پُراسرار سیاست

پُراسرار سیاست
پُراسرار سیاست

  

سیاست بھی اب کچھ پُراسرار ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے سیاست سامنے کی چیز ہوتی تھی، اب ملفوف شے بن گئی ہے۔ واقعہ کچھ ہوتا ہے، ڈانڈے کہیں اور ملتے ہیں۔ انتقام کی باتیں پہلے بھی ہوتی تھیں، مگر اب انتقام کے نام پر جو گل کھلائے جاتے ہیں، ان کی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتی۔ آج کل ہر دوسرا پاکستانی یہ سوال پوچھ رہا ہے کہ کراچی میں کیا واقعہ پیش آیا؟ ٹی وی چینلوں سے ایک ایک خبر دس دس بار نشر کی جا چکی ہے، مگر لوگوں کا نہ تو تجسس کم ہوا ہے اور نہ تشفی ہوئی ہے۔ مریم نواز ہر جگہ اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کا ذکر کررہی ہیں اور شفاف تحقیق کا مطالبہ بھی…… لیکن لگتا نہیں کہ اس واقعہ کی کوئی اصل حقیقت سامنے آئے…… یہ تو اچھا ہوا کہ مریم نواز اور بلاول بھٹو نے ہوٹل کے کمرے سے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری پر اپنے درمیان کوئی خلیج پیدا نہیں ہونے دی، وگرنہ سیاست کا چلن تو یہی رہا ہے کہ ایسے موقع پر الزامات اور شکوک و شبہات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مریم نواز نے گزشتہ روزبھی طلبہ کے احتجاجی کیمپ میں بیٹھ کر یہی کہا ہے کہ اس واقعہ کا مقصد اپوزیشن کے اتحاد میں دراڑ ڈالنا تھا، لیکن بلاول بھٹو نے جس طرح مجھے انتہائی غصے میں فون کرکے اس واقعہ کی سخت مذمت کی اور اس پر شرمندگی کا اظہار کیا، اس نے نادیدہ قوتوں کے سارے منصوبے ناکام بنا دیئے۔

اس وقت تک کراچی واقعہ سے متعلق جو کچھ سامنے آ چکا ہے، اس سے معاملات سمجھ میں آنے کی بجائے مزید الجھ گئے ہیں۔ ایک طرف تمام چینلوں کے ذریعے وہ سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی گئی، جس میں پولیس کی گاڑیوں کو ہوٹل میں داخل ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پھر کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری بھی پولیس وردی والے اہلکار کرتے ہیں، مگر دوسری طرف یہ حقیقت بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے کہ سندھ کے آئی جی کو گھر سے اغوا کر لیا گیا تھا، کیونکہ بقول شخصے وہ پولیس کو کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم نہیں دے رہے تھے۔ اگر واقعی ایسا تھا تو پھر پولیس کیپٹن(ر) صفدر کو گرفتار کرنے کس کے حکم پر ہوٹل پہنچی؟ اگر پولیس اپنے طور پر یہ کام کررہی تھی تو پھر آئی جی کو صبح چار بجے گھر سے اٹھانے کی ضرورت کیا تھی؟…… یا تو آئی جی کے اغوا کی کہانی فرضی ہے یا پھر جو پولیس کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنے گئی وہ پولیس نہیں، بلکہ پولیس کی وردی میں کوئی اور مخلوق تھی۔

اتنا زیادہ شورشرابہ ہونے کے باوجود نہ آئی جی نے اپنی زبان سے اس کی تردید یا تصدیق کی ہے اور نہ ہی کسی اور ذریعے سے اس بات کو جھٹلایا گیا ہے کہ آئی جی کو صبح سویرے گھر سے نہیں لے جایا گیا۔ وزراء سارا زور اس بات پر دے رہے ہیں کہ نہ تو کمرے کا تالا توڑا گیا اور نہ ہی کیپٹن (ر) صفدر پر جسمانی تشدد ہوا، مگر یہ ایشو تو اب رہا ہی نہیں …… گرفتاری عمل میں آئی اور آئی جی گھر سے غائب ہوئے……یہ دو بڑی حقیقتیں ہیں، جنہوں نے سب کو چکرا دیا ہے…… جو نکتہ ابھی تک کسی ذریعے سے بھی حل نہیں ہوا وہ اس سوال پر مبنی ہے کہ آخر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا حکم کس نے دیا؟وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں، جبکہ آئی جی سندھ زیر حراست تھے، پھر یہ کھیل کس نے کھیلا، کس نے پوری صبح ہونے کا بھی انتظار نہیں کیا اور ہوٹل کے کمرے پر دھاوا بول دیا؟

لگتا یہی ہے کہ لکھے گئے سکرپٹ کے مطابق بہت سی باتیں نہیں ہوئیں، یوں کام بگڑتا چلا گیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ فیصل واوڈا، علی زیدی اور حلیم شیخ پکار پکار کر مطالبہ کررہے تھے کہ قائداعظمؒ کے مزار پر نعرے لگوانے کے جرم میں کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے تو یہ دھمکی بھی دی تھی کہ پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا تو آئی جی کے خلاف تحریک استحقاق پیش کرکے انہیں عہدے سے ہٹوا دیں گے۔ اس سے یہ شبہ ابھرتا ہے کہ حکومتی عہدیدار یہ کوشش کر چکے تھے کہ آئی جی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیں، لیکن وہ نہ مانے…… یہ پہلی شکست تھی جو سکرپٹ میں لکھے گئے ڈرامے کو ہوئی۔ اس کے بعد آئی جی کو راہِ راست پر لانے کے لئے کانوں کو دوسری طرف سے پکڑنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوشش کس نے کی، کس کے ایماء پر ہوئی، اتنا بڑا قدم کس نے اٹھایا؟ ابھی یہ سب کچھ صیغہ راز میں ہے، تاہم سکرپٹ پر عملدرآمد کرانے کے جنون میں مبتلا قوتوں نے آئی جی کو بے بس کرکے اپنا مقصد حاصل کر لیا، مقدمہ بھی درج ہو گیا، گرفتاری بھی ہو گئی۔

اب انتظار اس بات کا تھا کہ کسی طرح مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) اپنی توپوں کا رخ کب پیپلزپارٹی کی طرف کرتی ہیں کہ اس نے سازش کرکے کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرایا، مگر یہاں بھی سکرپٹ کے مطابق نتائج نہیں نکلے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے اپنے ہوش و حواس برقرار رکھے اور حقیقت کا کھوج لگانے کی کوشش کی۔ سکرپٹ لکھنے والوں کو ایک دھچکا اس وقت بھی لگا جب سندھ پولیس کے افسران اپنے سپریم کمانڈر کی توہین پر اکٹھے ہو گئے اور انہوں نے ایسے حالات میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب یکدم سندھ حکومت، پیپلزپارٹی اور بلاول بھٹو کا پلڑا بھاری ہو گیا۔ جس طرح کا ردعمل سندھ پولیس کے افسروں نے ظاہر کیا، غالباً سکرپٹ لکھنے والے اس کی امید نہیں کر رہے تھے۔ یہاں تک آ کر واقعات رک گئے ہیں،لیکن سوالات اپنی جگہ موجود ہیں۔ نوازشریف اس واقعہ کو اپنے بیانیہ کی حمایت میں دلیل کے طور پر پیش کر رہے ہیں کہ ملک میں حکومت کے اوپر بھی ایک حکومت موجود ہے…… سیاست کا یہ رنگ پہلے کسی نے کب دیکھا تھا، اس سارے کھیل میں نقصان کس کا ہو رہا ہے؟…… کیا کوئی اس سوال کا جواب بھی دے گا؟

مزید :

رائے -کالم -