قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر کیسے لیک ہوئی ،چیف جسٹس ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر کیسے لیک ہوئی ،چیف جسٹس ہائی کورٹ نے حکومت سے ...
قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر کیسے لیک ہوئی ،چیف جسٹس ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کرلیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر لیک کرنے کے معاملہ کی تحقیقات خفیہ رکھنے کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی حکومت اور وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15نومبرتک جواب طلب کرلیا ہے ۔

الیاس خان نامی شہری نے سابق وزیر قانون بابر اعوان ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائراپنی درخواست میں قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر لیک کرنے والوںکے خلاف تحقیقات خفیہ رکھنے کے اقدام کو چیلنج کررکھا ہے ، بابر اعوان ایڈووکیٹ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ قومی سلامتی کے ان کیمرہ اجلاس کی خبر منصوبہ بندی کے تحت لیک کی گئی، انگلش اخبار خبرمیں لیک کروا کر دنیا بھر میں پاک فوج کو بدنام کیا گیا، کور کمانڈرز کے اجلاس میں فیڈڈ خبر شائع کروانے پر شدید تشویش ظاہر کی گئی، حکومت نے قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر لیک ہونے کی انکوائری کا اعلان کیا، خبر لیک کرنے پر وفاقی وزراءاور بیوروکریٹس پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں.

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سیکرٹری وزارت داخلہ کو انکوائری کے نتائج منظر عام پر لانے کا حکم دیا جائے اور سیکرٹری داخلہ کو ذمہ داروں کیخلاف غداری کا مقدمہ درج کروانے کا حکم دیا جائے،جبکہ ایف آئی کوذہہ داروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیا جائے، سپیکر قومی اسمبلی کو ذمہ داروں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا جائے اور سیکرٹری دفاع کو ذمہ داروں کیخلاف اٹھائے گئے اقدامات منظر عام پر لانے کا حکم دیا جائے ۔درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ خبر لیک کرنے والوںکے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا جائے، عدالت نے وفاقی حکومت وزارت داخلہ ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہو ئے 15نومبر تک جواب طلب کر لیاہے۔

مزید :

لاہور -