”کاریگر پولیس افسرڈاکے ڈلواکرترقیاں حاصل کرتے تھے“سابق آئی جی پولیس کی کتاب میں انکشاف

”کاریگر پولیس افسرڈاکے ڈلواکرترقیاں حاصل کرتے تھے“سابق آئی جی پولیس کی ...
”کاریگر پولیس افسرڈاکے ڈلواکرترقیاں حاصل کرتے تھے“سابق آئی جی پولیس کی کتاب میں انکشاف

  

لاہور(سپیشل ایڈیٹر)آوٹ آف ٹرن ترقیاں حاصل کرنے والے پولیس افسروں کے خلاف سپریم کورٹ کے منصفانہ فیصلے کے بعد یہ حقیقت کھل کرسامنے آچکی ہیں کہ سیاسی خوشنودی سمیت دیگر ہتھکنڈے استعمال کرکے ترقیاں حاصل کرنے کے رجحان نے پولیس سسٹم کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے تو اختیارات کے نشہ میں دھت افسر جھوٹی تفتیش اور لالچ کے تحت جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے بے گناہوں کو پھانسی اور قید خانوں میں زندگیاں ختم کرنے پر مجبور کرتے رہتے ہیں جس سے خاندانوں کے خاندان برباد ہوجاتے ہیں۔نوّے کی دہائی میں جب پنجاب میں جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہواتو ایسے پولیس افسروں کو ترقیاں حاصل کرنے کا موقع مل گیا تھا جنہوں نے جرائم کی سرپرستی سے اپنے مستقبل کو روشن کیا تھا۔سابق آئی جی پنجاب پولیس چودھری سردار احمدمرحوم نے اپنے کتاب ”پنجاب پولیس ،سچ کیا ہے“ میں یہ انکشاف کیا تھا کہ میاں شہباز شریف اپنے پہلے دور میں جرائم کو ہنگامی طور پر ختم کرنے کی خواہش رکھتے تھے جبکہ انہیں دیرپااور موثر نظام تشکیل دینے کا مشورہ دیا جاتا اور سیاسی اثرورسوخ ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جاتی تھی تاکہ پولیس میں سے خوف اور رشوت کا خاتمہ کیا جاسکے۔ ان سے قبل وزیر اعلی غلام حیدر وائیںکے دور میں پولیس شدید خوف کا شکار ہوچکی تھی۔جس علاقہ میں ڈاکا پڑتا وہاں کے ایس ایچ او اور ایس پی کو بھی معطل کردیا جاتا جبکہ ایک اے ایس آئی اور دو ایم پی اے حضرات کے جھگڑے کی بنیاد پر آئی جی چودھری منظور احمد کو تبدیل کردیا گیا تھا جس کے بعد سیاسی قوتوں نے پولیس کو بے حد کمزور کردیا اور پولیس ڈاکے کا پرچہ کاٹنے سے گریز کرنے لگی۔ان حالات میں پولیس افسروں اور عوامی نمائندگان میں کشیدگیاں بڑھ گئیں جبکہ بہت سے افسروں نے سیاستدانوں کی خوشنودیاں حاصل کرنا شروع کردیں۔اس میں انکی نوکریوں کی بقا ہوتی تھی۔چودھری سردار احمد مرحوم لکھتے ہیں” اس دور میں خوف کے سائے میں پولیس ایک بدی کے چکر میں گھوم رہی تھی،منشیات،اسلحہ عام ہوگیا تھا ،عام اور خاص لوگ ہر کوئی شدید ترین عدم تحفظ کا شکار تھے،حکومت کے دبائو پر پولیس بھی کارروائی پر کارروائی ڈال رہی تھی۔اپنے واقف کاروں کے ذریعہ مقتدرحضرات کے گھروں میں ڈاکے ڈلوائے جاتے اور پھر چشم زدن میں مال برآمد کرالیا جاتا،ہر طرف اس پولیس افسر کی واہ واہ ہوجاتی،نہایت ہی کاریگر پولیس افسروں نے اس طرح سے ناجائز انعامات اور ترقیاں حاصل کیں۔اس سے ایک اور برائی کا چکر شروع ہوگیااورناجائز ترقیوں کی دوڑ لگ گئی“چودھری سردار احمدایسی ترقیوں کے خلاف تھے اور کہا کرتے تھے کہ اس سے پولیس نظام مزید کمزور ہوگا۔انکے مطابق اپنے کیس کو مضبوط بنانے کے لئے دیانتدار پولیس افسر محض اپنی ساکھ بچانے کے لئے بے گناہ کو مجرم بنا دیا کرتے تھے۔انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 1973 وہ ایس ایس پی ضلع لاہورتھے تو انارکلی کے ڈی ایس پی سلطان غنی کے پاس ایک قتل کا کیس آیا جس میں تین ملزم نامزد تھے اور ان میں دو بے گناہ تھے۔انہیں جب کہا گیا کہ وہ خدا کے حکم کی تعمیل کریں اور حق پر بات کرتے ہوئے ان میں سے دوبے گناہ افراد کو پھانسی چڑھنے سے بچا سکتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ اسطرح تو میرا سارا کیس خراب ہوجائے گا۔وہ اپنی تفتیش میں ان بے گناہوں کو بھی نامزد کررہے تھے۔ چودھری سردار احمد لکھتے ہیں ” جب میں 1978 میں نارکوٹکس کنٹرول بورڈ کا ڈائریکٹر تھا اتفاق سےسلطان غنی کے تین عزیز قتل کے مقدمے میں پھنس گئے۔انکی تفتیش میرے عزیزاے ایس پی ہمایوں رضاشفیع کے پاس تھی ۔ وہ میرے پاس آکر کہنے لگے کہ ہمایوںسے کہہ کر انکے بے گناہ دوعزیزوں کو کیس سے نکلوا دوں ۔میں نے جب انہیں قتل کے بے گناہ ملزموں کا پراناواقعہ یاد دلایا تو وہ زاروقطار رونے لگے اور کہا”سروس کے دوران بہت بھول ہوئی اور خواہ مخواہ مفروضوں پر کام کرتے رہے ہیں۔اختیار اور اقتدار چاہے تھوڑا ہی ہو،انسان کو اندھا کردیتا ہے“۔

مزید :

جرم و انصاف -