کی آمدنی میں بھاری کمی کے باعث مملکت کو گزشتہ سال تقریباً 100 ارب ڈالر (تقریباً 100 کھرب پاکستانی روپے) کے تاریخی بجٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کو بہتر کرنے کے لئے سرکاری شعبے کے اخراجات کو مزید محدود کیا جا رہا ہے۔

مزید :

عرب دنیا -