ہم فوج اور ریاستی اداروں سے تصادم نہیں چاہتے،کوئی ادارہ مارچ کے بیچ میں نہ آئے:مولانا فضل الرحمان

ہم فوج اور ریاستی اداروں سے تصادم نہیں چاہتے،کوئی ادارہ مارچ کے بیچ میں نہ ...
ہم فوج اور ریاستی اداروں سے تصادم نہیں چاہتے،کوئی ادارہ مارچ کے بیچ میں نہ آئے:مولانا فضل الرحمان

  



سکھر(ڈیلی پاکستان آن لائن) جمیعت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ آزادی کا احساس قوم کے ذہنوں میں پیدا ہوا ہے،ہم فوج اور ریاستی اداروں سے تصادم نہیں چاہتے،کوئی ادارہ مارچ کے بیچ میں نہ آئے،آزادی مارچ ماضی کی روایات سے بلکل برعکس ہے،عوام کے ووٹ پر کسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے،آج بھی ہم عوام کی طاقت کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں،حکمرانوں کو واپس ان کے گھر بھیج کر دم لیں گے۔

۔سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہر شخص کو اپنے شیشے میں اپنی شکل نظر آجاتی ہے،عمران خان خود بیرونی ایجنٹ ہیں، پورے ملک نے اسلام آباد میں مارچ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ یہ ناجائز حکومت ہے اور انہیں اب گھر جانا ہوگا،ہم پہلے بھی مطمئن نہیں تھے، ننگے انداز کے ساتھ اس بار الیکشن میں دھاند لی ہوئی ہے، یہ حکومت آمرانہ ہے۔ آصف علی زرداری سابق صدر ہیں کافی عرصے سے بیمار ہونے کے باوجود اب انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے،شاہد خاقان عباسی سابق ویر اعظم،ہیں انہیں پھانسی گھاٹ میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری تصویر میڈیا پر آتی ہے تو چینل والے کہتے ہیں کہ پابندی ہے، تقریر کے لیئے پابندی کے آڈر فون پر آتے ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم سیاست میں سنجیدہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں وہ کرتے ہیں،کوئی احتساب نہیں بس سیاستدانوں کو جیل میں ڈالنے کا جبر ہے، نیب کو استعمال کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کی حالت ایسی ہے کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری حکومت ہوگی،ہم ہر انتہائی قدم کے لیئے تیار ہیں،ہم فوج اور ریاستی اداروں سے تصادم نہیں چاہتے،کوئی ادارہ مارچ کے بیچ میں نہ آئے۔

ان کاکہناتھاکمیٹی سےمذاکرات کےلیئےدھمکیاں دی گئیں،ہم بغیرکسی شرط و قید کےکسی کےمہربانی کے منتظر نہیں ہیں،عدالت ہمیں نہیں روک رہی، عدالت کہتی ہے کہ احتجاج ہمارا حق ہے،ادارہ ادارہ ہوتا ہے سول ہو یا فوج ہو، آج جو لوگ ان کے سر پر بیٹھے ہیں ان سے گلہ شکوہ ہوسکتا ہے، کل یہ لوگ نہیں ہوں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انڈیا ہمارے احتجاج پر نہیں عمران خان کے لیئے مٹھائیاں بانٹے گا،عمران خان نے تو کشمیر کو بیچ دیا ہے،عمران خان تو الیکشن سے قبل مودی کو مبارکبادیں دیتے تھے،ہمیں انڈیا سے بلیک میل نہ کیا جائے،عمران خان کشمیر کے ماموں یا چاچو نہ بنیں ، کشمیر کے محافظ ہم ہیں

مزید : قومی