کیا سات زمینیں ہیں۔۔۔!!!

کیا سات زمینیں ہیں۔۔۔!!!
کیا سات زمینیں ہیں۔۔۔!!!

  

تقریباََ تیس سال سے مفلوج انسان، جس پر موٹر نیورون (بیماری) کا حملہ اُس وقت ہوا جب وہ اپنی عمر کے اکیس سال گزار چُکا تھا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی سے طبیعیات میں گریجویٹ ہونے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے کیمبرج یونیورسٹی چلا گیا اور صرف 23سال کی عمر میں کیمبرج یونیورسٹی سے پی۔ایچ۔ڈی کر لی۔ اگر میں یہ کہوں کہ بیسویں صدی کے سائنس دانوں میں آئن اسٹائن کے بعد جس شخص کو سب سے زیادہ عوامی مقبولیت حاصل ہوئی ہے وہ صرف ”اسٹیفن ہاکنگ“ ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اُس کا سب سے اہم موضوع فلکی طبیعیات ہے اور عوامی حلقے میں اُس کی شہرت کا آغاز 1988ء میں ہوا جب اُس نے اپنی کتاب ”بریف ہسٹری آف ٹائم“ لکھی۔ یہ کتاب دنیا بھر میں ایک کروڑ سے زیادہ تعداد میں فروخت ہونے والی کتاب ہے اور 80سے زائد زبانوں میں اُس کے تراجم ہوچکے ہیں۔ اسٹیفین ہاکنگ کے بارے میں ایک بات بہت زیادہ مشہور ہے کہ ”اس کا ذہن ہمہ وقت کا ئناتی انتہاؤں پر محو پرواز رہتا ہے۔“ اس کے کائنات کے بارے میں نظریات بہت ہی واضح اور وسیع ہیں وہ چاہے کائنات کا پھیلنا ہو، یا کائنات کے Billionسے زیادہ سیاروں اور ستاروں کا تصور ہو، دوسری کائناتوں کا وجود ہو یا پھر Alienسے بچنے اور اُس سے محتاط رہنے کی نصیحتیں ہوں۔ مفلوج ہونے کے باوجود بھی وہ ساری زندگی کائنات کی وسعت کے بارے میں غوروفکر کرتا رہا۔

اُس کے بے شمار  لیکچرز بھی محفو ط ہیں، جن میں اُس نے کائنات کے رازوں کو منکشف کرنے کی کوشش کی ہے۔ 1981ء میں موضوع" کائنات کا آغاز اور انجام" میں اپنے لیکچر کے دوران اُس نے کہا کہ کیتھولک چرچ نے ایک بہت بڑی غلطی کی تھی، جب اس نے گیلیلیو کے مقابلے میں ایک سائنسی سوال پر قانون تشکیل دیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ سورج، زمین کے گرد چکر لگاتا ہے۔ اب تین صدیاں گزرنے کے بعد چرچ نے فیصلہ کیا ہے کہ سائنس کے بارے میں مشورہ لینے کے لئے متعلقہ ماہرین کو بلوانا زیادہ بہتر ہوگا۔ اسٹیفن ہاکنگ کا یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ آج بھی انسان کائنات کی وُسعت اور گہر ائی کے بارے میں بہت زیادہ حیران اورابہام کا شکارہے۔ اللہ پاک کی کتاب قرآن مجید ہمیں کائنات کے بارے میں بہت ہی واضح اور خوبصورت دلیلوں سے نوازتی ہے۔ قرآن پاک میں سورۃ الطلاق میں آیت نمبر 12 میں فرمایا گیا کہ ”اللہ تعالیٰ ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کیے اور ایسی ہی زمینیں۔ ان میں حکم اُترتے رہتے ہیں تاکہ تم لوگ جان لو کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے“۔ اسٹیفن ہاکنگ یا آج کے سائنس دان جیسے  Dr.Alan Guth آج چودہ سو سال بعد ہمیں بتاتے ہیں کہ بے شمار دوسری کائناتیں اور سورج کی طرح بے شمار سیارے اس کائنات کا حصہ ہیں۔  بلکہ Dr.Alan Guth تو کہتا ہے کہ ”ہماری کائنات پوری کائنات کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی نہیں ہے جس کو ہم Observable Universe کہتے ہیں“۔ بلکہ اب تک 250 سے زیادہ Galaxies دریافت ہوچکی ہیں اور ہر Galaxy میں تین سو ارب سے بھی زیادہ سورج ہیں جن میں سے ایک سورج ہمارا ہے۔ 

سائنسدانوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ساحل سمندر میں ریت کے ذرات کم ہیں مگر کائنات میں Planets،سیارے،اور سورج وغیرہ اس سے زیادہ دریافت ہو چکے ہیں۔ چودہ سو سال بعد آج موجودہ دنیا یہ نظریہ پیش کر کے فخر محسوس کرتی ہے کہ اس زمین کے علاوہ بھی بہت سی دنیائیں آبادہوسکتی ہیں، جس میں بے شمار دوسری مخلوقات Aliens کا وجود ممکن ہوسکتا ہے، جس کو قرآن چودہ سو سال پہلے بیان کر چکا ہے۔قرآن پاک دنیا کی سب سے Advancedاور Latest کتاب ہے۔ مگر اُس وقت جب آپ اس کو تحقیق، جستجو اور Researchکے انداز سے پڑھتے ہیں۔ امام ترمذی اور مسند احمد میں روایت موجود ہے جب آقاﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ زمین کے نیچے کیا ہے؟ صحابہؓ نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسولﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا کہ زمین ہے، پھر آپﷺ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اُس زمین کے نیچے کیا ہے؟ صحابہؓ نے جواب دیا کہ اللہ اور اُس کا رسولﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں، آپﷺ نے فرمایا کہ اس کے نیچے ایک اور زمین ہے۔ فرمایا کہ ان دو زمینوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے“۔ سائنس آج ہمیں Mutliverseمتعدد کائناتوں کا  Concept پیش کرتی ہے جبکہ ہماری کتاب اور ہمارے آقاومولاﷺ اُس کو سالوں پہلے ہمیں بتا چکے ہیں۔ مگر بات صرف اتنی ہے کہ ہم نے قرآن کو صرف اجروثواب کے سوا تفکرون اور تدبرون کے لئے کبھی پڑھا نہیں ہے۔۔۔!!!

مزید :

رائے -کالم -