ایک شخصیت کئی ادارے (2)

ایک شخصیت کئی ادارے (2)
ایک شخصیت کئی ادارے (2)

  

ادارے انسان بناتے ہیں اور انسانوں کی کاوشوں سے ہی نُمو پاتے ہیں۔ کچھ ادارے خالصتاً کاروباری اور منافع بخش تناظر میں قائم کیے جاتے ہیں،جبکہ کچھ کی وجہ بنیاد کسی خاص طبقہ ئ حیات یا عوام الناس کی علمی، ادبی، مالی اور سماجی خدمت ہوتا ہے۔انجمن حمایت اسلام کا تعلق دوسری نوعیت کے اداروں سے ہے۔

1857ء کی جنگ ِ آزادی کے نتائج میں مسلمانانِ ہند کو جس ذہنی اذیّت سے گزرنا پڑا، تاریخ کے اوراق گواہ ہیں۔محرومی، مایوسی اور غربت،جو غلامی کی پیداوار ہیں، سے نکالنے کے لئے چند بے لوث، بے غرض، سرفردش میدان ِ عمل میں نکلے۔ان مردانِ حُر میں سَرسیّد احمد خان سرفہرست ہیں، جنہوں نے زبان، قلم اور عمل سے مسلمانوں کو مستقبل کا راستہ سمجھانے میں اہم کردار ادا کیابھلے اس کے لئے انہیں کفر کے فتوے بھی سہنا پڑے۔سَرسیّد کی طرح، مگر قدرے مختلف انداز، میں خلیفہ قاضی حمید الدین نے24ستمبر 1884ء، اندرون موچی دروازہ لاہور کی مسجد میں انجمن حمایت ِاسلام کی بنیاد رکھی، جس کے مقاصد میں دیگر رفاعی اور اصلاحی ا قدام کے علاوہ بچیوں کے لئے کئی سکولوں اور یتیم خانوں کا قیام شامل تھا۔

انجمن نے 1892ء میں اسلامیہ کالج لاہور اور 1939ء میں اسلامیہ کالج برائے خواتین لاہور قائم کیا،جو پورے شمالی ہندوستان میں پہلا خواتین کالج تھا۔ قیام پاکستان کے بعد انجمن حمایت اسلام اپنی نوعیت کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم ٹھہری۔ اس کے ممبران اعلیٰ علمی، ادبی اور سماجی قد آور شخصیات رہیں، جنہوں نے مسلم معاشرہ اور اس کی ترویج کے لئے کام کرنے کی لگن، دیانت داری اور محنت کو مشعل ِ راہ بنایا۔اسی لئے آج کثیر خیراتی اداروں کے علاوہ 14کے قریب تعلیمی ادارے انجمن کی سر پرستی میں علم و ہنر کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں، جو طلبگاروں کو صلاءِ عام دیتے ہیں۔

 انجمن کے کل 17صدور رہے، جن میں شاعر مشرق علامہ اقبالؒ،میاں سرمحمد شفیع، سر شیخ عبدالقادر اور جسٹس نسیم حسن شاہ جیسی نامور شخصیات شامل ہیں۔ جسٹس منظور حسین سیال نے 2009ء میں انجمن کی سربراہی سنبھالی اور بے غرض خدمات کی بنیاد پرمزید تین بار بلا مقابلہ، متفقہ صدر منتخب ہوئے اور تا دمِ مرگ اس ذمہ داری پر فائزرہے۔

جب جسٹس سیال مرحوم نے ذمہ داری سنبھالی تو انجمن کے انتظامی امور میں سیاست،ذات اور خود پرستی نمایاں تھی۔انجمن کی زمینوں پر قبضے ہوچکے تھے اور اداروں کی کارکردگی رُوبہ زوال تھی۔ جسٹس مرحوم کی آمد انجمن کے لئے ایک تازہ اور صحت افزاء ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی۔انجمن کا آئین جو 1960ء میں بنایا گیا، اُس میں بہت سی خامیاں رہ گئی تھیں، غیر معمولی صوابدیدی اختیارات کا وجود نہ صرف عملہ کی بلا امتیاز تقرری میں رکاوٹ تھا،بلکہ دیگر امور کی انجام دہی میں بلا جھجھک اور پر اعتماد مشاورت کے معاملے پر بھی گراں تھا۔ ان نقائص کو دور کرنے اور اصلاح اور فلاح کے مقصد کو بہتر اور شفاف بنانے کیلئے جسٹس سیال مرحوم نے آئین میں ترامیم متعارف کرائیں۔ شفافیت کی داغ بیل ڈالنے کے لئے انجمن کا بیرونی آڈٹ کروانے کا سلسلہ متعارف کرایا۔ تمام تقرریاں بلاسفارش صرف میرٹ پر کرنے کے انتظامات کئے۔ صدر کے صوابدیدی اختیارات ختم کرائے۔ انجمن کی زمینیں بہت بڑے کاروباری افراد اور اداروں کے استعمال اورقبضہ میں تھیں،جن کا کرایہ کوڑیوں میں ادا کیا جاتا تھا، جس کی ایک مثال گلبرگ لاہور میں واقع ایک معروف نجی تعلیمی ادارہ کے زیر تصرّف انجمن کی زمین  ہے۔ ایسے اداروں سے نہ صرف مارکیٹ ریٹ پر کرایہ لینا یقینی بنایا، بلکہ انجمن کی کئی جائیدادیں وا گزار کرائیں۔ آپ کی کوششوں اور کردار پر اعتماد کرتے ہوئے کئی مخیّر حضرات نے اپنے گھر اور جائیدادیں انجمن کے نام وقف کرائیں،جن میں سے پروفیسر ڈاکٹر خالد حمید شیخ صاحب،پروفیسر گل اعجاز ہاشمی صاحب اور بشیر احمدصاحب کے نام قابل ِ ذکر ہیں۔

جسٹس سیال مرحوم انجمن کی تعلیمی سطح پر اعلیٰ خدمات کو جاری رکھنے کے لئے انجمن حمایت اسلام لاء کالج کے معیارِ تعلیم کو ملک کے بہترین لاء کالجز کی تعلیمی سطح پر لے آئے۔لاء کالج کے لئے سبزہ زار، لاہور، میں نئی بلڈنگ بنانے کا منصوبہ بنایا، مگر زندگی نے مہلت نہ دی۔ ملازمین اور یتیم خانوں میں پرورش پانے والے بچوں کے لئے ہسپتال اور ڈسپنسریاں قائم کیں۔ طبیّہ کالج کی لیبارٹری کو جدید سطح  پرتحقیقی ساز و سامان سے لیس کیااور اس کالج میں بی ای ایم ایس کی ڈگری کا اجراء کیا، جس کے لئے کالج کو ہائیرایجوکیشن کمیشن کے ساتھ منسلک کرایا۔

غریب اور بے سہارا بچوں کے لئے اعلیٰ فنی تعلیم کی فراہمی آسان اور یقینی بنانے کے لئے محمد امین پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ سبزہ زار کی عمارت کو اپ گریڈ کرایا۔گارڈن ٹاؤن لاہور میں حمائیت ِاسلام انسٹیٹیوٹ آف بزنس اینڈ ماڈرن ٹیکنالوجینز قائم کیا،جس کے تحت بی بی اے۔ بی ایس لاء وغیرہ کی کلاسز کا اجراء کرایا۔ اس ادارے کوعنقریب یونیورسٹی بنانے کا منصوبہ زیرِ تعمیر تھا کہ خالق حقیقی سے جا ملے۔انجمن کے لئے جسٹس مرحوم کی خدمات کا باب طویل ہے۔انجمن کے ایک ذمّہ داررُکن کے بقول جتنا تعلیمی، تعمیری، رفاعی، فلاحی اور اصلاحی کام جسٹس سیال مرحوم کے عرصہ سربراہی میں ہوا اتنا کام انجمن کی 136سالہ تاریخ میں نہیں ہوا۔

مرحوم ایک انتہائی ایماندار انسان تھے۔ اپنے دس سال سے زیادہ عرصہ سربراہی میں انجمن کے پیسہ سے ایک گھونٹ چائے یا پانی تک پینا نا پسند کیا۔ ایسا سوچنا یا کرنا غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کے حقوق پر ڈاکہ سمجھا۔انجمن کے معاملات سے متعلق ہونے والی ہر تقریب کے خورد و نوش کے جملہ اخراجات ہمیشہ اپنی جیب سے اداکرتے رہے۔ تاہم میاں منیر، سابق ایم این اے، جو انجمن کے سیکرٹری جنرل ہیں وہ بھی اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ جسٹس سیال مرحوم جیسے فردِ فرید روز روز بطن ارض سے نمودار نہیں ہوتے۔ آپؒ کی زندگی پر اجمالاً نظر دوڑائی جائے توبظاہر وہ ایک شخصیت دکھائی دیتے ہیں، مگر اُن کی یہ ایک شخصیت بے شمار اداروں میں پھیلی ہوئی ہے اور ہر ادارہ اُن سے مکمل اور بھر پور مستفید ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ مرحوم اپنی زندگی بھر کے اثاثوں کو وقف کر کے اس جہاں سے رخصت ہوئے ہیں۔ دُعا ہے ان اثاثوں کا تصرّف ان کے لئے درجات کی بلندی کا باعث بنے۔آمین یا ربّ العالمین!(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -