وہ طریقہ جس سے عورتیں آسانی سے بچہ جنم دے سکتی ہیں

وہ طریقہ جس سے عورتیں آسانی سے بچہ جنم دے سکتی ہیں
وہ طریقہ جس سے عورتیں آسانی سے بچہ جنم دے سکتی ہیں

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کل زچگی کے عمل سے گزرنے والی خواتیں بغیر درد کے ڈلیوری کراتی ہیں یا وہ آپریشن سے گزرکر بچہ جننا پسند کرتی ہیں۔ایک زمانہ وہ تھا جب خواتین کو مشقت اور محنت کا عادی بنا کر انہیں نارمل ڈلیوری دایہ کے ہاتھوں بھی کراتے ہوئے خوف محسوس نہیں ہوتا تھا ۔لیکن تساہل پسندی اور خواتین میں جسمانی تفریح کم ہونے سے انہیں زچگی کے دوران پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ایسی خواتین کے بچوں کی صحت بھی قابل رشک نہیں ہوتی۔خواتین کے لیئے یہ بات انتہائی حیران کن ہوگی کہ صدیوں پہلے خواتین کو بیلی ڈانس سکھا کر انہیں زچگی کے لئے تیار کیا جاتا تھا جس سے وہ ڈلیوری کے دوران بیلی ڈانس کے اندازِ رقص سے اپنے اندرونی اعضا کو جدگانہ حرکت دیکر صحت مند بچہ پیدا کرتیں اور انہیں درد بھی نہیں ہوتا تھا۔مشہور بیلی ڈانسرروزینانے Grandmother's Secrets: The Ancient Rituals and Healing Power of Belly Dancing میں انکشاف کیا ہے کہ صدیوں پہلے خواتین کو بیلی ڈانس کرایا جاتا تھا ،بیلی ڈانس کرنے سے اندرونی غدود حرکت کرتے ہیں اور خواتین کے وہ اعضا جو پیدائش کے دوران زچگی کا عمل پورا کرتے ہیں انکی بیلی ڈانس کے ذریعہ سے ورزش ہوتی رہتی ہے اور انتہائی لچک آمیز ہوجاتے ہیں۔ایسی خواتین مخصوص سازوآوازپرسینے کولہے ،چوتھڑوں میںجداگانہ تھرتھراہٹ پیدا کرکے آھنگ پیدا کرتی ہیں جس سے ان میں غیر معمولی لچک اور ہر عضو میں انفرادی حرکت پیدا ہوجاتی ہے۔دوسرے ڈانس کی نسبت بیلی ڈانس کرنے والی خواتین زیادہ پھرتیلی اور تحمل مزاج ہوتی ہیں ،انکی دلکشی بڑھ جاتی اور درد کو سہنے کی قوت برداشت اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے۔آج بھی یورپ اور کئی ایشیائی و عرب ملکوں میں ”بیلی ڈانس ڈلیوری“ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ایسی خواتین کوشادی سے پہلے ہی بیلی ڈانس کرایا جاتا ہے اور حمل کے بعدانہیںبیلی ڈانس کی پریکٹس کراکے ڈلیوری کے وقت کسی قسم کی دوا نہیں دی جاتی ۔وہ نارمل انداز میں بیلی ڈانس کے پوز بنا کر اذیت کو لذت میں بدل لیتی ہیں۔“

مزید :

تعلیم و صحت -