میاں صاحب قدم بڑھائیں!

میاں صاحب قدم بڑھائیں!
میاں صاحب قدم بڑھائیں!

  

کیا یہ ضروری ہے مسلم لیگ نواز کے اقتدار کا اختتام ’’قدم بڑھانے‘‘ پر ہی ہو۔ وہی اسٹیج اور ویسے ہی حاضرین ۔ ملک ہیجان کا شکار ، کاروبار زندگی داؤ پر اور حاصل کیا ہوا؟۔

طویل جلاوطنی کے بعد مسلم لیگ نواز کے قائدین نے جس قدر عوامی طاقت حاصل کی اسے معاشرتی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن کے لئے استعمال کرنے میں کمزوری دکھائی گئی۔ پہلے اور اب بھی ان کے پاس بدستور موقع موجود ہے کہ ترجیحات کو بدلتے ہوئے حقیقی انقلابی اور اصلاحی ایجنڈے کی طرف آئیں۔

اس ایجنڈے کا ذکر میاں محمد نواز شریف نے بھی کئی مرتبہ کیا۔سوال یہ ہے گذرے سالوں میں وہ کونسی مجبوریاں تھیں جنہوں نے انقلابی ایجنڈے پر عمل درآمد سے روکا؟۔ انتخابات سے قبل جماعت کے قائد میاں محمد نواز شریف نے کئی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’میرا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوجائیے۔

آپ کو اٹھنا ہوگا۔ پاکستان بلا رہا ہے۔ میرے قدم سے قدم ، کندھے سے کندھا ملا کر چلو۔ ہم پاکستان کے دشمنوں کو دفن کر دیں گے۔ فیصلہ کن مرحلہ ملک دشمنوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گا‘‘۔ انتخابات ہوئے۔

اقتدار ملا۔ مسائل حل کرنے کی باری آئی تو سمت کے تعین میں دشواریاں بھی نمودار ہوگئیں۔ پولیس کلچر نہ بدلا جا سکا۔ وجہ؟۔ پولیس آمادہ نہیں۔ پٹواری کو ریفائن کرنے کی کوشش کی گئی۔ وہاں بھی مشکلات۔ صحت کی تباہیوں کا جب علم ہوا تو آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔ تعلیم کا میدان دھرنوں کو کاؤنٹر کرنے کی دھول سے اٹ گیا۔ وقت گذرتا چلا گیااور اگلے الیکشنز کی باتیں عام ہونا شروع ہوگئیں۔ کہاں گئے عوام، کہاں گئے مسائل، اب اگلا الیکشن جانے اور اس کے نتائج۔ اپنے تئیں میاں محمد نوازشریف بھی تبدیلی کے خواہاں نظر آئے۔ انہوں نے کوشش بھی کی لیکن نظام نے انہیں بھی عمل درآمد نہ کرنے دیا۔ وہ نوجوان شدید مایوس ہوئے جنہیں معاشرے نے باور کروا رکھا تھا ان کی زندگی سستی ، خواب ادھورے اور ارمان جھوٹے ہیں۔ نوجوانوں کے ان خوابوں کو مسلم لیگ نے نہیں نظام نے چورہ چورہ کیا۔

یہ نظام اتنا مضبوط ہوچکا ہے حکمران جماعت چاہتے ہوئے بھی اسے توڑنے میں کامیاب نہیں ہو پائی۔ اقتدار سنبھالتے ہی سیاسی و سماجی گرگوں کا گروہ میاں صاحب کی طرف لپکا۔

کسی نے من پسند وزارت کی خاطر لابنگ شروع کی، کوئی پرکشش سرکاری عہدوں پر نظریں جما کر بیٹھ گیا۔ اب یہ قائدین کی سادگی کی انتہاء نہیں تو اور کیا تھا کہ اس شخص کو سرکاری ٹی وی کی کمان سونپی گئی جو کروڑوں روپے سمیٹنے کے بعد آج ببانگ دہل مسلم لیگ نواز کو لتاڑ رہا ہے۔

چھوٹے چھوٹے مفادات کے گرد گھومتی شخصیات نے ایوان اقتدار کے باسی کو پے در پے غلط مشوروں سے نوازا۔ آج پلٹ کی دیکھیں تو تمام متعلقہ احباب غائب ہو چکے ہیں۔ کس نے ترجیحات طے کرنی تھیں۔ کس نے عمل درآمد کے لئے فریم ورک بنانا تھا۔

نئے چیلنجز کے لئے قانون سازی کی ذمہ داری کس نے بنھانا تھی۔۔۔آج کوئی ذمہ داری لینے پر تیار نہیں۔ میاں محمد نوازشریف کے گن گانے والے آج ساری ذمہ داری ان کے کندھوں پر ڈال کر نئے جہانوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ سرکاری ٹیلی وژن میں اصلاحات کس نے متعارف کروانا تھیں؟۔ قانون فوجداری میں عوام دشمن شقوں میں ترمیم کس نے کرنا تھی؟۔

جیل خانہ جات کے نظام کو یورپین سٹینڈرڈ پر کس نے لانا تھا۔مفت طبی سہولیات کی ہر فرد تک رسائی کے لئے انشورنس کمپنیوں اور سرکاری سبسڈی کے درمیان توازن کس نے پیدا کرنا تھا؟۔ ملکی انڈسٹری کے فروغ اور بین الاقوامی منڈیوں میں رسائی کے لئے خام مال پر ڈیوٹیاں کس نے گھٹانی تھیں۔خود مختار آئی جیز، مقامی رہائشی ایس ایچ اوز کی تعیناتی اور سخت جوابدہی کا میکنزم کس نے ڈیولپ کرنا تھا۔

مدارس کے طلباء کو اسناد سے نوازنے سے قبل لازمی ہنرمند کورسز کس نے کروانا تھے۔۔۔اسی طرح کے سینکڑوں ، ہزاروں اقدامات تھے جو مسلم لیگ نواز کے ہاتھوں سر انجام پانا چاہئے تھے۔۔۔لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔ ایک مقبول ترین لیڈر، لاکھوں ، کروڑوں لوگوں کا پسندیدہ، پارلیمانی برتری بھی ایسی کہ وسیع پیمانے پر اصلاحات کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں، پھر کیا وجوہات ہیں نظام کو بدلنے کے لئے ہمہ جہت کوششیں نہ ہو سکیں؟۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا چیخ چیخ کر مسائل کی نشاندہی کر تا رہا۔ ہمدرد دانشور بار بار سلگتے مسائل کی طرف نشاندہی کر تے رہے۔

لیکن سوال یہ ابھرتا ہے بروقت اقدامات کیوں نہیں کئے جا سکے؟۔ کیا مسلم لیگ نواز میں فیصلہ سازی کا اختیار ایک سے زائد ہاتھوں میں تھا؟۔ کیا قریبی رفقاء نے ساری طاقت عمران خان کو کاؤنٹر کرنے میں خرچ کروادی؟۔ پارٹی میں وہ کون سے ایسے آستین کے سانپ تھے جنہوں نے میاں محمد نوازشریف کو اس انقلابی ایجنڈے پر کام کرنے سے روکا جو انہیں طویل عرصے کے لئے حاکمیت کے عہدے پر فائز رکھ سکتا تھا۔

اس انقلابی ایجنڈے کے لئے کسی لمبی چوڑی رقم کی ضرورت بھی نہیں تھی، صرف قوانین سازی کی ضرورت تھی۔نئی قانون سازی نے راتوں رات عوام کو ریلیف فراہم کرنا تھا۔ مثال کے طور پر قانون فوجداری میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں۔ اب وہ وقت نہیں رہا چھوٹے موٹے جرم میں ملوث شخص کو جیل میں پٹخ دیا جائے۔ اس کے گھر کا نظام کون چلائے گا؟۔ ایک کو سزا دیتے دیتے سارے خاندان کو عذاب میں پٹخنا اکیسویں صدی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ چھوٹا جرم، سزا کمیونٹی سروس، جیسا کہ محلے کی مسجد یا گلی کی صفائی۔

اب اسے بدقسمتی نہیں تو کیا کہا جائے دن رات وفاداریوں کا بھرم بھرنے اور قابلیت کے دعوے کرنے والوں کے پاس قانون سازی کے لئے بھی وقت نہیں تھا۔ یہ حقیقت ہے ایسے احباب نظام میں انقلابی تبدیلیاں تو دور کی بات اسے چھونا تک بھی نہیں چاہتے تھے۔

آج پارٹی کے پرائمری یونٹ مفلوج ہو چکے ہیں۔ ضلعی اور صوبائی قیادتیں کارکنوں کو تنہائی کے مورچوں میں محصور کرکے طاقت کے نئے ایوانوں کی سن گن میں لگ چکی ہیں کارکنوں کو بھلایا جاچکا ہے۔ انہی کارکنوں کی بدولت پارٹی نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی۔

مسلم لیگ کو مکمل اتھارٹی کے ساتھ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ لیکن چھوٹی موٹی سیاسی چالوں میں کامیابی کو ہی عوامی پسندیدگی سے تعبیر کر لیا گیا۔ ایسی چالوں کا کیا کرنا جو مستقبل کی بساط ہی الٹ کر رکھ دیں۔

پارٹی نے قومی سطح پر معاشرتی اپ گریڈیشن کے لئے نہ تو کوئی اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی کبھی بھولے بسرے سے ذکر بھی کیا۔ ایک دفعہ نہیں سو بار بھی اقتدار مل جائے تو مسائل جوں کے توں رہیں گے تاوقتیکہ مکمل اتفاق رائے کے ساتھ نظام حکومت کے رولز آف بزنس کو بدلنے کی خاطر تگ و دو نہ کی جائے۔ میاں محمد نوازشریف ایسا اتفاق رائے پیدا کرواسکتے تھے۔

وہ ہٹ کر سوچنے کی صلاحیت بھی رکھتے تھے۔ نئے صوبے ، نیا ایف سی ایوارڈ، نئے سول سروسز رولز اور نئے سرے سے تمام گورنمنٹ فنکشنریز کے اختیارات و جوابدہی کا میکنزم۔ سبھی کچھ ہو سکتا تھا۔لیکن قریبی رفقاء نے ایسا نہ ہونے دیا۔ نظام کون بدلنے نہیں دے رہا؟۔

سیاسی قائدین خود یا ان کا قرب رکھنے والی سیکنڈ کلاس لیڈر شپ؟۔ یہ لیڈر شپ قائدین کو مسلسل اور متواتر اپنے سطحی وژن کے مطابق ڈرائیو کرتی رہی۔ پہلے مخالف کا ذکر کرکے ایشو اٹھائے پھر ایشو کے بوٹ میں قائد کا پاؤں پھنسایا اور پھر اپنی اہمیت کے احساس سے لطف اندوز ہونے کے لئے فون یا میسیج کے انتظار میں موبائل ہاتھ میں پکڑ کر سوگئے۔ نظام جوں کا توں، عوام ہکے بکے اور اشرافیہ، بیوروکریٹ مسرتوں کے جنگل میں رقصاں رہے ۔

سوچنے والا امر یہ ہے ایسا کب تک چلے گا؟۔ ہر قابل ذکر سیاسی جماعت میں ذہین ، مسائل سے آگاہ لوگ موجود ہیں۔ چلیں دوسروں کو تو چھوڑیں آخر حکمران جماعت نے نظا م کی اوور ہالنگ کے لئے پہلا قدم خود کیوں نہیں اٹھایا؟۔ کاش ایسا ہو جاتا تو آج دوبارہ’’میاں صاحب قدم بڑھائیں‘‘ جیسے الفاظ سے پالا نہ پڑتا۔

مزید :

کالم -