کتھارسس

 کتھارسس
 کتھارسس

  

چند روز قبل سابق پرنسپل سیکرٹری برائے سابق وزیراعظم، فواد حسن فواد کی جانب سے پیش کردہ شاعری نظر سے گزری تو عجیب سا احساس ہوا۔ ایک ایسا آدمی جس کے قلم سے کبھی انسانوں کی تقدیر کے فیصلے نثری تحریر کی صورت میں سرکاری فائلوں کی زینت بنا کرتے تھے، جب اپنی کہانی لکھنے بیٹھا تو منظوم الفاظ میں کبھی شکستہ دل، کبھی محبوب سے شکوہ کناں، کبھی امیر شہر سے نالاں اور کبھی طلسم خیال میں جکڑا، مجبور محض دکھائی دیا۔ حیرانیوں میں لپٹی شاعری پر مشتمل وہ اخباری صفحہ اٹھائے ہم روحانی بابا کے ہاں جا پہنچے۔ وہ مسکراتے ہوئے بولے: ”آؤ لاڈلے! لگتا ہے آج پھر کوئی مخمصہ اٹھا لائے ہو“؟  ہم نے اخباری صفحہ پیش کر دیا اور سوال عرض کیا یہ شاعری دیکھیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ شاعر کیا کہنا چاہ رہا ہے؟ اس کا مدعا کیا ہے؟ بابا جی چند لمحات شاعری کا مطالعہ کرتے رہے، پھر گویا ہوئے۔ یہ تو سیدھی سیدھی باتیں ہیں۔ ایک عام شیدا، بالا یا حنیفا بھی باآسانی جان سکتا ہے کہ شاعر کیا کہنا چاہ رہا ہے، تمہیں الجھاؤ کہاں نظر آ رہا ہے؟ ہم  نے کسمساتے ہوئے عرض کیا بابا جی یہ شاعری کسی عام آدمی سے منسوب نہیں اور نہ ہی کسی ملنگ ٹائپ شاعر کی تخلیق کردہ ہے۔ یہ تو ایک ایسے آدمی کی جانب سے اظہارِ خیال ہے جو عرصہ دراز تک وطن عزیز کا اہم ترین شخص اور سیاہ و سفید کا مالک و مختار رہا۔شاعر موصوف نے تو نہایت تابناک زندگی بسر کی، عشروں تک مقتدرہ کا اہم ترین جزو رہا۔ اس کے ارشادات کی تعمیل نہایت سرعت سے ہوا کرتی تھی۔ اب اگر زندگی نے ہلکی سی کروٹ بدلی ہے تو یہ انقلاب آفرین خیالات کن جذبات و خواہشات کا اظہار ہو سکتا ہے؟ کیا اسے حقیقی شاعر اور الفاظ کی ترتیب کو حقیقی شاعری قرار دیا جا سکتا ہے؟

ہماری جانب سے حقیقی شاعری سے لگاؤ کا اظہار جان کر بابا جی دھیمے لہجے میں مخاطب ہوئے، جانتے ہو شاعر کیا اور شاعری کیا ہوتی ہے؟ جب کوئی انسان فطرت کی تخلیق کردہ اشیاء اور لمحات سے مانوس ہونا شروع ہو جائے تو رفتہ رفتہ اسے فاعلن، فاعلات جیسی اصطلاحیں سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہیں اور جب ایسے آہنگ (ردھم) کو انسان اپنے اندر جذب کرنا شروع کر دے تو پھر آدمی کچھ ایسے ٹوٹتا ہے کہ اسے اپنی کرچیاں اکٹھی کرنا بھی محال ہو جاتا ہے۔ سچا شاعر اپنے لاشعور سے نمو پاتا ہے، کیونکہ اس کا شعور (ذہن) اسے فقط رنگ، روشنی اور مادیت کی ہی پہچان کراتا ہے۔ اپنے شعور کی نفی کرتے کرتے وہ محض زندگی کی حرارت سے غرض رکھتا ہے…… اور شعور کیا ہے وہ لاشعور کی ایک خام شکل جو مناسب اور نا مناسب تک محدود ہے، جبکہ لاشعور ایک ان دیکھی جبلت، لاشعور کی علت کے درمیان ایک خاص توازن پر مبنی ہوتا ہے۔

ان دونوں میں اگر توازن قائم رہے تو زندگی آسان فہم، مگر بظاہر مصائب کا شکار نظر آتی ہے سچا شاعر زندگی کے مصائب سے الگ رہ کر اسی توازن میں اپنا ترازو سیدھا رکھتا ہے۔ کوئی پلڑا جھکنے نہیں دیتا۔ لہٰذا اس کا احساس الفاظ کی صورت میں ایک ترنم میں ڈھل جاتا ہے، جو شاعری کہلاتا ہے۔ بابا جی کی بیان کردہ شاعری کی بیالوجی خاصی مشکل تھی۔ ہم نے ہکلاتے ہوئے پوچھا، بابا جی! ذرا وضاحت فرمائیں کہ جو شاعری ہم اٹھا لائے ہیں، آیا وہ حقیقی ہے؟ روحانی بابا مسکراتے ہوئے بولے، تمہارا یہ ممدوح شاعر دو کشتیوں کا سوار دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پاس ذخیرہئ الفاظ تو موجود ہے اور لاشعور سے بھی بے بہرہ نہیں، مگر وہ ایک مقتدر و منصف بھی رہا ہے۔ اپنے لاشعور میں چھپے خیالات کی جنت میں بھٹکتے جب اپنے شعور سے مدد حاصل کرتا ہے تو وہ حقیقی توازن کھو بیٹھتا ہے، جو شاعری کی اساس ہوتا ہے۔ ایک پلڑے میں جب وہ لاشعوری محسوسات ڈالتا ہے تو دوسرا پلڑا اوپر اُٹھ جاتا ہے۔ وہ احساس تو رکھتا ہے مگر ترازو کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کا بھی جیسے یہ شعر دیکھو:

جو یہاں سے دیکھوں تو چاند جو قریب جاؤں تو دشت ہے

یہ عجیب سی ہیں حقیقتیں ترے شہرِ حسن و جمال کی

دیگر اشعار بھی تقریباً ایسی ہی کیفیات کا اشارہ ہیں۔ کسی تلافی کے طور پر وہ اپنے اشعار میں کبھی مانندِ شمع جل اٹھتا ہے اور کبھی چشم غزلاں کی تلاش میں سرگرداں، کبھی اپنے ماضی پر حیران، کبھی حال سے شکوہ کناں، کبھی مستقبل سے دست و گریبان دکھائی دیتا ہے۔ ساتھ ساتھ اپنے زوال اور کسی کے اوج کمال پر بھی طنز کرتا نظر آتا ہے۔ بابا جی نے ذرا دیر کو آنکھیں بند کیں تو ہم نے سوال داغ دیا ”بابا جی! تقریباً سبھی شعراء کچھ ایسے ہی محسوسات سے اپنے کلام کو سجاتے ہیں بابا جنہیں آپ بھی حقیقی شاعری کے زمرے میں ڈالتے رہے ہیں۔ اس شاعری کو ہم غیر حقیقی کیونکر سمجھ سکتے ہیں؟ بابا جی ہمیں گھورتے ہوئے قدرے تلخ لہجے میں کہنے لگے، حقیقی شاعر اپنے ماحول کو جب شعوری آنکھ سے دیکھتا ہے تو اسے ہر جانب غیر حقیقی مناظر نظر آتے ہیں جو ہر لمحہ کسی فنا کی طرف سفر کر رہے ہوتے ہیں اور پھر جب اس کا لاشعور متحرک ہوتا ہے تو وہی مناظر وہی اشیاء مترنم الفاظ کے روپ میں اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہو جاتی ہیں، جیسے فیض احمد فیض کے یہ اشعار۔

کئی بار اس کا دامن بھر دیا حُسن دو عالم سے

مگر دل ہے کہ اس کی خانہ ویرانی نہیں جاتی

کئی بار اس کی خاطر ذرے ذرے کا جگر چیرا

مگر یہ چشمِ حیراں جس کی حیرانی نہیں جاتی

یہاں الفاظ کا چناؤ، ان کا آپس میں رچاؤ، آہنگ، زبان و بیان پر دسترس اور ایک حقیقی شاعری کا بھرپور تاثر موجود ہے، جو کسی دیوانگی اور فرزانگی کا ایک خوبصورت آمیزہ ہے اور پڑھنے والے کو کسی اور دنیا سے آشنائی کا ذوق عطا کرتا ہے۔ جبکہ تمہاری یہ شاعری نما الفاظ کی ترتیب کسی ایسے مادیت سے آگاہ آدمی کا فسانہئ زندگی ہے جو زندگی کو سہل بناتے بناتے فرزانگی سے دیوانگی تک چلا جاتا ہے اور پھر لمحہ بہ لمحہ بدلتی، سانس لیتی زندگی جب کبھی خود آگاہی میں داخل ہوتی ہے تو اظہار کے لئے مختلف پیرائے استعمال کرتا ہے جو کسی خاص آہنگ سے محروم فقط اپنی فرزانگی کو نمایاں کرنے کی ایک سعی ہے۔ خود آگہی کی بات کرتے کرتے اپنی شعوری علت کے با وصف وہ کسی ایسے آدمی کا تاثر دے رہا ہے جو آنکھیں رکھتے ہوئے بھی مکمل اندھیرے میں رہا اور پھر جب اس کی لاشعوری یا باطنی آنکھ کھلتی ہے تو مناظر تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں۔ اس کے قریب رہنے والے بہت دور جا چکے ہوتے ہیں، پھر کوئی احساس زیاں اس سے دامن گیر ہو جاتا ہے جیسے کوئی مسافر راستے کی خوبصورت رنگینیوں میں کھویا، کھویا کسی لق و دق صحرا میں جا نکلے۔ اب ہمیں معاملہ کچھ سمجھ آنے لگا تھا، لہٰذا بابا جی سے ایک عمومی تبصرے کی گزارش کی تو وہ کہنے لگے، وہ جو کچھ بھی کہہ رہا ہے اپنے لا شعور میں چھپے معروف شعراء کے الفاظ چن چن کر اپنے کتھارسس میں مشغول ہے اور الفاظ ہیں کہ اب ہاتھ بھی آتے ہیں تو اس سے خوب اٹھکیلیاں کرتے نظر آتے ہیں۔ میں اسے ذخیرہئ الفاظ کی رعایت دے سکتا ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -