’ایک بندہ مارنے کے 10ہزار روپے ملتے ہیں اور اب تک ہم میاں بیوی 800 لوگ مارچکے ہیں‘

’ایک بندہ مارنے کے 10ہزار روپے ملتے ہیں اور اب تک ہم میاں بیوی 800 لوگ مارچکے ...
 ’ایک بندہ مارنے کے 10ہزار روپے ملتے ہیں اور اب تک ہم میاں بیوی 800 لوگ مارچکے ہیں‘

  

منیلا(مانیٹرنگ ڈیسک) فلپائن میں منشیات کے خلاف آپریشن جاری ہیں جس میں صدر روڈریگوڈوٹرٹے نے منشیات کے سمگلروں اور اس کے عادی افراد کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم دے رکھا ہے۔ اب تک اس آپریشن میں 4ہزار سے زائد لوگ موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں۔ان لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے ایک پرائیویٹ ڈیتھ سکواڈ تشکیل دیا گیا ہے۔ پولیس انہیں کسی بھی شخص کو گولی مارنے کا حکم دیتی ہے اور یہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ اس ڈیتھ سکواڈ میں ایک میاں بیوی بھی شامل ہیں جن کا ایک انٹرویو ایس بی ایس ڈیٹ لائن نے نشر کیا ہے۔ ایس (Ace)اور شیلا نامی اس میاں بیوی کا کہنا تھا کہ ”ہمیں ایک بندہ مارنے کے 10ہزار روپے ملتے ہیں اور اب تک ہم 800لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔پولیس ہمیں کسی بھی شخص کو قتل کرنے کا حکم دیتی ہے جنہیں ہم گولی مار دیتے ہیں۔ جس کے عوض پولیس ہمیں رقم ادا کرتی ہے۔ اب تک ہمارا ڈیتھ سکواڈ 2ہزار 730لوگوں کو قتل کر چکا ہے۔ ہمارے جیسے اور بھی پرائیویٹ گروپ موجود ہیں لیکن سب سے زیادہ بندے ہمارے گروپ نے مارے ہیں۔“

’ماں! اگر مجھے کچھ ہوجائے تو۔۔۔‘ وہ نوجوان جو اپنی ماں کو یہ پیغام بھیجنے کے چند دن بعد ہی مُردہ حالت میں پایا گیا، اس میں کیا لکھا تھا اور وہ کیا کام کرتا تھا؟ ایسی حقیقت کہ پوری دنیا کو پریشان کردیا

ایس اور شیلا نے بتایا کہ ”ہمیں پولیس کی طرف سے کال کی جاتی ہے اور ٹارگٹ کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ پولیس ہمیں ٹارگٹ کی ایک تصویر بھی دیتی ہے۔ ہمیں اس ٹارگٹ کو ٹھکانے لگانے کے لیے تین دن دیئے جاتے ہیں۔ ہمارے گروپ کا پہلا اصول یہ ہے کہ ہم کبھی کوئی سوال نہیں پوچھتے۔ہم عموماً ایک ہی دن میں مطلوبہ شخص کو گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا ٹارگٹ اس چیز سے باخبر نہ ہونے پائے کہ ہم اسے گولی مارنے جا رہے ہیں۔ ہم انہیں صرف ایک گولی مار کر فرار نہیں ہو جاتے بلکہ وہاں کھڑے ہو کر ان کی موت کی تسلی کرتے ہیں اور ضرورت ہو تو مزید گولیاں بھی مار دیتے ہیں۔“ انہوں نے مزید بتایا کہ ہمارے ملک میں اوسط ماہانہ آمدنی 4000روپے ہے لہٰذا یہی ایک طریقہ تھا کہ ہم زیادہ رقم کما سکتے۔ چنانچہ ہم اس گروپ میں شامل ہو گئے۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -