بلاول بھٹو زرداری ’گو عمران گو‘ کے نعرے کیوں لگا رہے ہیں ؟مصطفی کمال کا ایسا دعویٰ کہ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان بھی دنگ رہ جائیں

بلاول بھٹو زرداری ’گو عمران گو‘ کے نعرے کیوں لگا رہے ہیں ؟مصطفی کمال کا ایسا ...
بلاول بھٹو زرداری ’گو عمران گو‘ کے نعرے کیوں لگا رہے ہیں ؟مصطفی کمال کا ایسا دعویٰ کہ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان بھی دنگ رہ جائیں

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاک سرزمین پارٹی(پی ایس پی) کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ عجب تماشا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی کرپٹ، نااہل اور ناکام حکومت کی آڑ میں کرپٹ ترین، بد انتظام، اقربا پرور اور تعصب زدہ پیپلز پارٹی سیاسی غازی بننے کی کوشش کر رہی ہے، ملک میں جاری حالیہ مظاہروں کی قیادت کرتےہوئےبلاول بھٹو زرداری اوروزیراعلی سندھ مراد علی شاہ" گو عمران گو" کے نعرے لگا کر پیپلز پارٹی کی بدانتظامی، کرپشن، اقربا پروری اور تعصب پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں، پی ایس پی پیپلز پارٹی کو پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کے پیچھے چھپنے نہیں دے گی اور پیپلزپارٹی کی ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔

پاکستان ہاؤس میں کراچی ڈویژن کے ذمہ داران کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ جہاں ایک جانب سندھ کی عوام تحریک انصاف کی نااہل اور ناکام وفاقی حکومت سے بیزار ہیں وہیں پیپلز پارٹی کی کرپٹ اور تعصب زدہ صوبائی حکومت سے بھی نجات چاہتے ہیں،پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف، مریم نواز سمیت دیگر سیاسی رہنما اگر پیپلز پارٹی کے سندھ پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف بات نہیں کرتے تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ انکا مقصد عوام کو ظالم حکمرانوں سے نجات دلانا نہیں بلکہ صرف اقتدار کا حصول ہے۔

 سید مصطفی کمال نےکہا کہ ایک جانب پاکستان تحریک انصاف کی مکمل ناکام حکومت نے لوگوں کے گھروں کے چولہے بجھا دیئے ہیں، ملک کا دیوالیہ کر دیا ہے تو دوسری جانب سندھ میں 13 سالوں سے پیپلز پارٹی کی ظالم اور تعصب زدہ حکومت کراچی سے کشمور تک تباہی و بربادی کی ذمہ دار ہے، پیپلزپارٹی کے جرائم کی فہرست ناقابل بیان حد تک طویل ہے،صوبے میں بچوں کو کتے کاٹتے رہے، تھر میں ہزاروں بچے غذائیت کی کمی کی وجہ سے مر گئے، دیہی علاقے ترقی کر کے شہری علاقوں کے برابر کیا آتے، سندھ کے شہری علاقوں کو بھی پیپلز پارٹی نے ازلی تعصب کی بھینٹ چڑھا کر اجاڑ دیا، لوگوں کو پینے کا پانی میسر نہیں ، ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام نہیں، تعلیم اور صحت کے ادارے اقربا پروری کی نظر کردیے، میرٹ کی دھجیاں بکھیر دیں،بیروزگاری عروج پر پہنچ گئی، پیپلز پارٹی نے سندھ کو ذاتی جاگیر سمجھ کر لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق سے 10 ہزار 242 ارب روپے این ایف سی ایوارڈ کی مد میں لیکر خرچ کرنے کے باوجود سندھ میں ایک ماڈل یوسی یا درسگاہ یا ہسپتال موجود نہیں ہے، 2300 ارب روپے تعلیم کی مد میں خرچ کر دیئے، پھر بھی ستر لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں،بلدیاتی اداروں پر قبضہ کر کے انہیں مفلوج کردیا، اٹھارویں ترمیم کے نام پر عوام کو اختیارات اور وسائل سے محروم کرکہ وزیر اعلی با اختیار ہوگئے،سب سے زیادہ آمدنی کے باوجود پورے سندھ کی عوام دیگر صوبوں کے مقابلے پیپلز پارٹی کی تعصب زدہ اور کرپٹ حکومت کی وجہ سے بدترین حالات میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، جو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے متعصبانہ فیصلے کر رہے ہیں اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے اپنی جیبیں گرم کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مزید :

علاقائی -سندھ -کراچی -