پہلے مرغی آئی یا انڈا؟ سائنسدانوں نے حیران کن جواب دے دیا

پہلے مرغی آئی یا انڈا؟ سائنسدانوں نے حیران کن جواب دے دیا
پہلے مرغی آئی یا انڈا؟ سائنسدانوں نے حیران کن جواب دے دیا

  



مرغی اور انڈے کی دوڑ یعنی دنیا میں ان دونوں میں سے کون پہلے آیا یہ سوال صدیوں سے حل طلب ہے، قابل ذکر بات ہے کہ انڈے کیلئے مرغی کا ہونا بہت ہی ضروری ہے، لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ انڈا ہوگا تو اس میں سے مرغی نکلے گی۔ کچھ لوگ مانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلے انڈا آیا لیکن کچھ کا خیال اس سے مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ انڈا نہیں بلکہ اس کی ماں مرغی نے پہلے جنم لیا اور پھر یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا جو اب بھی جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔

یہ سوال کوئی عام نہیں اس کی دنیا بھر میں بڑی اہمیت ہے، چاہے کوئی سائنسدان ہو یا پھر عام شخص، ہر کوئی اس کھوج میں رہتا ہے، کچھ بادشاہ لوگ بھی اس سوال کا اپنا سا ہی جواب دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آپ کو اس سے کیا آم کھاو درخت مت گنو، یعنی انڈا اٹھاو اور اس پر چوٹ لگاو اور فرائی پین میں ڈالو ، پکاو اور کھالو اوراگر آئل سے نفرت ہے یا کولیسٹرول کی وجہ سے ڈاکٹر نے فرائی انڈا منع کررکھا ہے اور دل پھر بھی انڈا کھانے کیلئے للچا رہاہے تو پانی کی پتیلی چولہے پر چڑھاو انڈا اس میں پھینکو ابالو اور کھالو۔

دنیا بھر میں اس حوالے سے سائنس سے جڑے کئی ادارے تحقیقات بھی کرچکے ہیں، اور ہربار ایک نیا جواب سامنے آتا ہے، تاہم کچھ عرصہ قبل ایک تحقیق سامنے آئی تھی، جس کے مطابق سب سے پہلے مرغی نے جنم لیا، سوال پھر بھی یہی ہے کیسے جنم لیا تو تحقیق میں اس موقف کو مضبوط بنانے کیلئے کہا گیا کہ ہزاروں سال پہلے روئے زمین پر مرغی کا نام ونشان نہیں تھا بلکہ  اس سےملتاجلتا ایک پرندہ تھا جس کے جنیاتی تغیر کے نیتجے میں مرغی وجود میں آگئی،اس کیلئے انڈے کی ضرورت نہیں تھی، اور پھر آگے چل کر مرغی کی نسل بن گئی۔

اس کے علاوہ بھی کئی تحقیقات سامنے آچکی ہیں، ایک اور تحقیق کے مطابق انڈا اور مرغی دونوں ایک ساتھ آئے، جبکہ کئی محقق اس تحقیق کو مضحکہ خیز قرار دیتےہیں، تاہم مرغی اور انڈے کا یہ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا تھا کہ ایک اور نیا مسئلہ سامنے آگیا یعنی جعلی انڈےکا، پاکستان کے شہر کراچی میں فوڈ اتھارٹی نے ایک چھاپے کے دوران جعلی یا مصنوعی انڈے پکڑے ہیں، یہ انڈے پلاسٹک سے تیار کئے گئے ہیں جو یقینا مضرصحت بھی ہیں، دیکھنے میں یہ بالکل انڈے ہی لگتے ہیں لیکن یہ مصنوعی طور پر بنائے گئے ہیں، انڈے باہر سے بھی اصلی اور اندر سے بھی اصلی لگتے ہیں، کوئی بھی شخص دھوکا کھا کر اس انڈے کو کھا سکتا ہے، پلاسٹک سے بنے اس انڈے کی پہچان کیسے ہو؟ اس کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے، انڈے کو ابال کر اس کی سفیدی کو آگ لگائیں اگرآگ لگنےسے انڈا پگھلنے لگے گا اوراس کی بو بھی پلاسٹک کے جلے جیسی ہو تو سمجھ لیں انڈا جعلی ہے۔

اس میں بےچاری مرغی کا تو کوئی قصور نہیں وہ تو پہلے ہی اس سوال سے باہر نہیں آسکی کہ وہ پہلے آئی ہے یا انڈا تاہم اس جعلی انڈے کو کیمیکل سے بنایا گیا ہے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا انڈا کھانے سے کسی بڑی بیماری کا بھی خدشہ ہے، یعنی آپ معدے کی بیماری میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔ ہمارے ہاں سیٹرڈے ہو یاسنڈے کھاو انڈے یعنی انڈے ہرروز ناشتے میں استعمال ہوتے ہیں اس واقعے کے بعد ہمیں چاہیے کہ ہم انڈے اور مرغی میں سے کون پہلے آیا کا سوال چھوڑ کر انڈے خریدتے ہوئے جعلی انڈے کی نشاندہی کیلئے خود کو چوکس رکھیں تو بہتر ہوگا۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ، اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان پر بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ